شمالی کورین اورامریکی صدور کی ملاقات

شمالی کورین اورامریکی صدور کی ملاقات
شمالی کورین اورامریکی صدور کی ملاقات

  

دو روز پہلے شمالی کوریا اور امریکہ کے صدور کی جو ملاقات سنگاپور میں ہوئی وہ بہت سے تاریخی حقائق کو بے نقاب کرتی ہے۔ سب سے پہلی حقیقت جو دنیا کے سامنے کھل کر آئی وہ جوہری وار ہیڈز کی اہمیت تھی۔ اگر شمالی کوریا کے پاس جوہری بم اور بین البراعظمی میزائل نہ ہوتے تو کہاں شمالی کوریا اور کہاں امریکہ؟۔۔۔ ان دونوں ملکوں میں کوئی قدر بھی تو مشترک نہیں۔

ہاں ایک بات جو مشترک ہے وہ موت کا خوف ہے! امریکہ کو معلوم ہے کہ وہ دنیا کی واحد سپریم پاور ضرور ہے، اس کے مال و زر کی انتہا بھی نہیں، وہ نہ صرف روئے زمین پر بلکہ خلاؤں پر بھی حکمرانی کرنے کا دعویٰ کرسکتی ہے، دنیا کے جس کونے میں چاہے چند گھنٹوں کے اندر اندر اپنی فوج کے بوٹ اتار سکتی ہے اور کسی بھی جگہ، ٹام ہاک وغیرہ جیسے میزائلوں کی بارش کرسکتی ہے۔ یہ پاور چاند پراپنے بوٹ پہنچا چکی ہے اور اب دوسرے سیاروں میں بستیاں بسانے کا پروگرام رکھتی ہے۔

دنیا کے تینوں سمندروں میں آج اس کی بحری قوت کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں، اس کے پاس جوہری وارہیڈز اور میزائلوں کے انبار ہیں جن سے امریکہ سارے سنسار کوراکھ کا ڈھیر بنا سکتا ہے(لیکن ساتھ ہی خود بھی راکھ ہو سکتا ہے) الغرض کون سی ہلاکت انگیزی ہے جو اس کی دسترس میں نہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے آخری ہفتوں میں اس نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹمی حملہ کرکے یہ بھی ثابت کر دیا تھا کہ اس کے حکمرانوں کے سینے میں دِل نہیں، پتھر دھرے ہوئے ہیں!

لیکن ان تمام حقائقِ ثابتہ کے باوجود بھی اگر وہ کسی ایک چیز سے لرزتا ہے تو وہ ’’خوفِ مرگ‘‘ ہے۔ دوسروں پر ملک الموت کے لشکروں کی یلغار کرنے والے کو جب اس امر کا احساس ہوا ہے اس کی مین لینڈ بھی خاک و خون میں نہلائی جاسکتی ہے تو اس کا سارا تکبرّ اور سارا غرور لرزہ براندام ہورہا ہے۔

جب امریکہ یہ دیکھتا ہے کہ دنیا کے کئی جوہری ممالک، اس کی مین لینڈ پر جوہری یلغار کرسکنے کے اہل ہو کر بھی یہ اقدام نہیں کریں گے تو وہ ان کی طرف سے گویا ہر خطرے سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔

روس، برطانیہ، چین، فرانس، اسرائیل،شمالی کوریا، انڈیا، پاکستان اور اسرائیل کے پاس نہ صرف جوہری بم ہیں بلکہ ان کو امریکہ تک پھینکنے والے ڈلیوری سسٹم بھی موجود ہیں۔

ان نو ممالک میں سے شمالی کوریا، روس، چین اور پاکستان چار ایسی نیو کلیئر ریاستیں ہیں جو امریکہ پر بوجوہ نیو کلیئر اٹیک کرسکتی ہیں۔ لیکن ایک بات جو شمالی کوریا کے علاوہ باقی ریاستوں کو ایسا کرنے سے روکتی ہے، وہ باہمی خودکشی کا تصور ہے۔ عصر حاضر کی ترقی اور خوشحالی خواہ وہ کسی پیمانے کی بھی ہو ان جوہری طاقتوں کو نیو کلیئر روبی کان عبور کرنے سے منع کرتی ہے۔۔۔۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شمالی کوریا وہ واحد ملک ہے جس نے ترقی و تعمیر کی ساری منزلوں کو چھوڑ کر صرف ایک منزل پر اپنا سارا زورِ ایجاد صرف کردیا ہے۔ کم جونگ کے دادا اور والد بھی اسی ڈاکٹرین کے مقلدّ تھے ۔کم جونگ خود بھی اسی عقیدے پر یقین رکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ تہذیبوں کے آئینے چونکہ بہت نازک ہوتے ہیں، اس لئے وہ خود کو اور اپنے ملک کے عوام کو آگ میں نہیں جھونک سکتیں۔

دوسری جنگ عظیم کی تاریخ کے ایک نامور مورخ کا نام لڈل ہارٹ ہے۔ ان کا ایک حربی تجزیہ بڑا فکر انگیز اور دلچسپ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ میں اگر 1941ء میں روس بھی باقی یورپی ممالک کی طرح اسی معیار کی ترقی و تعمیر کی چکاچوند کا حامل ہوتا جیسے دوسرے یورپی اور ایشیائی ممالک تھے تو وہ بھی ہٹلر کے سامنے ڈھیر ہو جاتا۔

22جون1941ء کوہٹلر نے روس پر جو حملہ کیا اور تاریخ جسے ’’آپریشن بار بردسہ‘‘ کے نام سے جانتی ہے وہ اس لئے ناکام ہوا کہ روس کی سڑکیں، کچی، ٹوٹی پھوٹی اور ناہموار تھیں،اس کی شہری آبادیوں میں جدید مواصلاتی انفراسٹرکچر کی ترقی ناپید تھی، لوگوں کا رہن سہن اور تہذیبی معیار اُجڈ اور گنوارانا تھا اس لئے جب جرمن افواج کی جدید وار مشینری نے روسی شہروں اور قصبوں کا رخ کیا تو اس مشینری کا پہیہ قدم قدم پر جام ہونے لگا۔ روسی آبادیوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے کا اتنا زیادہ رنج نہ ہوا جتنا فرانس، پولینڈ اور یورپ کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی آبادیوں کو ہوا تھا۔۔۔ بالکل یہی حال شمالی کوریا کا بھی تھا (اور آج بھی ہے)۔۔۔ اس کی پس ماندگی اس کی محافظ اور امریکہ کی جدید ترین ترقی اس کی ’’کمزوری ‘‘ ہے!

شمالی کوریا کی عصرِ حاضر کی تاریخ لکھی جائے گی تو مورخ کو17ویں اور18ویں صدی کے تہذیبی اور سماجی معیاروں کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ شہری سہولتوں کا جو فقدان شمالی کوریا میں ہے وہ افریقی ممالک میں بھی شاذ ہی دیکھنے کو ملے گا۔ لیکن اس کے حکمرانوں نے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کو جس طرح سینے سے لگایا اور اس کا پالن کیا وہ ایک چشم کشا حقیقت ہے۔۔۔۔ امریکہ اس وقت تک شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ایک ڈھکوسلا ہی قرار دیتا رہا جب تک اُس نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا کہ شمالی کورین میزائل امریکی سرزمین پر کسی بھی جگہ گرائے جا سکتے ہیں ۔ شمالی کوریا کو اپنی تباہی کی فکر نہیں کہ اس کی اپنی پس ماندگی اور غربت و افلاس دورِ حاضر کے پیمانوں سے ماپیں تو ’’بے مثال اور بے نظیر‘‘ ہے۔۔۔۔ وہ تو صرف اپنے دشمن کا دشمن ہے!

جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے ان کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ شمالی کوریا جیسا بے خانماں اور بے سرو ساماں ملک بھی ان کے مدّمقابل کھڑا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ پہلے پہل تو وہ شمالی کورین صدر کم جونگ کا مذاق اڑاتے رہے۔

تحقیر و تذلیل کا کوئی پہلو ایسا نہ تھا جس کی نسبت کم جنگ سے نہ دی گئی، مگر وہ ’’پپو نما‘‘ شخص ایسا ’’ڈھیٹ‘‘ ثابت ہوا کہ ٹرمپ کو اپنا تھوکا چاٹنا پڑا۔۔۔ ذرا یاد کیجئے زیادہ مدت نہیں گزری ٹرمپ نے کم جونگ کو کن کن حقارتی ناموں سے ’’متصف‘ ‘ نہیں کیا۔

کم جونگ کی عمر36 برس ہے اور ٹرمپ72برس کے ہو چلے ہیں۔ لیکن امریکی صدر سے آدھی عمر والا یہ شخص جس کو ٹرمپ نے کبھی ٹھنگنا کہا اور کبھی موٹو کہہ کر پکارا، پرسوں (12جون کو) نو بجے صبح سنگاپور میں دُنیا کے طاقتور ترین شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کراس سے ہاتھ ملا رہا تھا اور صحافی برادری حیران تھی کہ وہ جس بدنامِ زمانہ شخص کو پیتل بھری پرات سمجھتی تھی وہ سر سے پاؤں تک کندن کا تھال تھا!

کم جونگ کے بارے میں امریکی قوم اور امریکی صدر کا اچانک تبدیل ہونے والایہ رویہ امریکیوں کو ناقابلِ یقین حد تک ناقابلِ اعتبار و اعتماد قوم بناتا ہے۔ اسی لئے تو ایک ایرانی وزیر نے تبصرہ کیا ہے کہ دیکھیں ڈونلڈ ٹرمپ واپس امریکہ پہنچ کر اس معاہدے پر قائم رہتا ہے یا اسے منسوخ کر دیتا ہے!۔۔۔ دو دن پہلے تک جو شخص موردِ لعن و طعن تھا وہ آج سراپا محترم بن گیا تھا۔۔۔۔

مَیں12جون کو صبح چھ سات بجے سے لے کر شام تک گاہے گاہے مختلف غیر ملکی چینلوں کو دیکھتا رہا اور مختلف پرنٹ میڈیا ہاؤسز کے اندر بھی جھانکتا رہا (انٹرنیٹ نے یہ کام کتنا آسان بنا دیا ہے!) سنگاپور کا ٹائم ہم سے تین گھنٹے آگے ہے۔

جب پاکستان میں صبح کے 8بج رہے تھے تو وہاں سنگاپور میں 11بجے دوپہر کا وقت ہو چلا تھا۔صحافیوں کی پوری بٹالین حسبِ معمول ٹرمپ کے ہمراہ تھی، جنوبی کوریا سے بھی کافی مقتدر لوگ آئے ہوئے تھے اور سنگاپور جو ملائیشیا کے انتہائی جنوب میں ایک جدید شہر اور بندرگاہ ہے وہ سارے گلوبل میڈیا کا مرکز بنا ہوا تھا۔

بار بار دکھایا اور بتایا جا رہا تھا کہ ٹرمپ اور کم جونگ کا مصافحہ ایک ’’تاریخی مصافحہ‘‘ ہے۔یہ ملاقات پون گھنٹے کی تھی۔ لیکن مغربی میڈیا پر بار بار جو خبریں آ رہی تھیں وہ عجیب و غریب اور معنی خیز تھیں۔۔۔۔ مثلاً یہ دیکھئے:

(1) ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان بعض رکاوٹیں حائل رہیں جو اب نہیں ہوں گی۔

(2) 1953ء میں کوریا وار کے خاتمے پر جو عارضی صلح نامہ(Armistice) لکھا گیا تھا اس کی جگہ اب ایک مستقل معاہدہ (Treaty) تحریر کیا جائے گا۔

(3) پرانے تعصبات کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔

(4) ٹرمپ چاہتے ہیں کہ شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کر دے۔یہ ضمانت ’’مکمل اور ناقابلِ تبدّل‘‘ (Complete and irreversible) ہونی چاہیے۔

(5) شمالی کوریا کے اس دو ٹوک اعلان کے بعدہی فیصلہ کیا جائے گا کہ امریکہ، شمالی کوریا کو کیا،کس قسم اور کس حجم کی امداد دے گا۔

لیکن قارئین گرامی! جس ملاقات کا کئی روز سے چرچا کیا جا رہا تھا اور جس پر مغرب کا میڈیا دن رات تبصرے اور ٹاک شوز منعقد کرتا رہا تھا اور اخبارات میں دھڑا دھڑ کالم لکھے جا رہے تھے اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ:’’دونوں فریقوں کی اس اعلامیے کی صورت میں ملاقات کومثبت اور اچھی (Positive and Good) قرار دیا گیا اور بس۔۔۔۔ یعنی کھودا پہاڑ،نکلا چوہا۔۔۔۔ کہا جارہا ہے کہ اس ون آن ون ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وزراء اور عمائدین اگلے قدم کے طور پر تفصیلی ملاقاتیں اور کانفرنسیں کریں گے۔۔۔ لیکن کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک۔۔۔؟

کم جونگ اور ٹرمپ کی اس ملاقات کے تناظر میں جن دو ممالک کو اپنے دفاعی، خارجہ اور داخلہ امور پر ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لینا ہو گا، وہ ایران اور پاکستان ہیں۔۔۔۔ پاکستان نے اِس ملاقات کا خیر مقدم کیا ہے۔

اور ٹھیک کیا ہے۔۔۔ لیکن ایران کو شمالی کوریا کی اس کامیابی کے بعد اپنے جوہروی پروگرام کی اہمیت کو زیادہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھانا ہو گا۔(آثار تو یہی ہیں کہ ایران اس پر عمل پیرا ہے) ایران کو چاہئے کہ وہ بم سازی کی سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھے اور ساتھ میں بلاسٹک میزائل ٹیکنالوجی کو بھی شمالی کوریا کی تقلید کرتے ہوئے ڈویلپ کرنے میں دیر نہ لگائے۔۔۔۔ جس روز ایران نے کامیاب ایٹمی تجربہ کر لیا، وہ دن مشرق وسطیٰ میں ایک نئی ،مبارک اور تاریخی صبح ہو گی!

پاکستان توماشاء اللہ دونوں محاذوں پر کامیابیاں حاصل کر چکا ہے اس کے پاس بم بھی ہیں اور میزائل بھی۔ اور یہ جو ففتھ جنریشن وار فیئراور ہائی برڈوار کا چرچا ان دِنوں زوروں پر ہے، اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔

پچھلے دِنوں چین نے پاکستان کی علاقائی سلامتی کی ضمانت کا جو ڈرم بجادیا ہے کیا وہ ففتھ جنریشن وار فیئر کی ٹُھک ٹُھک کا خاطر خواہ جواب نہیں؟پاکستان کے اقتصادی، سیاسی اور اندرونی مسائل کو بعض حلقوں کی طرف سے جس طرح ہوّا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے وہ سب کھوکھلے ڈراوے ہیں۔۔۔۔ آج نہیں تو کل اس کا ثبوت مل جائے گا!

مزید : رائے /کالم