فصلی بٹیرے

فصلی بٹیرے
فصلی بٹیرے

  


عموماً فصلی بٹیرے کی اصطلاع ان سیاسی کارکنوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ”تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو“ کی روش پر چلتے ہوئے اپنی وفاداریاں سیاسی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے بدلتے رہتے ہیں اور جب جس پارٹی کے اقتدار میں آنے کے چانسز ہوتے ہیں اس پارٹی کا رخ کر لیتے ہیں۔اس پارٹی کے اقتدار میں آنے پر خوب اچھی طرح سے وہاں سے مفادات حاصل کرکے آگے جس پارٹی کے جیتنے کے آثار ہوتے ہیں وہاں جا کر پارٹی کے وفا دار ساتھیوں کے بارے میں پارٹی قیادت کے کان بھر کر خود پارٹی میں بر اجمان ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔وہ لوگ جو پارٹی کے اصل وفا دار ساتھی جنہوں نے اپنی زندگی پارٹی کے لیے وقف کی ہو پارٹی کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔آج کے اس دور میں با ضمیر اور با وفا لوگوں کا یہی مقدر ہے بے ضمیر اور بے وفا لوگوں کو سروں کا تاج بنا لیا جاتا ہے اور پھر یہی بے ضمیر اور بے وفا لوگ پارٹی کے مشکل وقت میں دھوکہ دے کر آگے کی راہ لیتے ہیں۔

مدتوں سے ایسا ہی چلا آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ ملکی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں بات جب اپنے مفادات کی آجائے تو پھر ملک جو کہ ہمارا گھر ہے،ہماری جنت ہے اس کی پرواہ کون کرے گا۔ارکان کی اکثریت ”اپنا الوّ سیدھا کرو اور آگے کی سوچو“ کا عزم لیے ہوئے ہوتے ہیں۔یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے جبکہ دوسری جانب آج ہم مسلمان اللہ کو یاد بھی اپنے مفادات یا مخصوص ایام میں ہی کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی مشکل میں گرفتا ر ہوتے ہیں یا کوئی مصیبت ہم پر آن پڑتی ہے تو صرف اسی وقت ہمیں اللہ کی یاد آجاتی ہے۔خالق،مالک اور رازق کے کسی احسان پر ہمیں وہ یاد نہیں آتا ہم صرف برے وقت میں ہی مسجدوں کا رخ کرتے ہیں اللہ کی ہمارے گرد موجود بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی غرض سے اللہ کو نہیں پکارتے ایسا کیوں ہے!کہ رمضان المبارک میں ہی مساجد نمازیوں سے بھری ملتی ہیں عام دنوں میں کیوں نہیں؟حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں سمیٹنے کے لیے ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی ہے۔جس سے ہر وقت کبھی بھی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔صرف رمضان المبارک میں ہی کیوں مساجد کا رخ کیا جاتا ہے۔ہر دن کیوں نہیں؟رمضان المبارک کے اختتام کے ساتھ ہی مساجد خالی ہونا شروع ہو جاتی ہیں جو کہ کسی طور بھی مناسب نہیں۔جب کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ!اے بندہ مومن تو میرا ہو کر تو دیکھ تیرا ہو نا جاؤں تو کہنا۔

مزید : رائے /کالم