مالی سال 20-2019: سندھ کیلئے 12 کھرب 18 ارب روپے کا بجٹ پیش

مالی سال 20-2019: سندھ کیلئے 12 کھرب 18 ارب روپے کا بجٹ پیش
مالی سال 20-2019: سندھ کیلئے 12 کھرب 18 ارب روپے کا بجٹ پیش

  


کراچی (این این آئی) سندھ حکومت نے نئے مالی سال 2019-20 کے لیے 12 کھرب 17 ارب 89 کروڑ 79 لاکھ روپے کا بغیر خسارے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ اخراجات کا تخمینہ 12 کھرب 17 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت سے صوبے کو 835 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے جبکہ صوبائی حکومت کے محصولات کا ہدف 355 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت سندھ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی مد میں 15 فیصد ایڈہاک اضافے اور محنت کشوں کی کم از کم ماہانہ اجرت 17ہزار 500 روپے مقرر کرنے اور محکمہ پولیس میں 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار بھرتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ میں غربت میں کمی کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے انتخابی وعدے کے مطابق ”پیپلز پرومس پروگرام“ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں تعلیم صحت اور امن و امان کے شعبوں اور سماجی ترقی کواولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔

وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے  آئندہ مالی سال 20-2019 کے لئے صوبے کا بجٹ میزانیہ سندھ اسمبلی میں پیش کیا۔ وزیراعلی سندھ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے وفاقی ٹرانسفرز کے 665.085 بلین روپے کے بجٹ تخمینہ سے 631.543 بلین روپے کی منظوری دی ہے، لیکن اس طرح کے دعوے گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اپنی مالی حیثیت کا جائزہ لینے میں ناکام رہی اور غلطی سے دو دن کے معاملات میں نظر ثانی شدہ وفاقی ٹرانسفارمرز کے دو مختلف اعداد و شمار کو مطلع کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ میں، سندھ کو فیڈرل ٹرانسفرز کے حساب سے صرف 492.135 بلین روپے وصول ہوئے اور یہ متوقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ کمی 117.527 بلین روپے تک پہنچ جائے۔سندھ اسمبلی میں صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ لگتا ہے کہ وفاقی حکومت نے کچھ اور ہی فیصلہ کیا ہوا ہے اپنی نا اہلی اور کام نہ کرنے کے رجحان کے ساتھ وفاقی حکومت نے جانتے بوجھتے پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کوخطرے کے نشان پر رکھ دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی تمام تر توانائیاں لوگوں کی خدمت کرنے پر صرف کر دی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کی کام میں عدم لچسپی دکھائی دیتی ہے کہ وہ اپنی محصولات کی وصولی کے اہداف کے حصول میں متواتر نا کام ہورہی ہے۔ 11 ماہ میں 447 ارب روپے کی ریکارڈ کمی کے ساتھ FBR کی کارکردگی گذشتہ سال کے دوران کم ترین سطح پررہی ہے نتیجے میں سندھ کو اس کے حصہ سے محروم رکھا گیا ہے اور وفاقی حکومت سے ہی حصہ نہ ملنے کی وجہ سے ہمیں 117.5 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ در حقیقت رواں مالی سال وفاقی حکومت نے اپنے سالان ترقیاتی پروگرام (ADP) میں سندھ کو مکمل نظر انداز کیا ہے سندھ کے لئے صرف 50 اسکیمیں رکھی گئی ہیں ہمیں ADP کا3.5 فیصد مل رہا ہے وفاقی حکومت کی سندھ اور اس کے عوام کے ساتھ کھلی دشمنی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے برعکس حکومت سندھ نہ صرف محصولات وصول کر رہی ہے بلک محصولات کی وصولی کے اہداف کوبھی عبور کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے اداروں اور وہ جو دیگر صوبوں میں ہیں کے برعکسSRBواحد محصولات وصول کرنے والا ادارہ ہے جو تواتر کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ 11-2010 کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکس وصولی فقط 16.6 ارب روپے تھی لیکن سندھ حکومت نے رفتہ رفتہ این ٹیکس وصولیوں اضافہ کیا اور سال 18-2017 کے دوران ہم نے 100 ارب روپیلس وصول کیا جبکہ آئندہ مالی سال 20-2019 کے لئے ہم نے ٹیکس وصولی کا ہدف 145.0 ارب روپے مقرر کیا ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نشاندہی کی ہے کہ وفاقی منتقلیوں کے بجٹ تخمینے کے مطابق 665.085 ارب روپے پرنظرثانی کر کے 631.543 ارب روپے کر دیا گیا ہے لیکن تمام دعوے گمراہ کن ہیں۔ وفاقی حکومت اپنی مالی حالت کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی ہے اور کچھ ہی دنوں میں غلطی سے دو مختلف نظر ثانی شدہ منتقلیوں سے متعلق اعدادوشمار سے صوبوں کو مطلع کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 11 ماہ میں سندھ نے وفاقی منتقلیوں کی مد میں صرف 492.135 ارب روپے وصول کئے ہیں۔ رواں مالی سال کے اختتام پر وفاقی منتقلیوں میں شارٹ فال 117.527 ارب روپے تک متوقع ہے۔ رواں مالی سال کے اختتام پر وفاقی منتقلیوں میں شارٹ فال 117.527 ارب روپے تک متوقع ہے۔ وفاقی حکومت آمدن بڑھانے میں ناقص کارکردگی کا الزام فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر عائد کر رہی ہے لیکن یہ بالکل عیاں ہے کے ڈھانچے میں اصلاحات لا نا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو اشیا پرسیلز ٹیکس وصول کرنے کی پیش کش کی تھی کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ اشیا پرسیلز ٹیکس صوبوں کو متتقل کرنے سے گوشواروں میں بلند ترین اضافہ ہوسکتا ہے جیسا کہ خدمات پرسیلز ٹیکس کے معاملے پر کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تو میں مالیاتی ایوارڈ پراتفاق رائے پیدا کر نے کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں کیا۔ ایوارڈ کے اعلان میں تاخیرصوبوں کے حقوق کی قیمت پر کی گئی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی آمدن کے اہداف 243.082 ارب روپے سے نظر ثانی کر کے 240.746 ارب روپے کردیئے گئے ہیں اس کے نتیجے میں تخمینہ شدہ کٹر کی رقم 1.123 ٹریلین روپے کے مقابلے میں رواں مالی سال میں نظر ثانی شدہ وصولیاں 940.777 ارب روپے تک رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وصولیوں میں کمی کے باعث ہم نے اپنے ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی ہے جو کہ رواں مالی سال میں 172.941 ارب روپے تک رہے ہیں۔ یہ ہمارے اہداف حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوا ہے۔متعددتر قیا تی منصوبوں جو کہ مل کئے جا سکتے تھے، تم کی عدم موجودگی کے باعث تاخیر کا شکار ہو چکے ہیں۔

انھوں نے مزید کہاکہ اسی طرح رواں آمدن کی مد میں تخمینہ 773.237 ارب روپے پرنظر ثانی کر کے 751.752 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ رواں آمدن کی مد میں کی بنیادی طور پر انتہائی سادگی کے اقدامات اور تخت مال نظم و ضبط کے بنا پر ہوئی ہے۔ مالی سال 19-2018 کے دوران انتظامی اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔ محکموں کی مرتی اور دیکھ بھال کے اخراجات کی بجٹ میں خاطر خواہ کی کر کے 30. 8 ارب روپے سے 26.8 ارب روپے کر دی ہے۔ انتظامی امور کے اخراجات کی مد میں چوھی سہ ماہی کے بجٹ کا جزوی حصہ جاری کیا گیا ہے۔ تمام مالی مشکلات کے با و جو ہم نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کوشش کی ہے کہ صحت او تعلیم کی سہولیات کیلئے خاطر خواہ بجٹ مختص کی جائے۔ ہم نے سماجی شعبہ کے اداروں کی گرانٹس میں بڑی کھی کرنے سے گریز کیا ہے ہم نے ایس آئی یو ٹی (SIUT)، انڈس ہاسپٹل، ہیڈز (HANDS)،امن فانڈیشن اور سندھ ایجوکیشن فانڈیشن وغیرہ جیسے اداروں کی بہتری کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ ان اقدامات کے باعث ہم اپنے اخراجات کے تخمینے پر نظر ثانی کرنے کے قابل ہوئے اور 1. 144ٹریلین روپے پر نظر ثانی کر کے 956, 779 ارب روپے گئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ اس کے نتیجے میں رواں مالی سال میں متوقع خسارہ 20.457 ارب روپے کے مقابلے میں 16 ارب روپے رہے گا۔ میں ایک مرتبہ پھر اس بات کا اظہار کر رہا ہوں کہ بروقت اخراجات میں کی اور سادگی کے اقدامات اپنانے کی وجہ سے ہم خسارہ کم کرنے کے قابل ہوئے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ 2019-20میں صوبے کی وصولیوں کا تخمینہ 1.218ٹریلین روپے ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ1.217 ٹریلین روپے ہے۔ وفاقی منتقلیوں کے طور پر صوبے کو 835.375 ارب روپے وصولی کی توقع ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ہونے والی وصولیاں کل وصولیوں کا 74 فیصد ہیں۔ وفاقی حکومت اپنے اہداف کی وصولی میں ناکام رہی ہے۔ ہم نے وہی اعدادوشمار مد نظر رکھے جو وفاقی حکومت کی جانب سے ہمیں بتائے گئے۔ ہم زور دے کر یہ بات کہ سکتے ہیں کہ وفاقی حکومت اپنے ابدان اس وقت تک حاصل نہیں کر سکے گی جب تک وہ بڑیپیمانے پر تبدیلیاں متعارف نہ کرائے۔ وفاقی اپنے اہدان میں ناکامی کی وجہ سے صوبائی حکومت کو اگلے مالی سال 20-2019 میں مالی مشکلات کا سنا کرنا پڑے گا۔ ہماری اپنی صوبائی وصولیاں رفتہ رفتہ بڑھ رہی ہیں اور اگلے مالی سال کے لئے صوبائی محصولات کا ہدف 243.082 ارب روپے سے بڑھ کر 355.4 ارب روپے ہو گیا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ موجود محصولات کی سائڈ پر اخراجات کے بجٹ کا تخمینہ 870.217 ارب روپے لگایا گیا ہے جو کہ موجودہ مالی سال کی ایلوکیشن 773.237 ارب روپے پر 12.5 فیصد اضاف کو ظاہر کرتا ہے۔ اخراجات میں 12 فیصد کا اضافہ بنیادی طور پر ملازمین سے متعلق اخراجات کا ہے۔ جس سے کسی طورصرف نظرنہیں کیا جاسکتا۔بالکل اسی طرح بڑھتی ہوئی یو ٹیلی ٹیز کے اثرات کو جذب کیا گیا ہے۔ شدید سادگی (Austerity) کی ہماری یہ پالیسی اگلے مالی سال میں بھی جاری رہے گی۔ ہم نے اپنے جاری مصارف میں نمایاں کٹوٹیاں کی ہیں تاہم سا ہی شعبوں پر اس کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تا کہ ہم اپنے وہ اہداف حاصل کرسکیں جو کہ ہم نے مجموعی نمو، ملازمتوں کی تخلیق اور اپنے عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لئے متعین کئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں اپنے چیلنجز،کا میابیوں اور مستقبل کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ (14-2013 سے18-2017)تک کے گزشتہ مالی سالوں کے دوران حکومت سندھ نے صوبے کی مجموعی ترقی کے لئے سماجی، معاشی اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں بڑی رقوم خرچ کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے پائیدار ترقی کے لئے جن اہداف (SDGs) کو اختیار کیا وہ بھی منعکس ہوتے ہیں۔ حکومت نے اچھی صحت، اچھا رہن سہن، معیارییم، صاف پانی اور بہتر نکاسی،صاف اور قابل استطاعت توانائی ستھرا کام اور معاشی نموادرسی مساوات اور موسمیاتی عمل کو اپنے اہم اہداف کی حثیت سے ترجیحی طور پر تعین کیا ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اس سال اگست 2018 میں اپنا عہد ہ دوبارہ سنبھالنے کے بعد مالی دشواریوں اور سال کی پہلی سہ مائی میں منتقلیوں کے باعث ترمیم کرنے کی غرض سے صوبائی اے ڈی پی کا سائز 252 ارب روپے سے کم کر کے 223 ارب روپے کیا۔ غیریقینی کی صورتحال ترقیاتی سرمائے پر متعدد طریقوں سے اثر انداز ہوئی اور مجموئی سرمائے (KITTY) میں تحقیق کے باعث منصوبوں کی بروقت تکمیل پر بھی اثر پڑا۔ چنانچہ محکمہ خزانہ (3 جون 2019 تک) تر قیاتی پورٹ فولیو کی تمام مدات (Heads) میں 130 ارب روپے جاری کر سکا۔ صوبائی اے ڈی پی کی مد میں اب تک 125.18 ارب روپے جاری ہوئے۔ اس مجموی اجرا کے مقابل جون 2019 کے اختتام تک مجموعی اخراجات کا تخمین تقریبا110 ارب روپے متوقع ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جاری کی گئی رقوم سے کم اخراجات ہوئے لیکن ایسا سال بھر ہونے والی جاتی اور غیر این صورتحال کے باعث ہوا۔ اس صورتحال کے با و جو وتوقع ہے کہ جون 2019 تک سو پانے 453 کاری میں مکمل کر لیں گے۔وزیراعلی سندھ نے وفاقی حکومت کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں سندھ سے ہونے والی نا انصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی پی ایس ڈی پی مجموعی طور پر 951.0 ارب روپے ہے جس میں 127 ارب روپے فارن پراجیکٹس استنس(FTA) کے شامل ہیں۔ مذکورہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے 50 جاری اور نئے منصوبوں کے لئے 33.3 ارب روپیمختص کئے گئے تھے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی 20-2019 میں شامل مجموئی منصوبوں میں سے سندھ کے 12 منصوبوں کے لئے صرف 4.89 ارب روپے رکھے گئے جبکہ بلوچستان سال 19-2018میں 15.0 ارب روپے اور 18-2017 میں 27.3 ارب روپے مختص کئے گئے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کراچی کی ترقی سے متعلق یہ یاد رکھا جائے کہ وزیراعظم نے 30 مارچ 2019 کو 162 ارب روپیکے کراچی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ 12.1 ارب روپے کی لاگت کی 19 اسکیمیں شامل تھیں۔ جبکہ کرائی کی ہی6 نئی اسکیموں کے لئے صرف 3.9 ارب روپخت کئے گئے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ تعلیم سے کسی بھی فرد، معاشرے اور ریاست کی مجموعی ترقی کو جانچا جاتا ہے۔ یہ وہ بنیادی چٹان ہے جس پر خوشحالی اور انسانی ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے تعلیم انسانوں کو اعلی ظرف بنائی اور برداشت، رواداری،سماجی انصاف اور جمہوری رویوں کوفروغ دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے لئے وسائل مخت کرتیوقت اسے تمام دیگر شعبوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔اگلے مالی سال20-2019 کے لئے اسکول ایجوکیشن میں غیر ترقیاتی بجٹ سال 19-2018کے170.832 ارب روپے سے بڑھا کر 178.618 ارب روپے کیا جارہا ہے۔ جبکہ تر قیاتی اخراجات کی مد میں اے ڈی پی 20-2019 کے لئے 15.15 ارب روپے کئے گئے ہیں۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہم نے مشاورتی عمل کے ذریعے سندھ کے تعلیمی شعبے کا منصوبہ اور روڈ میپ (20-2019) تیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں سول سوسائٹی، دانشوروں اور علم فقل رکھنے والوں کو ساتھ لیا گیا کیوں کہ وہ مادی ترقی میں برابر کے حصے دار ہوتے ہیں۔ شعبے کے نئے منصوبے کا فوکس اسکولوں میں نئے داخل ہونے والوں کے لئے اضافی کمرہ ہائے جماعت (کلاس رومز) پینے کے صاف پانی، بیت الخلا اور چار دیواری کی سہولیات کی فراہمی پر رکھا گیا ہے تا کہ طالب علموں بالخصوص لڑکیوں کو شفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو خاص ترین دیتے ہوئے لڑکیوں کو ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات کی فراہمی کے لئے مناسب فنڈز کی تجویز ہے تا کہ دیہی علاقوں کے اسکولوں میں طالبات کی کمی کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔ ہم نے سکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کو لیں نظام کے تحت لانے کے لئے بھی اقدامات کئے ہیں اس سلسلے میں دائر یکٹوریٹ آف لٹری اینڈ نان فارل ایجوکیشن کوخصوصی فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں تا کہ وہ کمیونٹی کی بنیاد پر انجمنوں (CBOs) کے ساتھ شراکت کے ذریعے ٹیوٹر مہیا کریں جبکہ حکومت شام کے اوقات میں اسکول کی عمارت مہیا کرے۔ سی پی اوز (کمیونٹی کی بنیاد پر انجمنوں) کوئی بچہ کی بنیاد پر انتظامی اخراجات ادا کئے جائیں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ سکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے سرکاری نجی شراکت کے نوڈ (NODE) کو فروغ دینے کے لئے ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشن (EMOs) کے ساتھل کر طالب علموں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ہماری توجہ کا ایک اور میدان تعلیم نونہالان (Early Childhood Education) ہے۔ سندھ نے دیگر صوبوں پر سبقت لیتے ہو تعلیم بنگہداشت نونہالان Childhood care and Education)) کی پالیسی منظور کی ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اگلے مالی سال میں ترقیاتی کاموں کے لئے 283.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں صوبائی اور ضلعی اے ڈی پی کے 228 ارب روپے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ واضح طور پر سمجھتی ہے کہ ترقی وسط مدتی اور طویل المدتی حکمت عملی کی متقاضی ہوتی ہے جس کے لئے تمام اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل کا درست طریقہ کرنا بھی نہایت ضروری ہے چنانچہ اب اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے زیر کھیل اسکیموں کو سال بہ سال بلا تاخیر رقوم کی فراہمی ضروری ہے۔

تا کہ ہم اپنے وہ اہداف حاصل کرسکیں جو کہ ہم نے مجموعی نمو، ملازمتوں کی تخلیق اور اپنے عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لئے متعین کئے ہیں۔ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں اپنے چیلنجز،کا میابیوں اور مستقبل کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ (14-2013 سے18-2017)تک کے گزشتہ مالی سالوں کے دوران حکومت سندھ نے صوبے کی مجموعی ترقی کے لئے سماجی، معاشی اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں بڑی رقوم خرچ کی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے پائیدار ترقی کے لئے جن اہداف (SDGs) کو اختیار کیا وہ بھی منعکس ہوتے ہیں۔ حکومت نے اچھی صحت، اچھا رہن سہن، معیارییم، صاف پانی اور بہتر نکاسی،صاف اور قابل استطاعت توانائی ستھرا کام اور معاشی نموادرسی مساوات اور موسمیاتی عمل کو اپنے اہم اہداف کی حثیت سے ترجیحی طور پر تعین کیا ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اس سال اگست 2018 میں اپنا عہد ہ دوبارہ سنبھالنے کے بعد مالی دشواریوں اور سال کی پہلی سہ مائی میں منتقلیوں کے باعث ترمیم کرنے کی غرض سے صوبائی اے ڈی پی کا سائز 252 ارب روپے سے کم کر کے 223 ارب روپے کیا۔ غیریقینی کی صورتحال ترقیاتی سرمائے پر متعدد طریقوں سے اثر انداز ہوئی اور مجموئی سرمائے (KITTY) میں تحقیق کے باعث منصوبوں کی بروقت تکمیل پر بھی اثر پڑا۔ چنانچہ محکمہ خزانہ (3 جون 2019 تک) تر قیاتی پورٹ فولیو کی تمام مدات (Heads) میں 130 ارب روپے جاری کر سکا۔

صوبائی اے ڈی پی کی مد میں اب تک 125.18 ارب روپے جاری ہوئے۔ اس مجموی اجرا کے مقابل جون 2019 کے اختتام تک مجموعی اخراجات کا تخمین تقریبا110 ارب روپے متوقع ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جاری کی گئی رقوم سے کم اخراجات ہوئے لیکن ایسا سال بھر ہونے والی جاتی اور غیر این صورتحال کے باعث ہوا۔ اس صورتحال کے با و جو وتوقع ہے کہ جون 2019 تک سو پانے 453 کاری میں مکمل کر لیں گے۔وزیراعلی سندھ نے وفاقی حکومت کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں سندھ سے ہونے والی نا انصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی پی ایس ڈی پی مجموعی طور پر 951.0 ارب روپے ہے جس میں 127 ارب روپے فارن پراجیکٹس استنس(FTA) کے شامل ہیں۔ مذکورہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے 50 جاری اور نئے منصوبوں کے لئے 33.3 ارب روپیمختص کئے گئے تھے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی 20-2019 میں شامل مجموئی منصوبوں میں سے سندھ کے 12 منصوبوں کے لئے صرف 4.89 ارب روپے رکھے گئے جبکہ بلوچستان سال 19-2018میں 15.0 ارب روپے اور 18-2017 میں 27.3 ارب روپے مختص کئے گئے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کراچی کی ترقی سے متعلق یہ یاد رکھا جائے کہ وزیراعظم نے 30 مارچ 2019 کو 162 ارب روپیکے کراچی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ 12.1 ارب روپے کی لاگت کی 19 اسکیمیں شامل تھیں۔ جبکہ کرائی کی ہی6 نئی اسکیموں کے لئے صرف 3.9 ارب روپخت کئے گئے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ تعلیم سے کسی بھی فرد، معاشرے اور ریاست کی مجموعی ترقی کو جانچا جاتا ہے۔ یہ وہ بنیادی چٹان ہے جس پر خوشحالی اور انسانی ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے تعلیم انسانوں کو اعلی ظرف بنائی اور برداشت، رواداری،سماجی انصاف اور جمہوری رویوں کوفروغ دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے لئے وسائل مخت کرتیوقت اسے تمام دیگر شعبوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔اگلے مالی سال20-2019 کے لئے اسکول ایجوکیشن میں غیر ترقیاتی بجٹ سال 19-2018کے170.832 ارب روپے سے بڑھا کر 178.618 ارب روپے کیا جارہا ہے۔ جبکہ تر قیاتی اخراجات کی مد میں اے ڈی پی 20-2019 کے لئے 15.15 ارب روپے کئے گئے ہیں۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہم نے مشاورتی عمل کے ذریعے سندھ کے تعلیمی شعبے کا منصوبہ اور روڈ میپ (20-2019) تیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں سول سوسائٹی، دانشوروں اور علم فقل رکھنے والوں کو ساتھ لیا گیا کیوں کہ وہ مادی ترقی میں برابر کے حصے دار ہوتے ہیں۔ شعبے کے نئے منصوبے کا فوکس اسکولوں میں نئے داخل ہونے والوں کے لئے اضافی کمرہ ہائے جماعت (کلاس رومز) پینے کے صاف پانی، بیت الخلا اور چار دیواری کی سہولیات کی فراہمی پر رکھا گیا ہے تا کہ طالب علموں بالخصوص لڑکیوں کو شفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو خاص ترین دیتے ہوئے لڑکیوں کو ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات کی فراہمی کے لئے مناسب فنڈز کی تجویز ہے تا کہ دیہی علاقوں کے اسکولوں میں طالبات کی کمی کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔ ہم نے اسکول سے باہر رہ جانے والے بچوں کو لیں نظام کے تحت لانے کے لئے بھی اقدامات کئے ہیں اس سلسلے میں دائر یکٹوریٹ آف لٹری اینڈ نان فارل ایجوکیشن کوخصوصی فنڈز فراہم کئے جارہے ہیں تا کہ وہ کمیونٹی کی بنیاد پر انجمنوں (CBOs) کے ساتھ شراکت کے ذریعے ٹیوٹر مہیا کریں جبکہ حکومت شام کے اوقات میں اسکول کی عمارت مہیا کرے۔ سی پی اوز (کمیونٹی کی بنیاد پر انجمنوں) کوئی بچہ کی بنیاد پر انتظامی اخراجات ادا کئے جائیں گے۔

نھوں نے کہا کہ موثر نگرانی اور شواہد کی بنیاد پر منصوبہ بندی کے لئے اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ نے جنوری فروری 2019 میں تمام سرکاری اسکولوں کی ٹیکنالوی کے استعمال کے ذریعہ مردم شماری کی ہے۔ اب ہمارے پاس وہ ڈیٹا موجود ہے جس کی بنیاد پر نہ صرف بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس کے ذریعے ہم اپنے وسائل بہتر طریقہ سے استعمال بھی کر سکیں گے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اسکول ایجوکیشن کے تحت 19-2018 میں بلند تر بچی کے حامل 4560 اسکولوں کی تزئین و آرائش پر زور دیا گیا ہے۔ ایسے اسکول جن میں زیادہ انرولمنٹ ہے وہاں کلاس رومز کی مناسب سہتیں، واش رومز، پانی،بجلی اور ضروری تدریکی اسٹاف کی فراہمی کے ذریع تدریسی ماحول کو بہتر کر کے مزید انرجمنٹ کے مواقع پڑھائے جانے کے اقدامات کر کے کہ سکول ایجوکیشن جون 2019 تک 1437 یونٹ مکمل کر لے گا۔ مزید 1973 سرکاری اسکولوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور مزید 367 سکولوں کو پینے کا صاف پانی ایک نئی ترقیاتی اسکیم کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سکول ایجوکیشن پورٹ فولیو کے تحت 279 اسکیموں کے لئے 15.15 ارب روپے (188 جاری اور91نی اسکیموں منتقل کئے گئے ہیں۔

نئے مالی سال کے لئے مزید بڑے اقدامات یہ ہیں: (1) سائبان سے محروم 20 پرائمری سکولوں کے لئے 6 کمروں کی عمارت کی تعمیر۔ (2) زیادہ ا نرولمنٹ رکھنے والے 113 مخدوش پرائمری سکولوں کی ز میں، مرمت (بمع اضافی کمرہ ہائے جماعت اور غیر موجود سہولتوں کی فراہمی) (3) موجودہ ہائی سکولوں میں تبدیلی کر کے 35اڈل سکول کمپلیکس کا قیام مع ان سکولوں کے فیڈر پرائمری سکولوں کو سیکھنے کے بہتر مراکز میں تبدیلی کی اسکیم۔ (4) بلندترجیح کے حامل 4560 اسکولوں میں پرائمری اور سیکنڈری سکول کی 42 اسلیم ہیں جن میں 1772 سکول شامل ہیں سال 20-2019 میں مکمل ہوں گی۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ ایجوکیشن فانڈیشن (SEF) نے رسائی کے ضمن میں ایک بڑا کارنامہ((Break through)اس وقت انجام دیا جب اس ادارے نے تین سال کی ریکارڈ مدت میں انرولمنٹ کو 256000 سے بڑھا کر 550000 (100 فیصد) کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ اگلے مالی سال 20-2019 کے لئے سندھ ایجوکیشن فانڈیشن کے بجٹ کے لئے ہم 9.597ارب روپے ختم کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اگلے مالی سال 20-2019 میں کا بج ایجوکیشن کے لئے غیر ترقیاتی بجٹ سال 19-2018 کے15.777 ارب روپے سے بڑھا کر 18.094 ارب روپے کیا جارہا ہے جبکہ ترقیاتی مد میں اے ڈی پی2019-20 میں 4ارب رد پیش کئے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 2019-20 کے اے ڈی پی میں محکمہ کا ایجوکیشن کے لئے بڑے ترقیاتی اقدامات یہ ہیں: (1) * 17 نئے کالجوں کے قیام کا منصوب جن میں کراچی (ضلع کورنگی ضلع ملیر ضلع غربی) جبکہ حیدر آباد،عمرکوٹ مکھر، جامشورو، شکار پور، جیکب آباد اور سانگھڑ کے اضلاع بھی شامل ہیں۔(2) مختلف اضلاع میں موجود کالجوں میں تعمیر و مرمت و بحالی اور فرنیچر کی فراہمی کی متعدد اسکیمیں۔ (3) 20-2019 میں گڈاپ اور پنوں عاقل کے کیڈٹ کالجز میں غیر موجود سہولتوں کی فراہمی کے لئے اسکیمیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ 2019-20 میں محکمہ یو نیورسٹیز اور بورڈ کے غیر ترقیاتی بجٹ کی رقم (Allocation) مالی سال2018-19 کے 9.529ارب روپے سے بڑھا کر 10.585 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے یونیورسٹیوں اور بورڈز کے لئے مالی سال 20-2019 کے لئے 3 ارب روپیمختص کئے ہیں۔ جن سے ہائر ایجوکیشن سے متعلق متعدد اقدامات کے لئے رقم فراہم کی جائے گی۔ جیسا کہ(1) سکھر BAایو نیورٹی میں سینئر آف رو بینکس، مصنوعی ذہانت Artificial Intelligence))اور بلاک چین۔ مرکز کا قیام (2) NED کیمیں تھرپارکر میں تھر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا قیام۔ (3) بدین اور میر پور خاص میں سندھ یونیورسٹی کیمپس کا قیام۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ صحت کا شعبہ سندھ حکومت کی اعلی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس ضمن میں سال بہ سال مدافعتی پروگراموں کے لئے قابل لحاظ رقم خرچ کی گئی ہے۔ بنیادی صحت کے پروگرام کو PPH1 کے دارای تند کیا گیا ہے۔متعدد بڑے صحت کے اداروں / ہسپتالوں کو گرانی اور ترقیاتی رقوم کے ذریے فنڈ فراہم کئے گئے ہیں جن میں ایس آئی یوئی (SIUT)، انڈس ہاسپٹل، جے آئی ایم ایس (JIMS)، جے پی ایمی (JPMC)، این آئی سی او (NICH)، این آئی سی وی ڈی (NICVD) معہ کراچی میں اس کے 8 سپلانٹ اور 9 موبائل چیسٹ پین پینٹس شامل ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ صحت کے موجود محصولاتی اخراجات (Revenue Expenditure) ما سوال می کنیم،رواں مالی سال 19-2018 کی رقم 96.8 ارب روپے سے بڑھا کر 19 فیصداضا نے کے ساتھ مالی سال 2019-20 کے لئے 114.4 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مالی سال 19-2018 کے لئے 13.5 ارب روپے 170 اسکیموں کے لئے مختص کئے گئے تھے اور 3جون 2019 تک جاری کئے گئے 8.01 ارب روپے میں سے 4.61 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ 12 اسکیمیں 2019 تک مکمل کئے جانے کی توقع ہے جو معیاری صحت، خدمات تک رسائی کو بہتر بنائیں۔انہوں نے گذشتہ مالی سال کے دوران حکومت سندھ کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت یونیورسٹی میدیکل کاری اور غلام محمد میڈیکل کا بے ہسپتال سکھر میں 50 بستروں کے میڈیکل اور سرجیکل آئی سی یو، شعبہ حادثات اور او پی ڈی(OPD) کے شعبوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ نظام صحت کو کم کرنے اور نگرانی اور نگہداشت کے نظام کا یو ایس ایڈ (USAID) کے تعاون سے آغاز اور بہتر گورنس کے لئے ہیلنجمنٹ انفارمیشن سسٹم (HMIS) وضع کیا گیا ہے۔ایس آئی یونٹی میں متعدد دیگر شعبوں جیسے پیڈیاٹرکس، کارڈیالوجی میں خدمات کی فراہمی کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سینیٹرز کی تعداد کو بڑھا کر 2768 کردیا گیا ہے اور 1733 دی سینیٹرز کی ریکروٹمنٹ کا عمل جاری ہے۔ ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تحت 350 ٹی بی DOTS کلینکس قائم کئے گئے ہیں جبکہ ٹی بی اور ادویات کی دو گھنٹوں میں تشخیص کے لئے پیک سیکر فیسیلیٹیز میں 110 مشینوں کی تنصیب کی گئی ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اے ڈی پی 20-2019 کے لئے اس شعبے کے لئے رواں مالی سال کے مطابق  13.50 ارب روپے فراہم کئے جارہے ہیں۔ بڑے اہداف میں سی ایم سی ہاسپٹل لاڑکانہ کے مختلف شعبوں کے لئے 600 ملین روپے کی لاگت سے مشینوں اورآلات کی فراہمی،دماغی صحت کی خدمات میں بہتری کے لئے 275.000 ملین روپے کی لاگت سے کمیونی مینٹل ہیلتھ پروگرام،جامشورو میں جانکا(JICA) کے تعاون سے زچہ و بچہ کی صحت کے نگہداشت کا مرکز،پی پی پی (PPP) فریم ورک کے ذریعے یا ترقیاتی رقوم کی فراہمی کے ذریے گھر میں 200 بستروں کے ہسپتال کا منصو بہ شامل ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ 20-2019 کے دوران 43 اسکیموں کے مکمل ہونے پر تمام شعبوں کی خدمات میں یقینی بہتری آئے گی۔ جن میں امیونائز یشن،AIDS با مانشس ہلیریا، ٹی بی کنٹرول، بلائنڈ ئس کنٹرول، و غیرہ شامل ہیں اس مقصد کے لئے 4.08ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے مشاورت اور ہسپتالوں کے تبادلے کے میکنزم کو وضع کئے بغیر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکوارڈزیزز NICVD، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (NICH) کا کنٹرول لینے کا نو نیکیشن جاری کر دیا اس فیصلے نے غیریقینی اور ابہام کی صورتحال پیدا کر دی جس سے خدمات کی فراہمی کا نظام متاثر ہوا۔ وزارت خدمات قومی صحت کو صوبائی حکومت کے ساتھ لے کر ابتدا میں ہی مکینزم بنانے کے لئے اجلاس کرنے ان میں صوبائی حکومت سپریم کورٹ میں پہلے ہی ایک نظر ثانی کی پٹیشن دائر کر چکی ہے اور توقع ہے کہ ہمارے کنٹری بیوشن کوتسلیم کیا جائے گا اور ایک موافقت نتیجہ آئے گا۔

صوبائی حکومت نے ان تین صحت کی سہولتوں (Health Facilities) کے لئے تھا بل لحاظ رقوم خرچ کی ہیں اور ہمارے کچھ منصوبے پائپ لائن میں ہیں صوبائی حکومت نے سخت محنت کرتے ہوئے اور بڑے عزم کے ساتھ ہے پی ای سی، این آئی سی وی ڈی اور این آئی کی رات کو شاندار اداروں میں تبد میں کیا اور اس مقصد کے لئے بجٹ میں گرانقد رقوم ان کی بہتری اور توسیع کے لئے ختم کیں۔ یہاں میں نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ ہم نے کسی حد تک ان اداروں کے وسائل میں اضافہ کیا۔ میں آپ کو صرف NICVD کی مثال پیش کرنا چاہوں گا کہ جب وفاقی حکومت نے اسے ہمارے حوالے کیا اس وقت 12-2011 میں اس کے لمختف تم Allocation)355 ملین روپھی جبکہ ہم نے اس ادارے کے فنڈز میں اضافہ کیا اور 19-2018 میں یہ رقم بڑھتے ہوئے 8.876 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہماری حکومت دل کی بیماریوں کے علاج کی خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس سلسلے میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈزیززنے قابل تحسین خدمات انجام دی ہیں اور یہ ہارٹ اٹیک کے علاج اور پرائمری اس جو پانی کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہے کہ سندھ کے عوام کو ان کی دہلیز پر بروقت اور برک عارضہ قلب سے بچا کے لئے بالکل مفت خدمات مہیا کر رہا ہے اس کی خدمات میں سے چند کی نشاندہی میں کرنا چاہوں گا۔ پہلے کراچی میں سینے کے درد کے 6 فعال تھے۔ اس سال ہم نے کراچی میں تین نے مراکز کا اضافہ کیا ہے کہ اپنی نوعیت کی منفردسرول ہے جو کہ پورے سال اور 24/7 گھنٹے مہیا کی جارہی ہیں۔ سینے کے درد کے پیٹ کا قیام تیز تر رسائی اور شخص کے ساتھ ساتھ ابتدائی اور فوری علاج کی فراہمی کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے ٹنڈو محمد خان، لاڑکانہ، حیدر آباد اور سہون میں NICVD کے سیٹلائٹ سینٹرز سندھ حکومت کے اشتراک سے پہلے ہی قائم کر دئے ہیں۔ اس سال ہم نے خیر اور بکھر مٹی اور نواب شاہ میں NICVD کے سیٹلائٹ سینٹرز قائم کئے ہیں۔ یہ جدیدترین آلات سے مرصع کارڈیک سینٹرز 24/7 اور 100 فیصد مفت فوری نگہداشت کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں جہاں بین الاقوامی اور مقامی تربیت یافتہ ماہرین امراض قلب، پیرامیڈیکل عملہ اور سیشن موجود ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہم نے جے پی ایم سی میں انفراسٹراسکچر اور خدمات کی فراہمی کو بھی بہتر بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جے پی ایم سی کا ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ اور اس کا سائبر نائف پراجیکٹ پہلے ہی فعال ہے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ صوبائی حکومت ان اداروں کو بہت بہتر انداز میں چلا رہی ہے کیونکہ ہم ان سے بہت قریب ہیں۔ اس لئے سندھ حکومت کو اجازت دی جائے کہ وہ ان اداروں کو اپنے انتظامی کنٹرول میں رکھ کر مزید ترقی دے سکے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ تجربہ کار اور پیشہ ور انتظامیہ کے ساتھ بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے پی پی پی سے نکلنے والی معروف شراکت دار ہیں جیسے کہ ہینڈز (HANDS)، انٹیگریٹڈ سروسز، میڈیکل ایرانی ریلیز فانڈیشن اورانڈس اسپتال کو ہماری حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لئے صحت کی سہولیات حوالے کی ہیں تا کہ سندھ کے لوگوں کو علاج معالجہ کی بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، گمبٹ ضلع خیرپور میرس میں فراہم کردہ جگر کی پیوند کاری کی خدمات کے معیار کو دیکھتے ہوئے عوامی حکومت نے مالی سال 20-2019 میں اسکی گرانٹ میں 60 فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے 2 ارب روپے سے بڑھا کر 3.6 ارب روپے کر دی ہے۔صوبے کے لوگوں کیلئے امراض خون کے علاج کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی حکومت نے مالی سال 20-2019 میں اس کے لئے 500ملین رو پخش کئے ہیں۔HIV/AIDS سے متاثرہ افراد کی فلاح و بہبود کے لئے ایک ارب روپے کی مالیت سے انڈومنٹ فنڈنے مالی سال 20-2019 کے لئے ختم کیا ہے۔ حکومت سندھ SIUT کو5.6 ارب روپے بطور گرانٹ اگلے مالی سال (20-2019) میں فراہم کرے گی تا کہ بیا پنی خدمات کراچی میں جاری رکھ سکے اور دوسرے شہروں میں نئے اقدامات لے سکے۔وزیراعلی سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ امن و امان کی صورتحال کا براہ راست تعلق لوگوں کی سماجی اور اقتصادی ترقی سے ہے۔ امن و امان اچھی طرز حکومت کا ایک اہم جزو ہے۔ امن وامان کو ہمیشہ ترجیح دی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پچھلے چند سالوں میں امن وامان کی صورتحال میں بہت بہتری آ گئی ہے۔ حکومت سند حکمہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خاطر خواہ وسائل فراہم کرتی رہتی ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پر امن و امان اور دہشت گردی جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی استعداد کار میں اضافہ کریں۔ امن وامان کی صورتحال قابو میں رکھنے کے لئے ہم نے تین مختلف حکمت عملی اپنائی جس میں تربیت کے ذرین افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانا، جدید ٹیکنالو جی کا استعمال بالخصوص IT کا استعمال کرتا اور فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت پانے والے یا زمی ہونے والوں کو خدمات کا اعتر اف کرتا ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ غیر ترقیاتی بجٹ میں امن وامان کے شعبہ کے لئے 100.483 ارب روپے سے بڑھا کر مالی سال2019-20 میں 109.788 ارب روپ مختص کئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں اہم سنگ میل عبور کئے گئے ہیں،جن میں سندھ بھر میں دفاتر اور پولیس تھانوں میں IT Labsاور پورنگ کردوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔مختفی کرد و یکی از اولین روپے سے سیکیورٹی فورسز کے شہدا اور میں ہونے والوں کو معاوضہ کی اورا نیگی کی گئی۔ 661ملین روپے کی لاگت سے پاک آرمی ٹریننگ سینٹرز میں نے بھرتی ہونے والے پولیس کا ٹیلر کو تربیت فراہم کی گئی۔غیرمعمولی خدمات انجام دینے والے پولیس افسران کو نقد انعامات دیے گئے ہیں۔ ڈویز ملنے پر پانی سہولت مراکز قائم کئے جائیں گے جہاں عام آدمی کے چال چلن کی تصدیق کی جائے گی۔ علاوہ ازیں قیمتی اشیا کی گمشدگی کی رپورٹ، موقع پر جرم ہونے کی شکایت، گمشدہ بچوں، گھریلو تشدد، گاڑی کی چوری وغیرہ جیسے معاملات کے حل کے لئے آئیں گے۔ یہ منصوبہ سندھ پولیس کا اہم کارنامہ ہو گا۔ 3690 پولیس اہلکاروں کو NTS کے ذریعے بھرتی کیا گیا ہے۔ جبکہ 4507 پولیس اہلکاروں کو بھرتی کرنے کا عمل جاری ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے آلات کوئی اور جدید ٹیکنالوی سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔مالی سال 20-2019 کے لئے کی بڑی تعداد میں درج ذیل سکیمیں تجویز کی گئی ہیں کانٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (CTD) کو از سر نوتشکیل دینے کے لئے اور ایک پیشہ ورانہ صلاحیت سیمعمور ہو اور عین مطابق ہو۔عوام الناس کی با آسانی رسائی کے لئے سندھ پولیس آئندہ مالی سال 20-2019 میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 259 اضافی رپورٹنگ رومز قائم کرے گی۔ بجٹ 20-2019 میں مختلف گریڈز کی 3 ہزاراسامیاں پیدا کر نے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تا کہ سندھ پلیس فورس کے بجٹ میں حقیقی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ نے ترقیاتی بجٹ 20-2019 میں ساری تحفظ اور تخفیف غربت پروگرام کے لئے 12.3 ارب روپے مختص کئے ہیں جس کے تحت 3 اہم پروگرام زیرغور لائے جائیں گے۔ (1) پیپلز پا رٹی ریگیشن پروگرام PPRP (2) پاورٹی ریکشن اسٹرابی (PRS) اور سوشل پر دیکشن ایکسیلیر بیٹڈ ایکشن پلان کے جاری پروگرام میں غذائیت کے معیار کو بہتر بنانے اور نشوونما میں رکاوٹ بننے والے عوامل کے تدارک کے لئے بینہایت بارآور ثابت ہوں گے۔ جیسا کہ ایوان کو بھی معلوم ہے کہ PPRP جو کہ پہلے Cں کا پاور ڈی ریڈکشن پروگرام (UCBPRP) تھابتدا میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شکار پور اور شعور، کندھ کوٹ میں شروع کیا گیا تھا جسے بعد میں تھر پارکر اور جیکب آبادتک وسعت دی گئی ہے۔ گذشتہ سال سے اسے 6 مزید اضلاع خیر پور، سانگھڑ، بد ین بھٹھہ عمرکوٹ اور میر پور خاص تک اضافہ کیا گیا ہے۔ EUنڈزSUCCESS پروگرام کی 62.0 ملین یورو کی مالی معاونت کے ذریعے 8 مزید اضلاع کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔اس پروگرام کے تحت اب تک 4لاکھ کینوں کو ترک کیا جا چکا ہے ان مکینوں کو بلا سود قرضے دئے گئے ہیں یا انہیں کی ترقی کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ ہم نے ان پروگرامز میں گھر تعمیر کرنے اور چھوٹے کاروبارکومد نظر رکھا گیا ہے اور اس کو وسعت دی گئی ہے۔مالی سال 20-2019 کے بجٹ کے تحت PPRP کو مزید 6 اضلاع کھڑکی کھر نوشہرو فیروز شہیدبینظیر آباد اور حیدر آباد اور کراچی کی دیہی یونین کونسل تک بڑھا دیا جائے گا۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ حکمت عملی برائے تخفیف غربت کے لئے حکومت سندھ نے یورپی یونین (EU) کی فنی معاونت سے پاورٹی ریگیشن اسٹرا کی تیارکر لیا ہے جس کی سندھ کابینہ نے اکتوبر 2018 میں منظوری دی تھی بی حکمت عملی صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں غربت کی کمی کے لئے اختیار کی جائے گی PPRP کے ذریعے پیدا ہونے والے سابی سرمائے پرانحصار (ڈیولپمنٹ آف رورل گروتھ سینٹر) کے ذریعے معاشی آمدنی بڑھاتے ہوئے غربت کی کمی کے لئے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے (ڈولپمنٹ آف رورل گروتھ سینٹر کے ذریعے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ شہری علاقوں میں غربت کی کمی کے لئے آمدنی بڑھانے کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ غذائی قلت سے اچھی طرح واقف ہے یہ ایک پیچیدہ اور طویل اور مسلسل جدوجہد کی نوعیت کا مسئلہ ہے جس کے لئے ایک طویل المدتی اور مسلسل کاوشوں کی ضرورت ہے حکومت سندھ کو اس معاملہ پر حساسیت کا احساس ہے اور وہ اس کے تدارک کے لئے سرگرمل ہے۔اس من میں ایک دس سال کثیراہتی ایکسلیر پیڈ ایکشن پلان برا خفیف غذائی قلت کی کمی کو پورا کرنے کے اہداف مقرر کئے گئے ہیں جس کے تحت AAP کا مقصد بچوں کی نشوونما کے ملک کی کمی کو 2021 تک 48 فیصد سے 30 فیصد تک لے جانا اور 2026 تک اسے 15 فیصد تک لے جانے کا حدف کیا جائے گا جس کے لئے متعلق کاموں مثلا بہبود آبادی، صحت، بلدیات، زراعت، لائیواسٹاک اورفشریز کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا تھا کہ اس کے لئے جہد مسلسل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال19-2018 کے دوران صوبائی حکومت نے 167 آوٹ پیشنٹ تھراپونک پروگرام (OPT) سائنس قائم کی ہیں جبکہ OPT سائنس کے ذریعے 5سے 59 ماہ کے دوران 1401133 بچوں کی اگر نیند کی گئی اور نشوونما کے عمل کی کمی کا شکار 77648 بچوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ 467876 دودھ پلانے والی خواتین کو پی ٹی 2 سینیشن کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی نڈ وانفس نے کمیونی سطح پر دورے کر کے 338432 حاملہ خواتین کو مشورہ دیا157649 حاملہ خواتین کو سہولیات فراہم کیں۔استعمال کے لئے تیار شدہ تھیراپھینک فوڈ آئرن فولک ایسڈی ڈی دار منگل بیلٹس اور سیف ڈلیوری کٹ بھی آٹ پیشنٹ تھیراپیوٹک سائٹ پر فراہم کی گئی ہیں۔7995 گھروں کو 5 بکریاں اور 10 مرغیاں دی گئی ہیں۔ 55 پچھلی کے تالاب تعمیر کئے گئے ہیں۔ زراعت سے منسلک نوکری کے دوران تربیت کے لئے 200 فارمز فیلڈ اسکولز قائم کئے گئے۔ 555 بین گارڈن آزمائشی طور پر دکھائے گئے ہیں۔ 2019-20 کے لئے ہم پرعزم ہیں کہ غذائی قلت پر قابو پانے کے لئے غذا کے معیار کی بہتری اور صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے کئی اہداف حاصل کریں گے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ صوبہ سندھ ملک کی سب سے زیادہ شہری آبادی والا صوبہ ہے۔ جس میں ملک کی 34 فیصد آبادی قیام پذیر ہے اس لئے واٹر سپلائی،سیورتی اور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ سروسز پر دباو بھی بہت زیادہ ہے۔ صوبہ سندھ کی آبادی 47.886 ملین ہے اس لئے اس کی ضرورت 1538MGD صاف پانی کی ضرورت ہے۔ اس وقت 1076.6MGD پانی فراہم کیا جارہا ہے جبکہ 30 سے 40 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ اور اس کی وجہ انفراسٹرکچرکی کمی ہے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ مالیاتی سال 19-2018 میں سندھ حکومت نے 37.73 ارب روپے کی لاگت سے فراہمی آب اور سینیٹیشن کی 267اسکیمیں شروع کی گئیں جس میں سے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور بلدیات کی 27اسکیمیں مکمل کی گئی ہیں۔ رواں مالیاتی سال کمی کے سبب ان منصوبوں پر اخراجات کم کئے گئے اور 15.90 ارب روپے جاری کئے گئے جن میں سے جون 2019 تک 7.87 ارب روپے خرچ کئے جا سکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 20-2019 (ADP) میں حکومت نے 35.90 ارب روپے رکھے ہیں۔ یہ رقم گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں کچھ کم ضرور ہے لیکن اے ڈی پی کے حصہ میں کافی بہتر ہے۔لیکن منصوبہ ہے کہ 372 اسکیموں میں سے کم از کم 218 منصوبے مل کئے جائیں گے۔ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے 20-2019 کے مالیاتی سال کے لئے 22.95 ارب روپے کی لاگت کے 13 منصوبے شروع کرنے کے لئے 6.25 ارب روپے رکھے ہیں۔ نہروں اور دریاں میں سیوریج کے پانی کے اخراج کی روک تھام کے لئے 3.57 ارب روپیش کئے گئے ہیں۔ غیر فعال واٹر سپلائی اسکیموں کی بحالی کے لئے فیز 2 میں 4.01 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا ہے کہ وہ قوم اپنی بقا اور ا یک کر کے کیا کہ جس قوم میں خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل نہ ہوں۔ کوئی بھی بند و باید تواتین کی شمولیت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ دنیا میں یہ مثال کامیاب ہے بیشتر مہ بھی نظر کینو کے مضبوا وژن اور ارادے نے اس معاشرے کی خواتین کے سماجی کردار کو اجاگر کیا ہے۔ ہم نے بھی ا پی رہنما کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ٹواتین کی فلاح و بہبود کے لئے اہم اقدامات اٹھاتے ہیں۔ جو کہ خواتین کو سیای ناتی اور اقتصادی طور پر منبر پر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے اس سلسلہ میں اہم قانون سازی بھی کی گئی ہے جن میں ہراساں کرنا کم عمری کی شادیاں اور عورتوں پر گھریلو تشدد کی روک تمام شامل ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ اسی طرح اقلیتی برادری کے متعلق قائداعظم محمد علی جناح، جوان شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کی پالیسی کے مطابق اقدامات کئے گئے ہیں۔ ہم نے اپنے دور حکومت میں اقلیتوں کی بھلائی اور نچلے طبقے کے لئے گرانٹ بھی دی ہے اس کے ما دور اقلیتوں کے لئے سکالر شپ اور علاج معالجہ کے لئے مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ سپیشل افراد بھی اس معاشرہ کا اہم حصہ ہیں جن پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اس ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایسے افراد کے د کو دور ختم کرنے کے لئے یا تمر اقدامات کئے ہیں اس سلسلہ میں گذشتہ سالوں میں متحد ومنضوب عمل کئے گئے ہیں اور دو سالوں میں ان اداروں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ ہماری ذمہ داری کا احساس اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے معذوروں کی بھلائی کے لئے ایک الگ محکمہ قائم کیا ہے تا کہ حکومت ایسے افراد پر خصوصی توجہ دے سکے۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ عالمی معیار کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں سڑکوں کی پتھی کا مطلوبہ معیار 4 کلومیٹر فی ایک اسکو ائر کلومیٹر ہے جبکہ ترقی ممالک میں ہی معیار 0.5 کلومیٹر فی سکوائر کلومیٹر ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ میں 18-2017 تک سڑکوں کی بھی 41ونی اسکوار کلو میڑ تھی جو کہ مطلوبہ عالمی معیار سے کم ہے۔ اس لئے سندھ میں روز کا مطلو بہ معیار حاصل کرنے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 19-2018 میں 559 تر قیا تی منصوبے شامل تھے۔ جس میں ملکہ لوکل گورنمنٹ کے تحت روڈ سکھر کے 210 منصوبے شامل تھے۔ ان ترقیاتی اسکیموں پر کی لوکل گورنمنٹ اور ورکس اینڈ سروسز نے کل 28 ارب رہ پ ترین کے ہیں اور 182 عضو ہے جوان 2019 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے گذشتہ مالی سال کے دوران کئی اہم سنگ میل عبور کر لیے ہیں۔ شکار پور، لاڑکانہ، خیر پور حصری شہید آ باد، جامشورو اور دادومیں پلوں کی تعمیرکی گئی،جیکب آباد میں جیل چا نک ریلوے کراسنگ پر بلاول بھٹو زرداری فلائی اوور کی تعمیر،23.33 کلو میٹر گڑھی یاسمین ضلع شکار پور تا گڑھی خیر وضلع جیکب آباد تک لکی تھر کینال سے متصل سڑک کی تعمیر، ضلع ٹنڈ ومحمد خان میں 22 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر اور بہتری، جام شورو میں ریلوے کراسنگ پرفلائی اور کی تعمیر،مالی سال 20-2019 میں محکمہ ورکس اینڈ سروسز اور لوکل گورنمنٹ کیلئے کل 431 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 26.86 ارب روپے مکمل کئے گئے ہیں اور آئندہ مالی سال 2019-20 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے سندھ پراونشل روڈ سیکٹر امپپر دو منٹ پروجیکٹ کے تحت 328 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی، جس پر 22.75 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اس پروجیکٹ میں 449 کلومیٹرٹھل تا کندھ کوٹ روڈ کی تعمیر، 361 کلومیٹر شیراں پور تارتو ڈیر وسڑک کی تعمیر، 63 کلومیٹر براستہ سندھڑی سانگھڑ تامیر پور خاص سڑک کی تعمیر، 66 کلو میٹر ٹنڈو محمد خان روڈ کی تعمیر، 554 کلومیٹر ڈگری تا نوکوٹ روڈ،647 کلو میٹر براستہ ٹنڈو آدم تاسانگھڑ،134 کلومیٹر دوطرفہ کیرج وے کی بحالی شامل ہیں۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ میرے لئے باعث مسرت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے انفرا اسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں پچھلے سالوں میں کی گئی طویل مدتی سرمایہ کاری کے خاطر خواہ نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ جس میں تعلیم ہمت، توانائی، روڈسیکٹر سمیت تمام شعبہ جات شامل ہیں۔ میں بالخصوص تھر کول مائننگ اور بجلی کے منصوبوں کی افادیت کا ذکر کروں گا۔ جن سے رواں سال نیشنل گرڈ میں 660 میگا واٹ اسمبلی شامل کی گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے منصو بے کا افتتاح کرتے ہوئے تھر پاور پلانٹس کو ملک کا کامیاب ترین منصوب قرار دیا جس کا تصورشہید شترمہ بے نظیر بھٹو نے دیا تھا، جن کا یقین تھا کہ تھر کا کوئلہ پورے پاکستان کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ تھر کول منصوبہ نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان میں سابی ترقی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا بلکہ اس سے ملک کے دیرینہ مسئلے کرنٹ اکانٹ خسارے کا بھی خاتمہ ہو گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ شعبہ توانائی کے لئے آئندہ مالی سال 20-2019 میں غیر ترقیاتی بجٹ 23.883 ارب سیبڑھا کر 24.920 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ حقیقت ہے کہ پاکستان کے توانائی کے ایران کامل سندہ کے پاس ہے۔ تھرکول سے روایتی توانائی او جہمپیر میں پن بجلی راہداری سے قابل تجدید (ری نیوئیل) توانائی ملک کے مخلو ط توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کرنے اور ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ محکمہ توانائی نے متعدد گاں کوبجلی اور گیس کی فراہمی میں معاونت کی ہے۔ مالی سال 19-2018میں گاں اور اسکولوں کو قابل ت

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی