جرائم کی شرح اور سیف سٹی پروگرام!

جرائم کی شرح اور سیف سٹی پروگرام!

معاصر کی اطلاع کے مطابق پاکستان کے دل اور پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جرائم کی شرح میں دوگنا اضافہ ہو گیا اور گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 6400سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہوئے۔ یہ تقابل اگر 2017ء کے ان پانچ ماہ سے کیا جائے تو تب 3600مقدمات درج ہوئے (جو درج نہیں ہوتے وہ الگ ہیں) معاصر نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ اضافہ سیف سٹی پروگرام کی تنصیب اور اس کے شروع ہونے کے باوجود ہے، حالانکہ سولہ ارب روپے کی خطیر رقم سے بنائے جانے والے اس پروگرام کے تحت شہر میں 8ہزار کیمروں کی تنصیب کا دعویٰ بھی ہے۔جہاں تک سیف سٹی پروگرام کا تعلق ہے تو اصل منصوبے کے مطابق اس نظام کو ڈولفن، ایلیٹ فورس اور پیرو جیسی انسداد جرائم فورسز سے براہ راست منسلک ہونا تھا اور توسیع کے بعد پورے ضلع میں 40ہزار سے زائد کیمرے لگنا تھے اور شہر میں آٹھ آپریشن روم بھی بننا تھے۔یوں یہ جدید نظام ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہوتا لیکن جلد افتتاح ہو گیا اب مزید بہتری نہیں آ رہی اور سیف سٹی جرائم میں معاون ہونے کی بجائے ای چالان پر مرتکز ہو گیا اور ذریعہ آمدنی بن گیا۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس پروگرام کو اس کی اولین روح کے مطابق مکمل بھی کیا جائے اور فورسز پر بھی نگاہ رکھی جائے۔ جرائم کی شرح میں اضافہ تشویشناک ہے۔ اس کی روک تھام کے اقدامات بھی ضروری ہیں اور سیف سٹی پروگرام کو بھی انسداد جرائم کے لئے استعمال کیا جائے نہ کہ صرف ای چالان تک محدود ہو جائے۔

مزید : رائے /اداریہ