خان صاحب پرچی پر لکھ لیا کریں!

خان صاحب پرچی پر لکھ لیا کریں!
 خان صاحب پرچی پر لکھ لیا کریں!

  

کرونا وباء پر حکومتی اقدامات کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو جس قدر تنقید کا سامنا بیانات بدلنے پر کرنا پڑا ہے، اس پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ خان صاحب! غصہ جانیں دیں اور نواز شریف کی طرح آپ بھی گفتگو کے اہم نکات کسی پرچی پر لکھ لیا کریں تاکہ بعد میں یوٹرن نہ لینا پڑے!

ایک وقت تھا کہ فی البدیہہ خطاب خان صاحب کا طرہ امتیاز مانا جاتا تھا اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے امریکی صدر اوباما سے ملاقات کے دوران پرچی پڑھنے پر پی ٹی آئی کے نوجوان آگ بگولہ ہو گئے تھے یہ کیا بات ہوئی کہ پاکستان کا وزیرا عظم پرچی دیکھ کر بات کرے، یہی وہ پریشر تھا کہ جب عمران خان اقوام متحدہ خطاب کرنے کے لئے گئے انہوں نے فی البدیہہ خطاب کا تاثر دیا اور یوں خوب عزت سمیٹی!

لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے تو خان صاحب کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا ہے، وہ جوش خطابت میں فی البدیہہ وہ کچھ کہہ جاتے ہیں جو کر نہیں پاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف پی ٹی آئی حکومت بلکہ پی ٹی آئی کے ایک ایک ووٹر سپورٹر کو منہ چھپانا پڑرہا ہے اور وہ خاموشی سے ان کی فی البدیہہ خطاؤں کی سزا سہہ رہے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان، ان کے ترجمان، وزراء، اور مشیران اپنے ہر کام کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہونے والا کام قرار دیتے نہیں تھکتے ہیں، حتیٰ کہ چینی کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام لانے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے لیکن اگر کریڈٹ نہیں لیتے تو اس بات کا نہیں لیتے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کی قیمت 100روپے فی کلو کو چھونے والی ہے، کیا ہی اچھا ہو اگر ہم وزیراعظم عمران خان کے منہ سے سنیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کی قیمت اس قدر اوپر گئی ہے کہ جہانگیر ترین منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔

اس کے باوجود کہ ابھی بھی ہمارا میڈیا آزادی سے حکومت کی کوتاہیوں اور خامیوں پر کھل کر بات نہیں کرسکتا ہے اور ایک پالیسی کے تحت صرف اپوزیشن کے ہی لتے لیتا ہے تاہم پھر بھی یوٹرنوں کی اس قدر بھرمار ہوگئی ہے کہ اب میڈیا اینکر پرسنز کے لئے بھی ممکن نہیں رہا کہ زیادہ دیر تک خان صاحب کو ڈیفنڈ کرسکیں۔ البتہ کچھ ہیں جو ابھی بھی سارا ملبہ پچھلوں پر ڈالتے ہیں اور خان صاحب کو اسی طرح نکال لے جاتے ہیں جس طرح لسی میں سے مکھی نکالی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کب تک چلتا رہے گا، کب تک حکومت کی نااہلی پر لیپا پوتی کی جاتی رہے گی، آخر پاکستان کے عوام کو کس بات کی سزا مل رہی ہے کہ ایک ناتجربہ کار، نوآموز اور سیاست سے نابلد افراد کے ایک گروہ کو ایک سابق کرکٹر کی سربراہی میں ان کے سروں پر براجمان کردیا گیا ہے، خان صاحب جتنی باتیں کرتے تھے، جتنے بلند بانگ دعوے کرتے تھے، وہ سب کے سب زمیں بوس ہو چکے ہیں، عوام پر ان دعووں کی حقیقت کھل چکی ہے اور پی ٹی آئی کے ووٹر سپورٹر جھلا کر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کی سرعام پھانسیوں کامطالبہ کرتے ہیں کہ ان کاخیال ہے کہ اس سے چینی کی قیمت کم ہو جائے گی، تین ارب کی سبسڈی کا معاملہ دب جائے گا اور یوٹیلیٹی سٹور کی جانب سے قیمتوں میں استحکام رکھنے کی بجائے اضافے کی روش کا خاتمہ ہو جائے گا!

اب سمجھ آتی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے الیکٹرانک میڈیا کی اجازت کیوں دی تھی؟ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے ایسے لوگوں کو میڈیا کے لائسنس دلوادیئے ہیں جن کا صحافت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، ان کا کام صرف ان چینلوں کے اخراجات پورے کرنا ہے باقی کا کام اسٹیبلشمنٹ خود کرلیتی ہے۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر دکھ یہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی شکل میں شہباز شریف انتہائی بودے ثابت ہوئے ہیں، انہوں نے نیب کے چھاپے کے موقع پر روپوش ہو کر وہ سب کچھ گنوادیا جو نواز شریف نے مجھے کیوں نکالا کی کمپین چلا کر حاصل کیا تھا۔ ادھر بلاول بھی سندھ میں بیٹھ کر پنجاب جیتنا چاہتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ ہر گھر سے بھٹونکلے کے نعرے کا ورد کرنے والے خود لوگوں کے دلوں سے نکل چکے ہیں، ایسے میں اگرخان صاحب پرچی پر لکھ کر بولنا شروع کردیں تو وہ پانچ سال کیا اگلے پانچ سال بھی حکومت میں رہ سکتے ہیں!

مزید :

رائے -کالم -