ٹیکس جمع کرنے کے لئے ”انقلابی اقدامات“

ٹیکس جمع کرنے کے لئے ”انقلابی اقدامات“

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ نئے بجٹ میں نان فائیلرز کا تصور ختم کر رہے ہیں اور نان فائیلر جب گاڑی اور جائیداد خریدے گا،تو ازخود فائیلر بن جائے گا اور اُسے 45دن میں ریٹرن فائل کرنا ہو گی،ٹیکسٹائل سیکٹر1200 ارب کا کپڑا بیچ کر صرف آٹھ ارب ٹیکس دیتا ہے، اُنہیں کاروبار کرنا ہے تو ٹیکس دیں، معاشی اہداف کے حصول کے لئے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا پڑا تو کریں گے،کسی کو ٹیکس چھوٹ نہیں دی جائے گی،صوبوں کو60فیصد دے کر وفاق پہلے دن ہی خسارے میں چلا جاتا ہے،3000 ارب روپے قرضوں کے سود میں دینے پڑتے ہیں، چیئرمین ایف بی آر شبرّ زیدی نے کہا ہے کہ ٹیکس امیر سے لیں گے، انقلابی اقدامات سے5555 ارب کا ٹیکس ہدف پورا کر کے دکھائیں گے،جو اُمرا ٹیکس نہیں دے رہے اُن کی آمدن اور اثاثوں کے شواہد موجود ہیں، وہ اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ بریفنگ سے خطاب کر رہے تھے۔

بجٹ میں ٹیکس جمع کرنے کے لئے جو ہدف رکھا گیا ہے اُسے پورا کرنے کے لئے چیئرمین ایف بی آر نے ”انقلابی اقدامات“ کی نوید سنائی ہے،ان کی نوعیت کیا ہے یہ تو انہوں نے نہیں بتایا۔ البتہ ”انقلابی“ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کچھ ایسے غیر معمولی اقدامات ہوں گے، جو اب تک آزمائے نہیں گئے، سابق حکومتوں نے بھی اپنے اپنے ادوار میں ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لئے بہت سے اقدامات کئے تھے،لیکن بدقسمتی بھی انقلابات کے ساتھ ساتھ ہی چلتی ہے اور کوششوں کے باوجود بہت سے انقلابی بھی ناکام ثابت ہوتے ہیں اور کئی انقلابات بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے۔البتہ ہماری دُعا ہے کہ اب کی بار حکومت کے انقلابی اقدامات کامیاب ہو جائیں،کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو ناکامی کا ملبہ نہ جانے کن لوگوں پر پڑے۔

پہلے چیئرمین تو ”پکی نوکریوں“ والے تھے یہاں نہ سہی، وہاں سہی، موجودہ چیئرمین ایف بی آر تو دو سال کی کنٹریکٹ ملازمت پر ہیں۔ وہ اگر ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے تو شاید ملازمت چھوڑ کر واپس اپنی کمپنی میں چلے جائیں گے،جہاں وہ ایک بار پھر لوگوں کو ٹیکس بچانے کے تیر بہدف نسخے بتایا کریں گے،ٹیکس کا جو ہدف موجودہ بجٹ میں رکھا گیا ہے وہ رواں سال کے بجٹ سے39فیصد زیادہ ہے۔ رواں سال بھی ہدف حاصل نہیں ہو سکا، اقتصادی ماہرین تو ٹیکس ہدف زیادہ قرار دے رہے ہیں، خود پنجاب کے مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ ہدف مشکل ہے ناممکن نہیں، ظاہر ہے یہ ہدف حاصل اُسی صورت ہو گا جب اُن نیک عزائم پر صدِق دِلی سے عمل ہو گا، جن کے ذریعے ٹیکس حاصل ہو سکے، اس کا دوسرے الفاظ میں مطلب یہ بھی ہے کہ اگلے پورے مالی سال میں ٹیکس لینے والوں اور دینے والوں کے درمیان ایک ریس لگی رہے گی، دیکھیں یہ ریس بالآخر سال کے اختتام پر کون جیتتا ہے۔

اگرچہ حکومت نے ارادہ تو یہی ظاہر کیا ہے کہ ٹیکس امیروں سے لیا جائے گا،لیکن شاید بے دھیانی میں بہت سے ایسے ٹیکس بھی لگا دیئے گئے ہیں،جن سے امیروں کا تو کچھ نہیں بگڑتا۔البتہ غریبوں کے لئے جسم و جاں کا رشتہ دار برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، بجٹ میں جو ٹیکس تجاویز رکھی گئی ہیں ان پر عمل تو اُس وقت ہو گا جب بجٹ منظور ہو جائے گا، اور یکم جولائی سے اس کا نفاذ ہو گا،لیکن جو اشیا بجٹ پیش کرنے کے اگلے روز ہی مہنگی ہو گئی ہیں اُن پر ایک نظر ڈالنے ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ بجٹ غریبوں کو تو متاثر کرنا شروع ہو گیا ہے، امیروں کی باری کہیں بعد میں آئے گی، گھی، خوردنی تیل،چینی، چکن، سبزیوں، وغیرہ کی ایک طویل فہرست ہے، جس سے اس دلیل میں وزن پیدا ہوتا ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ صوبوں کو 60فیصد محصولات ادا کرنے کے بعد بجٹ پہلے ہی دن خسارے میں چلا جاتا ہے، یہ بات حکومت کے بہت سے وزیر اور خود وزیراعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں غالباً وہ کہنا تو یہ چاہتے ہیں کہ وفاق جو ٹیکس جمع کرتا ہے اس میں سے بڑا حصہ صوبے لے جاتے ہیں،لیکن یہ صوبے بھی تو اسی ملک کا حصہ ہیں اور صوبوں کو ملا کر ہی پاکستان کا وفاق تشکیل پاتا ہے،اِس لئے اگر صوبوں کو حصہ دینے سے وفاق کے محصولات کم ہو جاتے ہیں تو صوبوں کی حکومتوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کر لینا چاہئے، اور صوبوں کو بھی آمدنی بڑھانے کے لئے ”انقلابی اقدامات“ کا راستہ دکھانا چاہئے۔ اس گفتگو سے تو یہ تاثر بنتا ہے کہ صوبے وفاق سے کوئی خیرات مانگتے ہیں جو وفاق کو طوعاً و کرہاً دینا پڑتی ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے مسئلے کا ایسا حل نکلنا چاہئے کہ نہ وفاق کو شکایت ہو اور نہ صوبوں کو، لیکن ہمارے خیال میں مسئلہ سارا یہ ہے کہ ٹیکسوں سے رقم کم جمع ہوتی ہے اور جب یہ رقم تقسیم ہوتی ہے تو باقی کچھ نہیں بچتا،اس کا حل یہ ہے کہ ٹیکسوں کی آمدنی کا ہدف مزید بڑھایا جائے اور کم از کم دوگنا کیا جائے،اگر یہ نہیں ہو سکتا تو غیر ضروری اخراجات کم کئے جائیں، نمائشی نہیں حقیقی، گائے بھینسیں فروخت کرنے کی بجائے حکومت چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے، اور ایسا بھی نہیں ہو سکتا تو پھر یہ رونا دھونا اسی طرح جاری رہے گا، اس کا کوئی علاج نہیں۔

حکومت نے ٹیکس جمع کرنے کا جو ہدف رکھا ہے وہ اگرچہ بہت زیادہ ہے تاہم مشیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کی کوششوں سے اگر یہ حاصل ہو جاتا ہے تو اس میں سے3000 ارب تو قرضوں کے سود پر خرچ ہو جائے گا۔ گزشتہ برس یہ سود1700ارب تھا جو ہر سال بڑھ رہا ہے، موجودہ حکومت نے بھی اپنے ان دس ماہ میں ریکارڈ قرضے لئے ہیں اور آئندہ بھی لینے کا ارادہ رکھتی ہے،اِس لئے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ٹیکس ریونیو کی آدھے سے زیادہ رقم اگر محض قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جائے گی تو باقی کیا بچے گا، جس سے ملک کی ضروریات پوری کی جائیں،اِس لئے فوری اہمیت کی بات تو یہ ہے کہ حکومت نان ٹیکس ریونیو کے حصول پر بھی توجہ دے اور معیشت میں ایسی اصلاحات لائے کہ سرکاری ادارے جو معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں نہ صرف اپنا بوجھ خود اٹھائیں،بلکہ حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ کریں۔ پی آئی اے، ریلوے، سٹیل ملز اور اسی طرح کے بڑے بڑے ادارے حکومت کو سہارا دے سکتے تھے، لیکن بدقسمتی سے یہ حکومت اور معیشت دونوں پر بوجھ بن گئے، ان اداروں کی تباہی کی ایک تاریخ ہے اور یہ تباہی جلی عنوان کے تحت ان کی پیشانی پر لکھی ہوئی ہے، ان کالموں میں اتنی گنجائش نہیں کہ تباہی کی داستان کی جزیات کا جائزہ لیا جائے،لیکن حکومت اگر معلوم کر لے اور ان کی روشنی میں اصلاحِ احوال کے سفر پر چل کھڑی ہو تو قوم و ملک کا بھلا ہو گا،لیکن بدقسمتی ہے کہ ان تباہ شدہ اداروں کے ملبے پر بھی سیاست کی جا رہی ہے۔اگر بہتری کی کوئی تجویز آتی ہے تو ساتھ ہی وہ مخالفین بھی نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ جن کا ”وظیفہ“ بند ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اربوں روپے ڈکارنے کے باوجود یہ ادارے ابھی تک ”ہل من مزید“ کے راستے پر گامزن ہیں ایسے میں آئندہ چند برس بعد تو قرضوں کا سود ادا کرنا بھی محال ہو جائے گا اس لئے انقلابی اقدامات صرف ٹیکس کولیکشن میں نہیں،ہر شعبے میں کئے جائیں تو مسائل حل ہوں گے ورنہ ان میں اضافہ ہی ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ