دورہ انگلینڈکیلئے29 رکنی سکواڈ کا اعلان

دورہ انگلینڈکیلئے29 رکنی سکواڈ کا اعلان

  

سرفراز اور سہیل خان کی واپسی، محمد عامر کا انکار

دورہ انگلینڈ پاکستان کے لئے بڑا امتحان ہے اس سے قبل جب بھی ٹیم گوروں کے دیس گئی اس کو ہمیشہ ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کورونا کے باعث طویل عرصہ کے بعد پاکستانی ٹیم اب ایکشن میں نظر آئے گی جس کے لئے سکواڈ کا اعلان کردیا گیا ہے ٹیم نے دورہ انگلینڈ میں ٹیسٹ اور ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کھیلے گی اور کپتان اظہر علی اور بابر اعظم کے لئے یہ سیریز بہت بڑا امتحان ہے کوچ مصباح الحق نے بہت سوچ سمجھ کر میرٹ پرکھلاڑیوں کو منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کے اس بیان میں کتنی صداقت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یونس خان کے بطور بیٹنگ کوچ تقرری اور اسپن باؤلر مشتاق احمد کی ٹیم سے وابستگی ٹیم کیلئے ضرور مفید ثابت ہوگی مگر اس کے باوجود بھی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی متحد ہوکر کھیلنے کی ضرورت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ورلڈ چیمپن انگلینڈ کی ٹیم کسی بھی طرح سے پاکستان کے لئے اپنی سرزمین پر آسان نہیں اور اس کے لئے جامع پلاننگ کی ضرورت ہے دوسری طرف کورونا کے پیش نظر پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا اور کئی مسائل درپیش ہوں گے اچھی کرکٹ کے ساتھ ساتھ ان چینلز کا سامنا بھی قومی ٹیم کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈنے دورہ انگلینڈ کیلئے قومی کرکٹ ٹیم کے 29 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا۔ قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین اور ابھرتے ہوئے نوجوان کرکٹر حیدر علی کو قومی اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز اگست-ستمبر میں انگلینڈ میں کھیلی جائے گی۔دورہ انگلینڈ کے لیے طویل اور محدود، دونوں طرز کی کرکٹ کے نمایاں کھلاڑیوں پر مشتمل ایک وسیع اسکواڈ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار کردہ ایس او پیز کے مطابق تمام کھلاڑیوں کی ایک ساتھ انگلینڈ روانگی اور پھر واپسی ہے۔حیدر علی نے سیزن 2019-20 میں شاندار کارکردگی کی بدولت سیزن 2020-21 کے سینٹرل کنٹریکٹ کی ایمرجنگ کٹیگری میں جگہ حاصل کی تھی۔حیدر علی کے علاوہ 29 رکنی اسکواڈ میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں اسپنر کاشف بھٹی بھی اپنے ڈیبیو کے منتظر ہیں۔ وہ آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف اعلان کے کردہ اسکواڈ کا حصہ تھے مگر فائنل الیون میں جگہ نہ بناسکے۔ انہیں بنگلہ دیش کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ فاسٹ باؤلر سہیل خان کی قومی اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔حیدر علی، کاشف بھٹی اور سہیل خان کے ساتھ ساتھ حارث سہیل کے علاوہ سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ شعیب ملک، محمد حفیظ، وہاب ریاض، خوشدل شاہ، فہیم اشرف، عمران خان اور فواد عالم کو بھی اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔سلیکٹرز نے بلال آصف، محمد نواز، موسیٰ خان اور عمران بٹ کو ٹور کے لیے ریزرو کھلاڑیوں میں شامل کیا ہے۔ ان چاروں ریزرو کھلاڑیوں کو انگلینڈ روانگی سے قبل کسی بھی کھلاڑی کے کوویڈ 19 ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آنے کی صورت میں بیک اپ کے طور پر رکھا گیا ہے۔ دورہ انگلینڈ کے لیے کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ 20 اور 25 جون کو ہوں گے۔فاسٹ باؤلرز حسن علی، محمد عامر اور مڈل آرڈر بیٹسمین حارث سہیل دورہ انگلینڈ کی سلیکشن کے لیے دستیاب نہیں تھے۔29 کھلاڑیوں میں 4اوپنرز عابد علی، فخر زمان، شان مسعود اور امام الحق شامل ہیں جبکہ 9مڈل آرڈر بیٹسمین اظہر علی کپتان قومی ٹیسٹ ٹیم، بابر اعظم،، اسد شفیق، فواد عالم، حیدر علی، افتخار احمد، خوشدل شاہ، محمد حفیظ اور شعیب ملک شامل ہیں۔وکٹ کیپرز میں محمد رضوان اور سرفراز احمد شامل ہیں۔فاسٹ باؤلرز میں فہیم اشرف، حارث رؤف، عمران خان، محمد عباس، محمد حسنین، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، سہیل خان، عثمان شنواری اور وہاب ریاض شامل ہیں۔اسپنرز میں یاسر شاہ، عماد وسیم، کاشف بھٹی اور شاداب خان شامل ہیں۔قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز نے ایک ایسے اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے جس سے انگلینڈ میں طویل اور محدود دونوں طرز کی کرکٹ میں بہتر کارکردگی کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کافی عرصے سے کھلاڑیوں کی میدان سے دوری ایک چیلنج ہے تاہم پرامید ہیں کہ انگلینڈ میں ایک ماہ کے دوران بھرپور ٹریننگ کے باعث مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔مصباح الحق نے واضح کیا ہے کہ اسکواڈ کے انتخاب کے دوران سلیکٹرز کی ترجیح طویل طرز کی کرکٹ رہی کیونکہ پاکستان کو آئندہ 2 ماہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیریز میں شامل 3 ٹی ٹونٹی میچز تو آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے میچوں کے بعد ہوں گے۔قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر کا کہنا ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں نے مارچ سے کسی قسم کی مسابقتی کرکٹ میں حصہ نہیں لیا جبکہ میزبان ٹیم پاکستان سے پہلے ویسٹ انڈیز سے سیریز کھیلے گی لہٰذا انگلینڈ کے خلاف یہ سیریز آسان نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تیاری کے لیے ہمیں پہلے ٹیسٹ سے قبل زیادہ سے زیادہ ٹریننگ سیشنز میں حصہ لینا ہوگا۔مصباح الحق نے کہا کہ کھلاڑیوں کا انتخاب مستقبل کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ نوجوان کرکٹرز، یونس خان اور مشتاق احمد کے وسیع تجربے سے مستفید ہوں۔انہوں نے کہا کہ سہیل خان کی واپسی قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ کو مزید تقویت بخشے گی۔ انہوں نے 2016 میں انگلینڈ کے خلاف آخری مرتبہ کھیلتے ہوئے 2 بار پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹرز کے مطابق سہیل خان نے قائد اعظم ٹرافی 2019-20 میں اپنے اعداد و شمار سے کہیں بہتر باؤلنگ کا مظاہرہ کیا۔جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے یونس خان کو دورہ انگلینڈ کے لئے پاکستان کا بیٹنگ کوچ مقرر کر دیا جبکہ مشتاق احمد سپن باؤلنگ کوچ کی حیثیت سے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور باؤلنگ کوچ وقار یونس کے ہمراہ انگلینڈ روانہ ہوں گے۔ تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل سیریز اگست/ستمبر میں انگلینڈ میں کھیلی جائے گی۔ یہ فیصلہ ہیڈ کوچ مصباح الحق اور باؤلنگ کوچ وقار یونس کو ضروری اور اہم وسائل کی فراہمی کے لئے کیا گیا ہے جو انہیں ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔دورہ انگلینڈ کے لیے اضافی کھلاڑیوں کو انگلینڈ بھیجا جا رہا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ان کھلاڑیوں کی تربیت کے لئے بہترین کوچز تعینات کیے جائیں تاکہ نوجوان کرکٹرز کے کھیل میں نکھار آسکے یونس خا ن نے اپنی تعیناتی پرخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی نے ان کو جو ذمہ داری دی ہے وہ اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے اور امید ہے کہ تمام کھلاڑی بھی میرے ساتھ تعاون کریں گے دورہ انگلینڈ پاکستان کے لئے آسان نہیں بیٹسمینوں کی بہتر تربیت میری اولین ترجیح ہوگی۔ یونس خان نے 2000ء سے 2017ء تک محیط اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں 118 میچوں میں 52 سے زائد کی اوسط کے ساتھ 10ہزار 99 رنز بنائے۔ سری لنکا کے خلاف کراچی میں 313 رنز کی اننگز ان کے کیرئیر کی بہترین اننگز تھی جس کی بدولت انہیں آئی سی سی رینکنگ میں پہلی پوزیشن ملی۔ انگلینڈ کے خلاف یونس خان کا ریکارڈ خاصا متاثر کن ہے۔ انگلینڈ میں کھیلے جانے والے 9 ٹیسٹ میچوں کی 16 اننگز میں یونس خان نے 50 سے زائد کی اوسط کے ساتھ 810 رنز بنائے۔ اس دوران انہوں نے 2 سنچریاں (اوول 2016ء میں 218 اور ہیڈنگلے 2006ء میں 173 رنز کی اننگز) اور 3 نصف سنچریاں بنائیں۔ حریف ٹیم کے خلاف پاکستان میں کھیلے گئے 2 اور متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے 6 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے مشترکہ طور پر 616 رنز بنائے۔ چیمپئن بلے باز نے یہاں 2 سنچریاں (دبئی میں 127 اور 118 رنز کی اننگز) اور 1 نصف سنچری بنائی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے کہا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ یونس خان جیسے قد آور اور شاندار بیٹنگ ریکارڈ کے حامل کرکٹر نے اس اہم دورے کے لیے پاکستان کرکٹ کے ساتھ کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ وسیم خان نے کہا کہ انہوں نے جب اس حوالے سے یونس خان سے رابطہ کیا تو ان کا اس عہدے کے ذریعے ملک کی خدمت کرنے کا جوش اور جذبہ قابل دید تھا۔ وسیم خان نے کہا یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آئندہ سیریز کے لیے مصباح الحق، وقار یونس، یونس خان اور مشتاق احمد کی موجودگی کھلاڑیوں کے لیے انگلینڈ کی کنڈیشنز سے واقفیت میں اہم کردار ادا کرے گی قومی کرکٹ ٹیم کے سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ وہ یونس خان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور وہ ایک بار پھر ان کے ہمراہ پاکستان کی کرکٹ کے رنگوں میں ڈھلنے کے منتظر ہیں۔ جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا ہے کہ بیٹنگ کوچ یونس خان پاکستان ٹیم کو بہتر کرکٹ پر مبنی ماحول مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کیلئے انہیں اپنے موڈ کی تبدیلیوں پر قابو رکھنا پڑے گا، انگلینڈ کے دورے کے دوران وہ کرکٹ کی توجہ کو بہتر بنا سکتے ہیں یہ ایک مشکل سفر ہے جہاں کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ چیزوں کو سمجھنے اور بہتر کرنے کی بھی ضرورت ہوگی اور یونس اس سلسلہ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اپنے یوٹیوب چینل پر اپنے پیغام میں رمیز راجہ نے کہا کہ یونس خان ایک محنتی اور سرشار شخص ہے۔ ان کے کیریئر کا ریکارڈ شاندار ہیں، انگلینڈ میں بھی ان کا عمدہ ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان نے ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کے لئے کردار ادا کیا ہے اور موجودہ پاکستانی ٹیم میں متعدد کھلاڑی موجود ہیں جو انہیں یا تو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں یا ان کے ساتھ کھیلتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ہیڈ کوچ مصباح الحق کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے اور شاید اسی وجہ سے بھی مصباح نے ان کو ٹیم کے ساتھ شامل ہونے کے خواہاں ہیں۔ مایہ ناز کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا کہ وہ ایک کامیاب بیٹنگ کوچ ثابت ہوں گے اور اس میں شک نہیں کہ ان سے بہتر پاکستان کرکٹ بورڈ کو اور کوئی بیٹنگ کوچ نہیں مل سکتا تھا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -