وہ عبوری افسران جو انتخابات میں یہ کام کرکے دکھائیں گے ....

وہ عبوری افسران جو انتخابات میں یہ کام کرکے دکھائیں گے ....
وہ عبوری افسران جو انتخابات میں یہ کام کرکے دکھائیں گے ....

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں تو عبوری حکومت کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔وہاں عام انتخابات کے اعلان کے بعد تمام اختیارات الیکشن کمیشن کے پاس چلے جاتے ہیں اور حکومتیں آئینی اور قانونی طور پر بے اثر ہو جاتی ہیں۔اس کے بعد الیکشن کمیشن انتظامی افسران کے ذریعے تمام امور چلاتا ہے۔بھارت کے الیکشن میں اب تک بہت کم کسی منظم دھاندلی کے معاملات سامنے آئے ہیں اور وہاں ساری جماعتیں اپنے اس سسٹم پر یقین رکھتی ہیں۔ اس بار ہمارے ملک میں بھی الیکشن کمیشن نے بابر یعقوب کی سربراہی میں مثالی تیاریاں کی ہیں۔بہرحال اب تک کے آثار بتا رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن عوامی خواہشات کے مطابق انکے ووٹوں سے منتخب آئیندہ حکومت لانے کے لئے بڑے احسن اقدامات اٹھا رہا ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ شفاف نتائج کے بعد ایسی حکومت معرض وجود میں آئے گی جسکی نہ صرف عمارت حسیں ہوگی بلکہ وہ اس ملک کے عوام کو کم از کم امن و امان ،آزادی، صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات تو فراہم کر سکے۔

ملکی تاریخ میں ہمارے ہاں بھی پہلی بار ایک مضبوط ،خود مختار اور تمام انتظامی اختیارات سے لیس الیکشن کمیشن اپنا کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔مجھ سمیت پاکستانی عوام کو اس الیکشن کمیشن سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔مجھے ذاتی طور پر الیکشن کمیشن کے موجودہ سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمد سے بہت امیدیں ہیں کہ وہ پاکستانی عوام کو مایوس نہیں کریں گے اور ایسے الیکشن اور ان کے نتائج سامنے لائیں گے جنکی شفافیت پر کوئی انگلی اٹھا نہیں سکے گا۔

بابر یعقوب سول سروس کے اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جو ہر سیاسی دور میں اپنی غیر جانبدارانہ انفرادیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ وہ اپنے فیصلوں میں کبھی کسی سفارش یا دو ستی کو آڑے نہیں آنے دیتے۔ الیکشن کمیشن کی یہ پرائم ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا شفاف نظام بنائے جس کے تحت انتخابات کے نتائج کی بروقت تکمیل ،ترسیل اور چھپائی کو یقینی بنایا جاسکے۔عام انتخابات کے اعلان کے بعد تو تمام معاملات کی نگرانی براہ راست الیکشن کمیشن کا ہی ذمہ ہے۔ وہ کسی وقت بھی تمام انتظامی مشینری کو طلب کر کے فیئر اینڈ فری الیکشن کی راہ میں سمجھی جانے والی کسی بھی رکاوٹ کے ہٹانے کےلئے حکمنامہ جاری کر سکتا ہے۔اس سلسلے میں وہ عدلیہ کی راہنمائی اور پاک فوج کی مدد حاصل کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔

نگران وفاقی کابینہ کی طرف سے چاروں صوبوں میں نئے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز تعینات کر دئے گئے ہیں۔نئے تعینات ہونے والے یہ انتظامی اور پولیس افسر بڑے نیک نام اور غیر جانبدار ہیں۔ظاہر ہے کہ ان ناموں کی تیاری میں الیکشن کمیشن نے بڑی محنت کی ہے۔ میرے خیال میں عبوری حکومتوں کی بجائے الیکشن میں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔چاروں چیف سیکرٹریز بڑے سیزنڈ اور اپ رائٹ افسر ہیں۔آپ ان آٹھوں افسروں کو لے لیں تو پنجاب میں اکبر حسین درانی اور کلیم امام،کے پی میں نوید کامران بلوچ اور محمد طاہر،سندھ میں میجر اعظم سلیمان خان اور امجد جاوید سلیمی جبکہ بلوچستان میں ڈاکٹر اختر نذیر اور محسن بٹ کو بالترتیب چیف سیکرٹری اور آئی جی لگایا گیا ہے۔ان افسروں پر شائد ہی کوئی ادارہ یا جماعت انگلی اٹھا سکے۔

الیکشن کمیشن کے بعد یہ وہ آٹھ افسران ہیں جنہوں نے مجموعی طوراس ملک کے عوام کو اپنے آئیندہ نمائیندے منتخب کرنے کےلئے خوف و ہراس سے آزاد فضا مہیا کرنی ہے۔مجھے امید ہے کہ یہ سارے افسران اپنا نام سنہری حروف میں لکھانا پسند کریں گے۔میجر اعظم سلیمان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پنجاب جیسے اہم صوبے میں مثالی کام کیا ہے ۔ایک سابق فوجی ہونے کے ناطے انہوں نے سول حکومت اور پاک فوج کے درمیان رابطے اور پل کا اہم کردار بھی ادا کیا۔وہ اچھی انتطامی صلاحیتوں کے حامل افسر ہیں ۔وہ یقینی طور پر سندھ کے موجودہ حالات میں بہترین انتخاب ہیں ،امجد جاوید سلیمی نے پنجاب میں ان کے ساتھ کام کیا ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ دونوں کی جوڑی اچھا کام کرے گی۔میجر اعظم نے اس سے پہلے سندھ میں کام نہیں کیا اس لئے انکی غیر جانبداری پر بھی کوئی حرف نہیں۔پنجاب میں لگائے جانے والے دونوں افسر بھی اسی سٹائل کے ہیں۔بلوچستان میں اس صوبے کے ماحول کے مطابق ایک انتہائی سادہ طبیعت اور ایسے مثالی غیر جانبدار افسر ڈاکٹر اختر نذیر کو لگایا گیا ہے جو اپنے کسی رشتہ دار کی بھی سفارش نہیں سنتے۔کے پی میں محمد طاہر جیسے اعلیٰ پروفیشنل پولیس افسر کو آئی جی لگایا گیا ہے جس کے لئے پنجاب کے نیک پولیس افسران کی دعا تھی کہ وہ پنجاب میں آئی جی لگا دیے جائیں مگر انہوں نے طویل عرصہ پنجاب میں کام کیا تھا اس لئے ان کا کے پی کے جانا بہتر ہے اور پنجاب کو ان جیسا پولیس افسر ہی دیا گیا ہے۔

..

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ