پنجاب حکومت نے نئے مالی سال2019-20کے لیے 23کھرب 60کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا

پنجاب حکومت نے نئے مالی سال2019-20کے لیے 23کھرب 60کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا
پنجاب حکومت نے نئے مالی سال2019-20کے لیے 23کھرب 60کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کردیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب حکومت نے نئے مالی سال 20-2019 کا بجٹ پیش کردیا جس کا کل حجم 23کھرب 60 کروڑ روپے رکھا گیا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کی زیر صدارت بجٹ اجلاس ہواجس میں صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے بجٹ پیش کیاجس میں ترقیاتی بجٹ کے لیے 350روپے مختص کیے گئے اور اس میں پچھلے سال کی نسبت 47فیصد اضافہ ہوا۔ترقیاتی بجٹ میں غیر ملکی فنڈز سے چلنے والے منصوبو کے لیے 60.5ارب روپے اور اختراعی فنانسگ کے لیے 42ارب روپے مختص کیے گئے ۔غیر ترقیاتی بجٹ 1298.8ارب روپے ہے جس میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 2.7فیصد اضافہ ہوا ۔صحت کے لیے 8.4فیصد اضافے کے ساتھ 308ارب50کروڑ مختص کیے گئے۔ زراعت کے لیے 23.8 فیصد اضافے کے بعد 113 ارب 60 کروڑ روپے رکھے گئے۔ عوامی تحفظ اورامن و امان پر181 ارب 60 کروڑ خرچ کرنےکی تجویز ہے، تنخواہوں کی مد میں 337ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، پنشن کے لیے 244اعشاریہ 90 ارب روپے مختص ہوں گے۔پبلک سیکٹر اور انفراسٹرکچر پر 149ارب 30کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے

صحت

پنجاب حکومت نے صحت کے لیے 8.4فیصد اضافے کے ساتھ 308ارب50کروڑ مختص کیے۔بہاولپور میں چلدر ن ہسپتال کے قیام ،ہیپا ٹائٹس کے مریضوں کو مفت ادوایات کی فراہمی کے لیے 1.5ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ 2ارب روپے مالیت کا انصاف ہیلتھ انشورنس کارڈ پروگرام مختص کیا گیا ۔پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لیہ ،میانوالی ،لاہور ،رحیم یار خان ،راولپنڈی ،بہاولپور ،ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں اعلیٰ معیار ہسپتالوں کا قیام کیا جائے گا ۔پنجاب بھر میں تحصیل اور ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کی تعمیر نو کے لیے 3.5ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ مفت ادویات اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے 12ارب روپے مختص کیے گئے ۔

شعبہ تعلیم

وزیر خزانہ نے اپنی تقریر کے دوران بتایا کہ بجٹ میں تعلیم کے شعبے کیلئے 382.9 ارب کی رقم مختص کی گئی، پنجاب بھر میں 64 کالجز کی تکمیل کے لیے2.1ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ بہاولپور میں اعلیٰ معیار کی چلڈرن لائبریری اور ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک یونیورسٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ۔سکول کونسلز کے لیے 12.9اور مفت درسی کتب کی فراہمی کے لیے 2.84ارب روپے مختص کیے گئے ۔سکول نہ جانے والے بچوں کے لیے انصاف سکول پروگرام کے تحت 1.5ارب روپے مختص جبکہ جھنگ ،اوکاڑہ ،ساہیوال اور نارووال میں نئی قائم کردہ یونیورسٹیوں کے لیے 4سو ملین روپے جاری کیے گئے ۔

زراعت

پنجاب حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے لیے 23.8 فیصد اضافے کے بعد 113 ارب 60 کروڑ روپے رکھے گئے۔چھوٹے کاشتکاروں کے لیے فصلوں کی انشورنس اور ڈائریکٹ کیش ٹرانسفر سبسڈی کے لیے 5.35ارب روپے مختص کیے گئےجبکہ کسانوں کو فارم سبسڈی کی ڈائریکٹ منتقلی کے لیے ایگری کریڈٹ سمارٹ کارڈ جاری کیا جائے گا ۔

جنوبی پنجاب

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے 3ارب روپے مختص کیے گئے۔ ترقیاتی بجٹ کا 35فیصد حصہ جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیا گیا ہے ،جنوبی پنجاب کے بجٹ میں ردو بدل نہیں کیا جا سکے گا ۔

تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ

وزیرخزانہ پنجاب کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔تنخواہوں کی مد میں 337 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے جب کہ پنشن پر 244 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ پنجاب کے مطابق ریونیو اتھارٹی 166 ارب 60 کروڑ روپے اکھٹے کرے گی جب کہ بورڈ ا?ف ریونیو 81 ارب 20 کروڑ روپے اکھٹے کرے گا۔پنجاب کے نئے بجٹ میں میگا پراجیکٹس، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کی تجویز شامل ہے جب کہ محکمہ خزانہ پنجاب نے نئے بجٹ کو ٹیکس فری اور 200 ارب کا سرپلس قرار دیا ہے۔پنجاب کے نئے بجٹ میں صوبائی مالیاتی کمیشن کے تحت 437 ارب جاری کیے جائیں گے جب کہ آئندہ مالی سال میں پنجاب میں ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی 388 ارب 40کروڑ روپے ہوگی۔

پنجاب اسمبلی میں بجٹ تقر یر کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں جس کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی نے پیر تک اجلاس ملتوی کردیا۔

مزید : اہم خبریں /قومی