عمران خان نے ائر پورٹ سے کسی کو کال نہیں کی بلکہ میں نے ایف آئی اے والوں سے پوچھا کہ بلیک لسٹ کا طریقہ کار کیا ہے :زلفی بخاری

عمران خان نے ائر پورٹ سے کسی کو کال نہیں کی بلکہ میں نے ایف آئی اے والوں سے ...
عمران خان نے ائر پورٹ سے کسی کو کال نہیں کی بلکہ میں نے ایف آئی اے والوں سے پوچھا کہ بلیک لسٹ کا طریقہ کار کیا ہے :زلفی بخاری

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)عمران خان کے دیرینہ دوست زلفی بخاری نے کہا ہے کہ ائر پورٹ سے عمران خان نے کسی کو کال نہیں کی بلکہ میں نےایف آئی اے  کے بندوں سے پوچھا کہ اس کا طریقہ کار کیاہے اور مجھے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا اور میں کیسے سفر کر سکتاہوں اور مجھے کیوں ڈالا گیا ہے اس لسٹ میں ؟ جہانگیر خان اورمیں عمران خان کو مالی امداد نہیں دیتے بلکہ پارٹی اور نظریات کو سپورٹ کرتے ہیں۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”آن دا فرنٹ “ میں گفتگو کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ ہم ائر پورٹ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایف آئی اے کا ایک بندہ آیا کہ آپ کا نام بلیک لسٹ میں ہے جس پر ہم نے پتہ کیا لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ انہوں نے کہا بلیک لسٹ ایک قانون تھا جو غیر ملکی صحافیوں کو ملک میں داخل ہونے سے رو کنے کیلئے بنایا گیا تھا۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ائیرپورٹ پر کسی کو کوئی فون کال نہیں کی بلکہ میں نے ایف آئی اے اہلکاروں سے پوچھا کہ میں کس وجہ سے بلیک لسٹ ہوں ؟مجھے تو پتہ نہیں ہے  جس پر انہوں نے کہا کہ آپ وزارت داخلہ کے نام درخواست لکھ دیں جو میں نے لکھی اور ایک قانونی طریقے سے میر ا معاملہ کلیئر ہو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ میر ے خلاف ایک نیب کی جنرل انکوائر ی ہے کیونکہ میری چھ آف شور کمپنیاں تھیں جس کے حوالے سے پانامہ میں میرا نام آیا اور اس حوالے سے میں نے نیب کو جواب بھی دیا ہو ا ہے۔زلفی بخاری نے کہا کہ میں پاکستان میں 10مرتبہ آ اور جا چکا ہوں لیکن اچانک مجھے بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا، اس لئے ایف آئی اے سے پوچھا جائے کہ میرا نام بلیک لسٹ میں کیوں ڈالا گیا؟۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ میں چار سو سے زائد پاکستانیوں کے نام ہیں لیکن مجھے بتایا جائے کہ ان سب میں سے میر ا نام کیوں بلیک لسٹ میں ڈالا گیا؟۔انہوں نے کہا کہ عمران خان مجھ پر بہت زیادہ اعتماد کرتے ہیں لیکن میری وجہ سے عمران خان پر تنقید ہوئی ہے ،اس کا مجھے بہت دکھ ہے،میں ذاتی طور پر عمران خان سے بہت زیادہ متاثر ہوں،عمران خان کو مجھ سے مشورے لینے کی ضرورت نہیں ہے ،ان کے پاس بہت زیادہ تجربہ ہے اور وہ ایک کامیاب انسان ہیں،میرے وہ صرف دوست ہیں۔مالی طور پر مدد کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بالکل غلط ہے،عمران خان کو جتنی فنڈنگ باہر سے آتی ہے کسی اور کو نہیں آتی ۔

ان کا کہناتھا کہ جہانگیر خان اور میں عمران خان کو سپورٹ نہیں کرتے بلکہ ان کی پارٹی اور نظریات کو سپورٹ کرتے ہیں۔ریحام خان کی جانب سے عمران خان پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے سوال پر زلفی بخاری نے کہا کہ میں ان الزامات پر ریحام خان کو قانونی نوٹس بھیج چکا ہوں،اس کی کتاب پڑھنے کے قابل ہی نہیں ہے ،جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے،ریحام خان کی کوئی حیثیت ہے ہی نہیں تھی اور جو کچھ انہوں نے عمران خان کی سابقہ بیوی کے طور پر حیثیت بنائی ہوئی تھی وہ بھی اب ختم ہوگئی ہے اور ان کو سوائے انڈین میڈیا کے کوئی سننے کو تیار ہی نہیں ہے ۔

مزید : قومی /اہم خبریں