وزیر اعظم نےخود کشی تو نہیں کی مگرآئی ایم ایف کے پاس جاکر عوام کو خود کشیوں پر مجبور کردیا: امیر العظیم 

 وزیر اعظم نےخود کشی تو نہیں کی مگرآئی ایم ایف کے پاس جاکر عوام کو خود کشیوں ...
 وزیر اعظم نےخود کشی تو نہیں کی مگرآئی ایم ایف کے پاس جاکر عوام کو خود کشیوں پر مجبور کردیا: امیر العظیم 

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے کہا کہ وزیر اعظم نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بجائے خود کشی کرلیں گے،وزیر اعظم نے تو خود کشی نہیں کی مگرآئی ایم ایف کے پاس جاکر عوام کو خود کشیوں پر مجبور کردیا ہے،جماعت اسلامی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کررہی ہے ،ہم مہنگائی ،بے روز گاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے مگر پارلیمانی اپوزیشن کا حصہ نہیں بنیں گے کیونکہ پارلیمانی اپوزیشن احتجاجی تحریک عوامی مقاصد کے بجائے ذاتی مقاصد کی تکمیل کیلئے چلا رہی ہے،ہمارے ہاں جمہوریت اس لئے مستحکم نہیں ہوسکی کہ یہاں سیاسی پارٹیوں کو ذاتی پراپرٹی سمجھا جاتا ہے،حکومت نے ملک کو جس دلدل میں دھنسا دیا ہے اور ملک جن گھمبیر حالات سے دوچار ہے اس کا تقاضا ہے کہ باہر نکلا جائے اور حکومت کا قبلہ درست کیا جائے، حکومت کمرتوڑ مہنگائی اور آئی ایم ایف کی غلامی پرقوم سے معافی مانگے اور اپنی اصلاح کرے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں کو دی گئی عید ملن پارٹی کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد بھی موجود تھے ۔امیر العظیم نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن میں موجود سب لوگوں کی دولت بیرونی بنکوں میں موجود ہے ،یہ سب ایک ہی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب اور حساب کتاب صرف گزشتہ دس سالوں کا نہیں بلکہ بیس سالوں کا ہونا چاہئے تاکہ مشرف کے دور میں جو کچھ ہوتا رہا ہے قوم کو اس سے بھی آگاہ ہو ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک کے حکمرانوں کا کوئی بنک اکائونٹ بیرونی بنکوں میں نہیں ہوتا اگر ایسا ہوتو وہاں کے عوام اسے سیاست میں حصہ لینے کا موقع ہی نہ دیں یا وہ عوامی احتساب سے خوف زدہ ہوکر خودکشی کرلے مگر پاکستان میں جو بھی اقتدار میں آتا ہے سب سے پہلے اپنا بنک اکاؤنٹ باہر کے کسی بنک میں کھولتا ہے تاکہ دولت کو لوٹ کر بیرون ملک منتقل کیا جاسکے۔

امیر العظیم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لگتا نہیں کہ حکومت اپنا وقت پورا کرسکے ،سابقہ حکومتوں نے اپنے پانچ سالہ دور میں جو ناکامی اور بدنامی سمیٹی تھی موجودہ حکومت نے پہلے دس ماہ میں ہی اس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے تبدیلی کے نعرے بھی لگا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی زبوں حالی اور اقتصادی تباہی کی فرد جرم سابقہ او ر موجودہ حکومتوں پر عائد ہوتی ہے ،سابقہ حکومتوں کے وزیروں مشیروں کو بغل میں بٹھا کر وزیر اعظم صاحب کس تبدیلی کا راگ الاپ رہے ہیں۔تقریب میں سینئر صحافیوں  نصراللہ ملک ،سجاد میر، ایثار رانا،امجد اقبال،خالد فاروقی،محسن گورایہ،رؤف طاہر،عابد تہامی،رضی الرحمان رضی،خالد شہزاد فاروقی، عبد المجید ساجد،اصغر عبد اللہ ،ذبیح اللہ بلگن،ایاز خان ، اجمل ستار ملک،فرخ شہباز وڑائچ،فاروق چوہان،لطیف چوہدری،امتیاز شاد،رانا تنویر قاسم،رضوان آصف،اعجاز حفیظ خان سمیت دیگر نے شرکت کی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور