اقرا یونیورسٹی کے طالب علموں نے بجلی بنانے والی ٹائلیں بنالیں، قوم کو سستا ترین طریقہ بتادیا

اقرا یونیورسٹی کے طالب علموں نے بجلی بنانے والی ٹائلیں بنالیں، قوم کو سستا ...
اقرا یونیورسٹی کے طالب علموں نے بجلی بنانے والی ٹائلیں بنالیں، قوم کو سستا ترین طریقہ بتادیا

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے پرائیویٹ تعلیمی ادارے اقرا یونیورسٹی کے طالبعلموں نے فرش کی ٹائلوں کے ذریعے بجلی بنانے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔

اقرا یونیورسٹی کے تین طالبعلموں غالب ندیم، حافظ ولید اور علی اکبر نے یہ اہم ترین کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے پیزو الیکٹرک سینسر کو شیشے پر استعمال کیا جس کے ذریعے ان پر دباﺅ بنایا گیا اور اس سے بجلی بنائی گئی۔ طلباءکا کہنا ہے کہ انہوں نے جو ٹائلیں استعمال کی ہیں وہ پانی سے متاثر نہیں ہوتیں اور تین سے چار سال تک بجلی مہیا کرسکتی ہیں۔

تینوں طالبعلموں نے لوکل میٹریل کا استعمال کرکے یہ ٹائلیں تیار کیں اور ساڑھے 3 سال کے عرصے میں اسے کمرشل استعمال کیلئے متعارف کرادیا۔ ناتجربہ کاری کے باعث ان کے اس پراجیکٹ پر ایک لاکھ 20 ہزار روپے کے اخراجات آئے لیکن اگر انہیں بڑے پیمانے پر تیار کیا جائے تو ان کی لاگت میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

جب آپ اقرا یونیورسٹی کراچی کیمپس کے طالبعلموں کی بنائی گئی ٹائلوں پر چلتے ہیں تو ان سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ طلباءکا کہنا ہے کہ اگر ان ٹائلوں کو 300 میٹر کے ایریا میں لگادیا جائے تو اس سے اتنی بجلی پیدا ہوگی جو 2 گھنٹے کے اندر یو پی ایس کی 7 سے 8 بیٹریاں چارج کرسکتی ہے۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی