پرویز مشرف تاریخ کا معتوب کردار؟

پرویز مشرف تاریخ کا معتوب کردار؟
 پرویز مشرف تاریخ کا معتوب کردار؟

  


جسٹس طاہرہ صفدر کی صدارت میں خصوصی عدالت کے تین رکنی بنچ نے سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کی عدم حاضری پر غداری کیس میں اُن کا حق ِ دفاع ختم کر دیا۔اب اُن کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہو گی، وہ اپنا وکیل بھی نہیں رکھ سکیں گے، سرکاری وکیل کیس لڑے گا۔ عدالت میں پرویز مشرف کے وکیل نے استدعا کی کہ پرویز مشرف چل نہیں سکتے، اُن کے دِل کی کیموتھراپی ہو رہی ہے،اِس لئے ایک مہلت اور دی جائے گی، مگر عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی اور پرویز مشرف کے خلاف مذکورہ بالا فیصلہ سنا دیا۔ اپنے وقت کا ایک سپہ سالارِ اعظم، مطلق العنان حکمران اور وزرائے اعظم نکالنے اور رکھنے والا بادشاہ گر آج نشانِ عبرت بنا ہوا ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے کئی بار پرویز مشرف کو پیش ہونے کا کہا تھا۔ یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان آمد پر انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا، وہ عدالت میں اپنا دفاع کریں،مگر کل کا کمانڈو آج کا ایک ڈرا ہوا شخص ہے، جو زندگی بچانا چاہتا ہے، حالانکہ بقول وکلاء کے وہ جان لیوا بیماری میں مبتلا ہیں۔پاکستان میں فوج کے بہت جدید ہسپتال موجود ہیں۔ائر فورس کارڈیالوجی ہسپتال میں تو وہ داخل بھی رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان واپس نہ آنے کی قسم کھا رکھی ہے۔

کیا اُن کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں،کیا غداری کیس سے بچنے کی انہیں کوئی صورت نظر نہیں آ رہی، کیا وہ سمجھتے ہیں کہ بیرون ملک رہیں گے تو اس کیس کا فیصلہ نہیں ہو گا اور کسی اچھے وقت میں وہ پاکستان آ جائیں گے،مگر یہ حکمت عملی کارگر ثابت نہیں ہوئی۔اُن کے حق ِ دفاع کو ختم کر کے گویا عدالت نے آدھا فیصلہ سنا دیا ہے،کیونکہ آرٹیکل چھ کے تحت بننے والا یہ کیس اتنا ٹھوس اور واضح ہے کہ اُس میں ملزم اپنا دفاع کر ہی نہیں سکتا۔ پرویز مشرف نے آئین توڑا،بلکہ بار بار توڑا،وہ اُس کے نتائج کو بالکل بھول گئے۔ اکیسویں صدی میں وہ جنگل کے قانون کا استعمال کرتے رہے۔ایک طرف افتخار محمد چودھری کو برطرف کر کے اپنی مطلق العنان ذہنیت کو ظاہر کیا،بلکہ یہ بھی باور کرایا کہ انہیں نواز شریف کو برطرف کرنے، آئین کو پامال کرنے کی ذرہ بھر فکر نہیں۔

ہمارے سیاست دانوں کی طرح اگر پرویز مشرف بھی یہ کہنا شروع کر دیں کہ اُن سے پہلے والے آمروں کا احتساب کیوں نہیں ہوا، اُن کے خلاف آئین شکنی پر غداری کے کیسز کیوں نہیں بنائے گئے،اگر ایسی کوئی مثال موجود ہوتی تو وہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی حماقت نہ کرتے،مگر وہ ایسا کہہ نہیں سکتے تھے،کیونکہ جب انہوں نے جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا ہو گا تو اُن کی قانونی ٹیم نے یہ تو بتا ہی دیا ہو گا کہ آئین میں آرٹیکل چھ بھی ہے، جو آئین توڑنے یا اُسے معطل کرنے والے کو غدار قرار دیتا ہے،جس کی سزا موت ہے۔

اُس وقت پرویز مشرف اور اُن کے ساتھیوں کو اِس بات کا شائبہ تک نہیں ہو گا کہ ایک دن اُن کا یہی عمل ایک ایسی پھانس بن جائے گا جسے نہ نگلا جا سکتا ہے اور نہ اُگلا۔ اقتدار میں رہتے ہوئے کسی کو بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ جو کر رہا ہے، اُس کا حساب بھی دینا پڑ سکتا ہے۔ نواز شریف، آصف علی زرداری آج حساب دے رہے ہیں، اُن پر الزامات کرپشن کے ہیں، جبکہ پرویز مشرف تو غداری کے ملزم ہیں، جو بڑا سنگین جرم ہے۔یوں لگتا ہے کہ پرویز مشرف نے اس کیس کو سنجیدہ لیا ہی نہیں،وہ ہمیشہ اس زعم میں رہے کہ انہوں نے پینتیس سال فوج میں گزارے،اس کی کمانڈ کی ہے،اس لئے فوج مجھے تنہا نہیں چھوڑے گی۔

یہ کہتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ فوج نے انہیں نہیں کہا تھا کہ وہ ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیں، پھر اس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنائیں اور پورے خاندان سمیت جلا وطن کر دیں۔ پرویز مشرف امریکی ایجنڈے کے تحت آئے یا ذاتی خواہش ِ اقتدار کی وجہ سے، حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت انہوں نے اپنے اس عمل کے نتائج پر ہر گز غور نہیں کیا ہو گا۔ اُن کے ذہن میں دور دور تک یہ بات نہیں رہی ہو گی کہ جب جواب دہی کا وقت آئے گا تو نہ امریکہ کچھ کر سکے گا اور نہ ہی وہ ساتھی اُن کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو اب اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

آج آپ دیکھیں کہ صرف پرویز مشرف غداری کیس کا سامنا کر رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ کے جرنیل، بیورو کریٹس اور سیاست دان،جو اُن کے اس عمل اور بعدازاں دورِ اقتدار میں ساتھ رہے،بڑے سکون سے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ پرویز مشرف کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نواز شریف پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس بنانے کی سزا بھگت رہے ہیں، وہ صرف ایک قیاسی نتیجہ نکالتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف اور پرویز مشرف میں ایک سنجیدہ شخصی تصادم موجود ہے۔ نواز شریف کا بیانیہ درحقیقت پرویز مشرف کے اس اقدام ہی کی وجہ سے ہے جس میں انہوں نے نواز شریف کو اقتدار سے معزول کیا۔

پھر ذاتی پرخاش جاری رکھی اور دس سال سے پہلے پاکستان واپس آنے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ پرویز مشرف کی جواب دینے میں بے بسی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آئین شکنی کا جواب کسی کے پاس ہے بھی نہیں۔ آئین کو کاغذ کا چیتھڑا یا کاغذ کے چند ٹکڑوں کا مجموعہ کہنے والے اب انگشت بدنداں ہیں کہ کس طرح یہ کاغذ کا چیتھڑا ایک بڑی طاقت بن کر بڑے بڑوں کے کس بل نکال دیتا ہے۔ پرویز مشرف واقعی بہت بیمار ہیں، اُن کی بیماری سنگین شکل اختیار کر چکی ہے،اللہ انہیں صحت دے، لیکن کیا انہیں اس حالت میں بھی پاکستان واپس نہیں آنا چاہئے، کیا وہ خدانخواستہ ایک جسد ِ خاکی کی صورت میں پاکستان آنا چاہیں گے۔

انہیں تاریخ کو سیدھا رکھنے کے لئے بھی پاکستان آنا چاہئے۔ وہ سب تاریخی راز عوام کے سامنے رکھیں،جو انہیں معلوم ہیں۔وہ حقائق بھی سامنے لائیں،جن کی وجہ سے انہیں نواز شریف کو برطرف کرنا پڑا اور وہ راز بھی کھولیں جو انہوں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے مدنظر رکھے۔وہ جب تک وردی میں تھے،ہر وقت کہیں نہ کہیں مکا لہرا دیتے تھے۔ اُن کا ایک بہت دلیر کمانڈو کا امیج عوام کے ذہن میں ہے۔سوشل میڈیا پر بستر سے لگے مریض پرویز مشرف کی تصاویر اُن کے چاہنے والوں کو تکلیف دیتی ہیں۔

وہ چاہے اسلام آباد ائر پورٹ سے وہیل چیئر پر بیٹھ کر باہر آئیں،یہ اُن کی کمزوری نہیں، بہادری کہلائے گی، مگر اُن پر لگنے والا یہ لیبل کہ وہ سزائے موت کے خوف سے پاکستان واپس نہیں آنا چاہتے، اُن کی شخصیت کے تاثر کو بُری طرح متاثر کر رہا ہے۔خصوصی عدالت کے فیصلے سے یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ پرویز مشرف اور اُن کے وکلاء عدم حاضری کا آپشن استعمال کر کے کیس کو جس طرح لمبا کرنے کی امید لگائے بیٹھے تھے، وہ اب باقی نہیں رہی۔اب یکطرفہ فیصلے کا انتظار ہی کر سکتے ہیں۔

میرے نزدیک یہ بڑی کسمپرسی کا عالم ہے۔ فوج کا سابق سپہ سالار اُس ملک میں آنے سے قاصر ہے، جہاں اُس نے نو سال بلا شرکت ِ غیرے حکمرانی کی۔جس فوج پر اُنہیں بڑا مان تھا کہ میری ہے، وہی فوج آج پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے اور غیر آئینی اقدام کو قومی سلامتی کے خلاف سمجھتی ہے۔ آج جب کچھ لوگ سیاسی حالات کی خرابی کے باعث یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ مارشل لاء آجائے گا تو مجھے اُن کی سوچ پر حیرت ہوتی ہے۔انہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ پرویز مشرف کی مثالِ عبرت اب کسی کو مہم جوئی کرنے کی راہ نہیں دکھائے گی۔

اب کہیں سے نظریہئ ضرورت کا ریلیف نہیں ملنا، نہ ہی کسی نے اُسے قبول کرنا ہے۔ پرویز مشرف اگر واپس آ کر خود کو عدلیہ اور ریاست کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں اور قوم سے آئین شکنی پر معافی مانگ لیں تو یہ اُس سے کہیں بہتر ہو گا کہ وہ غداری کا لیبل لگوا کر بیرون ملک بیٹھے رہیں اور اُس وقت لائے جائیں جب انسان کو صرف دو گز زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔

مزید : رائے /کالم