جمہوریت کا حسن یا آمریت کی بدصورتی؟

جمہوریت کا حسن یا آمریت کی بدصورتی؟
 جمہوریت کا حسن یا آمریت کی بدصورتی؟

  


جمہوریت کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اکثریت کی حکومت کہلاتی ہے۔ یعنی اگر ملک کے حکمران کا انتخاب کرنا ہو اور آبادی کی رائے منقسم ہو تو فیصلہ کرنے کے لئے ایک دن (یا ایک مدت جو ڈیڑھ ماہ تک بھی جا سکتی ہے، جیسا کہ انڈیا میں ہے) مقرر کر دیا جاتا ہے۔ اس دن آبادی کو کہا جاتا ہے کہ اپنی مرضی سے آگاہ کرے کہ کس کو حکمرانی سونپنی ہے۔ اس پراسس کو الیکشن کا نام دیا جاتا ہے۔

فرض کریں کسی ملک میں 100افراد بستے ہیں۔ اگر اس الیکشن میں 51افراد، حکمرانی کے کسی ایک دعویدار کو ووٹ دیں اور 49 کسی دوسرے کو حکمران بنانا چاہیں تو جیت 51افراد کی ہو گی!…… باقی 49افراد ایک مقررہ مدت تک 51افراد کے احکامِ حکمرانی کے تابع رہیں گے۔ یعنی اس مقررہ مدت میں 51 افراد 49افراد کی مرضی اور منشاء کے خلاف ہر وہ اقدام اٹھا سکتے ہیں جو ایک ضابطے کے تحت ان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس ضابطہ کا نام ”آئین“ ہے۔

آئین میں مدتِ حکمرانی کا تعین بھی درج ہوتا ہے۔ فرض کریں یہ مدت 5سال ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ ان پانچ برسوں یا 1725دنوں اور اتنی ہی راتوں میں آدھی آبادی حاکم ہو گی اور دوسری آدھی محکوم تصور ہو گی۔ محکوم آبادی جتنا بھی شور مچالے اس کی کوئی نہیں سنے گا۔ وہ دھاندلی کا الزام لگائے گی، اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی لیکن آخر تھک ہار کر بیٹھ جائے گی۔

میں نے سطور بالا میں ملک کی آبادی بطور مثال 100افراد پر مشتمل قرار دی ہے۔ لیکن یہ اگر 100کروڑ بھی ہو تو طرزِ حکمرانی کا طریقہ وہی رہے گا یعنی 51کروڑ حاکم ہوں گے اور 49کروڑ ان کے محکوم…… ستم یہ ہے کہ انسانی معاشرے نے صدہا برس کی کوششوں کے بعد بھی اس نازک مساوات میں پائی جانے والی خرابیوں کا کوئی توڑ دریافت نہیں کیا۔آج دنیا میں تقریباً 200ممالک ہیں جو آزاد ہیں، جن کی جغرافیائی حدود طے ہیں، جن کے پاس اپنی افواج اور اپنا نظامِ انصاف ہے۔

اگر ان میں سے آدھے ممالک جمہوریت کے پیروکار ہوں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ان 100جمہوری ممالک میں ترقی اور خوشحالی بہ مقابلہ دوسرے غیر جمہوری 100ممالک کے، زیادہ ہے۔ یہ جمہوری معاشرے نہ صرف اپنی آبادیوں کے براہِ راست حکمران ہیں بلکہ دنیا کے باقی نصف غیر جمہوری ممالک کے بھی بالواسطہ حکمران ہیں۔ یہ غیر جمہوری 100ممالک برائے نام آزاد ہوں گے لیکن لاریب وہ 100جمہوری ملکوں کے غلام رہیں گے۔ میں نے آسان ترین (آپ اسے ”اجڈترین“ بھی کہہ سکتے ہیں) زبان میں جمہوریت کی تعریف (Definition) بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے ”لکھے پڑھے“قارئین سے گزارش ہے کہ وہ میرے اس ”اجڈپن“ کو برداشت کریں۔ میں ایک دو مزید ”اجڈ“ پہلوؤں کی طرف بھی آپ کی توجہ مبذول کروانی چاہتا ہوں۔

ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کے افراد کا ذہنی لیول یکساں نہیں ہو سکتا کہ یہ قانونِ فطرت ہے۔ اگر کسی ملک میں اکثریت زیادہ ذہین افراد کی ہے تو اس کے حکمران ذہین ہوں گے اور اگر اکثریت غبی اور کند ذہن افراد کی ہے تو یہ نیم خواندہ (یا ناخواندہ) اکثریت، ذہین افراد پر مسلط کر دی جائے گی۔

حضرت اقبال نے اسی لئے جمہوریت کی تعریف (Definition)کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں بندوں کو تولا نہیں گِنا کرتے ہیں اور ایک دوسرے فارسی شعر میں ارشاد فرمایا تھا کہ 200خر دماغ انسانوں میں کسی ایک ذہین انسان کا دماغ نہیں سما سکتا:

کہ از مغزِ دو صدخر فِکر انسانی نمی آید

کئی بار سوچتا ہوں کہ اقبال ایک غلام ملک میں پیدا ہوئے اور جب انتقال کیا تو یہ ملک ہنوز غلام تھا۔ انہوں نے صرف تین سال تک ایک آزاد ملک میں قیام کیا۔

یہ ملک دنیا کی قدیم جمہوریاؤں میں شمار ہوتا تھا لیکن دنیا کی آدھی آبادی کو اس چھوٹے سے ملک نے اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ اپنے قیامِ یورپ کے تین برسوں میں اقبال نے اس معاشرے کا نظارا کیا جو ان کے اپنے معاشرے سے 180ڈگری مختلف بلکہ متضاد تھا۔ کیا ان کو نظر نہیں آتا تھا کہ یورپی معاشرہ جو جمہوری اقدار کا داعی ہے وہ ان کے ہندوستانی معاشرے سے زیادہ ذہین، زیادہ مہذب اور زیادہ تعلیم یافتہ تھا؟…… اگر ایسا تھا تو اقبال نے اپنے کلام میں جگہ جگہ اس معاشرے کی تکذیب کیوں کی؟…… دو سو خر دماغوں کا لیبل ان پر کیوں لگایا؟…… اور بندوں کو گننے کی بجائے تولنے کو زیادہ مستحسن کیوں قرار دیا؟…… کیا ان کو معلوم نہ تھا کہ دنیا کا کوئی معاشرہ 100% خواندہ یا 100% ناخواندہ تو شائد ہو سکتا ہے لیکن 100% ذہین اور 100% غبی نہیں ہو سکتا؟

جمہوریت کی اگر حمائت کرنی بھی پڑے تو اس فطری اصول سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ خدا کی مخلوق میں خر دماغ بھی ہیں اور ذہین بھی۔ یہ مساوات روزِ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ چنانچہ مجھے اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ کیا آج کے انسانی معاشروں میں موجودہ طرزِ جمہوریت زیادہ ماڈرن ہے یا وہ طرزِ حکمرانی جسے آج کے عشاقِ جمہوریت، آمریت کا نام دیتے ہیں۔

بعض قارئین یہ دلیل بھی دیں گے کہ اگر قدیم اور جدید طرزِ حکمرانی کا موازنہ کرنا ہو تو جدید طرزِ حکومت(جمہوریت) بہتر قرار پائے گا۔وہ کہیں گے کہ قدیم طرزِ حکمرانی شخصی تھا اور عوام کا نمائندہ نہیں تھا اور جور و استبداد کا داعی بھی تھا۔ لیکن میں (اور شائد آپ بھی) اس موازنہ میں مہذب اور غیر مہذب کو ایک دوسرے کے مقابل رکھیں تو قدیم معاشرے کئی اعتبارات سے زیادہ مہذب، زیادہ غریب پرور، زیادہ مسکین نواز اور زیادہ عوام دوست ثابت ہوں گے!

اور دوسرا پہلو جس کی جانب آپ کی توجہ کی درخواست ہے وہ یہ ہے کہ جمہوری طرزِ حکمرانی 51% اکثریت اور 49% اقلیت کو آئین جو ضمانتیں فراہم کرتا ہے، کیا وہ اس کو واقعتاً دی جاتی ہیں؟…… نہیں …… ایسا ہو سکتا ہی نہیں۔ اکثریت اپنی فتح کو کیش کروانے پر تلی رہتی ہے اور اقلیت اپنی شکست کا دفاع کرتے کرتے 5برس گزار دیتی ہے!……

جمہوریت کے حسن کا ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے۔ کیا انسان کُش اسلحہ جات مثلاً توپ، ٹینک، طیارے، آبدوزین، جنگی بحری جہاز، میزائل، بم اور جوہری وار ہیڈز…… کیا یہ سب شہنشاہی ادوار کی ایجادات ہیں؟ کیا شاہی، بادشاہی یا شہنشاہی ادوار کی جنگوں میں اتنا ہی کشت و خون ہوتا تھا جتنا عصر حاضر کے جمہوری دور کی جنگوں میں ہو رہا ہے؟…… کیا آج کا انسان اپنے مقامِ آدمیت سے گزرے کل کے انسان کے مرتبہ ء انسانیت سے پھسل کر کہیں گہرے پاتال میں نہیں جا گرا؟

آپ سوال کر سکتے ہیں کہ اگر شاہی دور کا تسلسل آج بھی جاری رہتا تو اس بات کی کیا ضمانت تھی کہ اس میں انسانیت سوز جدید سلاحِ جنگ ایجاد نہ ہوتے؟ وہ ضرور ہوتے لیکن مجھے یقین ہے کہ ایٹم بم ایجاد نہ ہوتا۔

یہ بم اس لئے ایجاد کرنا پڑا کہ جنگ کے دورانیئے کی طوالت بڑھ گئی تھی۔ اس کو ختم کرنا مقصود تھا۔ ذرا گزشتہ شاہی ادوار کو یاد کیجئے۔ کیا کوئی جنگ 6برس تک مسلسل جاری رہی تھی؟ یورپ کی 30سالہ جنگ بس برائے نام جنگ تھی…… بادشاہی ادوار میں یہ ہوتا تھا ایک ملک زیادہ سے زیادہ اپنے ہمسائے سے جا الجھتا تھا اور اگر اور زیادہ ہوتا تو ایک دو اور ہمسایوں کو بھی لپیٹ میں لے لیتا…… اور بس……

سکندراعظم کے بعد کوئی دوسرا حکمران ایسا کہاں تھا جس نے ساری دنیا کی فتح کا ارادہ کیا تھا؟ رومن اور ایرانی ادوار میں جنگوں کا تسلسل بھی محدود مدت تک ہی تھا۔ مسلمان فرمانرواؤں نے اگرچہ یکے بعد دیگرے ایشیاء،افریقہ اور یورپ کے بہت سے ملکوں کے خلاف جنگیں لڑیں اور یورپ میں فرانس تک نکل گئے۔ لیکن ان جنگوں میں انسانی ہلاکتوں کی تعداد کا ٹوٹل لگا لیں اور 1870ء میں صرف ایک جنگ، فرانکو۔ جرمن وار کے جانی نقصانات کو دیکھ لیں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ انسان جب جب جمہوری دور کی طرف بڑھا ہے، اس نے جنگوں میں ہولناک ترین اور شدید ترین آمرانہ رویوں کا مظاہرہ کیا ہے۔

اور آج یہ دنیا جس جوہری بارود خانے کے کنارے آ بیٹھی ہے اس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

یہ مطالعہ بڑا دلچسپ ہو گا اگر کوئی مورخ ہندوستان میں بدھ، ہندو اور مسلم ادوار کی جنگوں میں جانی نقصانات کے اعداد و شمار جمع کرے اور پھر برٹش دور کی جنگوں میں بھی ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا حساب لگائے اور دونوں کا موازنہ کرے۔ دنیا کی دونوں عظیم جنگیں جن کی ٹوٹل مدت 10برس (6+4) بنتی ہے اس میں ان ہندوستانی جنگوں کی اتلافات کا حساب بھی لگایا جائے جن میں ہندوستان کی سرحدوں سے باہر یورپ، افریقہ اور ایشیائی ممالک (برما اور مشرق وسطیٰ) میں جا کر مختلف خونریز معرکوں میں حصہ لیا گیا تو ان سب میں برٹش دور کے نقصانات، باقی تمام ادوار کی نسبت زیادہ ہوں گے۔

سوال یہ ہے کہ کیا برٹش دور جمہوری دور نہیں تھا؟ کیا امریکہ اور اس کے مغربی حواری جمہوریت کا غلغلہ نہیں مچاتے تھے؟ کیا ہٹلر کو نازی جرمنی کا بدترین آمر قرار نہیں دیا جاتا تھا؟ لیکن اس دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کے نقصانات کا حساب کر لیں اور اتحادیوں کے جانی نقصانات سے ان کا موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ”بدترین ڈکٹیٹر“ (ہٹلر) نے اتنا خون خرابہ نہیں کیا جتنا ”بہترین جمہوریت کے دعویداروں“ نے کیا…… اور پھر اکیسویں صدی تک آجائیں۔ یہ تو کل کی بات ہے……اس میں مشرقِ وسطیٰ کو کس نے تاراج کیا؟…… اس کے باوجود کیا ہم (یا باقی دنیا) امریکہ کو آمر گردانتی ہے؟……

لیکن کیا وہ واقعی تاریخ کا سب سے بڑا آمر نہیں؟…… لیکن اس کے باوجود کیا جدید میڈیا اسے واقعی آمر سمجھتا ہے؟……

جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ وہ قاتل بن کر بھی مظلوم رہتی ہے اور بادشاہت / خلافت، آمریت کہلا کر بھی دلنوازی کا سلیقہ ترک نہیں کرتی!

مزید : رائے /کالم