پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتیں بجٹ منظوری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں گی

پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتیں بجٹ منظوری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں گی

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

بلاول بھٹوزرداری نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ چند روز پہلے بی این پی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے ان سے ملاقات کی تھی تو اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات پورے نہیں کئے اس لئے بجٹ کی منظوری میں اس کا ساتھ نہیں دیں گے، اس پر حکومتی صفوں میں ہلچل مچ گئی اور ایک وزیر نے  فوری طور پر اختر مینگل سے ملاقات کی، انہیں مطالبات کے سلسلے میں یقین دہانیاں کرا دی گئیں۔ اختر مینگل نے نہ تو اس طرح کا بیان پہلی مرتبہ دیا ہے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے رابطہ، کوئی نئی بات ہے لیکن یہ ہے کہ عام حالات میں اختر مینگل اگر اس طرح کا بیان دیتے تو شاید اس پر چنداں توجہ نہ دی جاتی، لیکن اب چونکہ بجٹ کے موقع پر حلیف جماعتوں کے ووٹ کی تحریک انصاف کو ضرورت ہے اس لئے فوری طور پر رابطہ بھی کرلیا گیا ہے اور یقین بھی دلا دیا گیا ہے، حالانکہ بی این پی کے بعض مطالبات ایسے ہیں جن کے بارے میں  حکومت کبھی سنجیدہ نہیں رہی اور شاید اس کے پاس ان کا کوئی حل بھی نہیں، ایک ہی حل ہے کہ زبانی کلامی یقین دہانی کرا دی اور وقتی طور پر  معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ اب حلیف جماعتوں نے  البتہ متحد ہوکر وزیراعظم سے ملنے کا فیصلہ کیا ہے اس ملاقات میں ظاہر ہے وزیراعظم کو وعدے یاد دلائے جائیں گے جن میں سے ایک دیرینہ مطالبہ مسلم لیگ (ق)  کا یہ ہے کہ چودھری مونس الٰہی کو وفاقی وزیر بنایا جائے۔ حکومت نے ابھی تک یہ وعدہ وفا نہیں کیا، تاہم کبھی کبھار مسلم لیگ (ق) یہ وعدہ یاد ضرور دلا دیتی ہے، اب حلیف جماعتیں وزیراعظم کے سامنے اگر متفقہ لائحہ عمل اپنائیں گی تو عین ممکن ہے اس نازک وقت پر حکومت اپنا وعدہ ایفا کرنے پر تیار ہو جائے۔ حلیفوں نے اکٹھے ملنے کا پروگرام بھی شاید اسی لئے بنایا ہے کہ اس طرح بات منوائی جاسکتی ہے، ایم کیو ایم (پاکستان) بھی اپنے کچھ مطالبے سامنے لائے گی جن میں مزید ایک وزارت کا مطالبہ بھی ہے۔ ویسے بجٹ کے بعد وزارتوں میں ردوبدل بھی متوقع ہے اس سے پہلے ایسا کوئی اقدام حکومت کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ اگر اپوزیشن بجٹ پاس نہ ہونے  دینے کی حکمت عملی پر سنجیدگی سے کاربند ہوگئی اور ان وزرا سے رابطہ کرلیا جن کے سروں پر وزارتوں سے علیحدگی کی تلوار لٹک رہی ہے تو حکومت کے لئے مشکلات پیدا ہوں گی۔ اس لئے فی الحال وزارتوں میں تبدیلی کا معاملہ مؤخر کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد ردوبدل ہوگا تو عین ممکن ہے مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم (پاکستان) کو بھی مزید ایک ایک وزارت مل جائے، اگرچہ نجی محافل میں تو ان دونوں جماعتوں کی قیادت کا تذکرہ اچھے الفاظ میں نہیں کیا جاتا، تاہم اب ان کے بارے میں ایسی صاف گوئی سے بھی کام نہیں لیا جاتا، جس کا اظہار ماضی میں کیا جاتا تھا اور   جس کا کلپ اب بھی کبھی کبھار بعض چینل چلا دیتے ہیں۔ حکومت کی چوتھی حلیف جماعت جی ڈی اے ہے جس کے بظاہر تو کوئی  بڑے مطالبات سامنے نہیں، لیکن بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا یہی وقت ہے اور بجٹ کی منظوری سے پہلے پہلے بعض مطالبات منوائے جاسکتے ہیں۔  اگر کوئی نہیں بھی ہیں تو بھی کوئی نہ کوئی بے ضرر مطالبہ ہی کیا جاسکتا ہے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر پر آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لئے بھی دباو بڑھایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف  تحریک اعتماد لانے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں۔ ویسے تو رکن اسمبلی اور پارلیمانی لیڈر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا اختیار سپیکر کے پاس ہے اور انہوں نے موجودہ  اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران اپنے اس اختیار کا استعمال شہبازشریف اور سعد رفیق کے معاملے میں کیا ہے، جنہیں پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی میں لایا جاتا رہا، لیکن بعد میں انہوں نے سعد رفیق کے معاملے میں اپنا اختیار استعمال نہیں کیا۔ علی وزیر اور محسن داوڑ کے معاملے میں بھی انہوں نے معذرت کرلی ہے، لیکن اب اگر آصف علی زرداری کا پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہوا تو پیپلز پارٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاسکتی ہے جو ضروری نہیں منظوری کے مراحل بھی طے کرلے، لیکن اگر تحریک پیش کردی گئی تو چند دن تک تو ایوان میں ہلچل مچی رہے گی، عین ممکن ہے حکومت کے اندر اسد قیصر کے مخالفین بھی کوئی خفیہ کردار ادا کریں، تاہم یہ تحریک پیش ہوتی ہے یا نہیں، اسد قیصر کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایوان کے کسٹوڈین کی حیثیت سے اپنا کردار قواعد و ضوابط کے مطابق ادا کرتے رہیں اور اس سلسلے میں پارٹی لائن کا لحاظ نہ رکھیں۔ ماضی میں جن  سپیکروں نے ایوان کو پارٹی مصلحتوں کے تابع رکھا یا احکامات جاری کرتے ہوئے قواعد کی بجائے کسی کی جبین کی شکنوں کی طرف دیکھتے رہے، انہیں آج اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا اور وہ الیکشن بھی ہار گئے۔ اسد قیصر کا کردار بھی اس لحاظ سے  پرکھا جائے گا، وہ اگر ایوان میں درخشاں روایات قائم کریں گے توبا اصول سپیکروں میں ان کا نام یاد رکھا جائیگا، بصورت دیگر انہیں چودھری امیر حسین ہی سمجھا جائے گا۔ جنہوں نے اپنے پورے دور میں جاوید ہاشمی کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیا، اور  کہتے رہے کہ انہیں اس کا اختیار نہیں، اگر انہیں نہیں تھا تو اب یہ اختیار کہاں سے آگیا ہے؟ وزیراعظم ظفراللہ جمالی اور صدر پرویز مشرف دونوں اس کے خلاف تھے، اول الذکر تو جنرل پرویز مشرف کو باس کہتے نہ تھکتے تھے حالانکہ بطور آرمی چیف وہ وزیراعظم کے ماتحت تھے لیکن باس نے پھر باس بن کر دکھایا اور ظفراللہ جمالی کو چلتا کردیا۔

بجٹ

مزید : تجزیہ