فیر چھیڑ لیا پیو نو…………

فیر چھیڑ لیا پیو نو…………
 فیر چھیڑ لیا پیو نو…………

  

اور ظالمو ثنا مکی کلونجی بھی جعلی بنالی،اوکون لوک اولسی پلازما بھی بیچنے لگے، چکر بازو ہمیں تو چکردے دو گے اللہ کو چکر کیسے دو گے۔ گھن چکرو،کب تک پیسوں نوٹوں کی ڈھیروں کے گرد چکراتے ہوئے 'بھائی بھائی زور دی'کہتے رہو گے۔ کاکا بلی ہم قیامت صغری سے گذر رہے ہیں جن لوگوں کے سامنے ان کے پیارے مر رہے ہیں اور وہ انہیں دفنا بھی نہیں پا رہے۔ ان سے پوچھو قیامت کیسی ہوتی ہے۔ مانا ایک سروے کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ یہ حرص و ہوس کی ڈھینچوں ڈھیچوں کرنے والے اب ہمیں ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کی دولتّیاں بھی مارو۔ حیرت ہے اٹھتی میتوں سے بھی تم نہیں ڈرتے۔ رہے یہ پرائیویٹ ہسپتال والے تو شاید انہوں نے بے شرمی اور خود غرضی کی ایسی ویکسین لی ہے کہ اپنے سامنے سٹریچر پر ایڑیاں رگڑتے لوگ بھی ان کے دل میں رحم پیدا نہیں کر پاتے۔

حیرت ہے آپ بجٹ پر تنقید کررہے ہیں، بھیا وہ جو تاریخی جملہ تھا کہ ”دتا کی سی جیدا حساب منگدے او“۔ عمران خان پر تنقید کریں ضرور کریں لیکن دیکھیں کلّا پاکستان نہیں پوری دنیا کا سوا ستیاناس ہوگیا ہے۔ کیا سمجھتے ہیں مہنگے ماسک، جعلی ثنا مکی بیچ کر سمجھتے ہو گھر خوش ہوگا۔ ساباس دے گا۔

آن ریکارڈ کہتا ہوں گج وج کے کہتا ہوں ڈنکے کی چوٹ پہ کہتا ہوں سرکاری ملازمین کی تنخواہ نہ بڑھنے پر خوشی ہوئی، موگمبو بہت خوش ہوا۔ یہ کیا بات ہوئی پورے پاکستان میں کام کرنے والے پرائیویٹ ملازمین کی کھٹیا کھڑی ہو جائے اور سرکاری ملازم تین ماہ بغیر کام کئے سرکاری تنخواہیں لیں اور مزید بڑھنے کی امیدیں رکھیں۔ واہ جی واہ یعنی ”نالے کھاؤ خوبانیاں تے نالے بھنو بادام“۔ میں تو کہتا ہوں کہ کورونا آفت کے پیش نظر تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی و سینٹ کی تنخواہیں روک لی جائیں اور یہ پیسے کورونا فنڈ میں دے دیئے جائیں۔ سنتا سنگھ کی بیگم سے لڑائی ہوگئی اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا جا میری ماں مینوں معاف کردے۔ سنتا سنگھ کے ہمسائے بنتا سنگھ نے پہ جملے گاؤں کے مکھیا کو بتا دیئے۔ اس نے فیصلہ دیا کہ میاں بیوی کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ اب سنتا سنگھ چالیس دن غریبوں کو کھانا کھلائے پھر رشتہ بحال ہوگا۔ گھر کا سارا سامان بک گیا چالیسویں دن سنتا سنگھ اور اس کی بیوی ٹوٹی چارپائی پر بیٹھے تھے۔ بیوی بولی سردار جی یہ سب تمہارا قصور ہے۔ سنتا سنگھ نے گھور کر بیگم کو دیکھا جملہ بولتے بولتے کچھ سوچا اور بولا فیر چھیڑلیا اپینے پیو نو۔ بھیا میرے کورونا پورے گھر کا سامان بکوا دیگا، لیکن اگر وہ قوم کے ہمدرد ہیں تو پھر ذرا انچ دو انچ آگے آئیں اور خود کو قوم کا لیڈر ثابت کریں ورنہ کوئی بات نہیں ہمارے مقدرمیں تو مرنا لکھا ہی ہے جلد یا بدیر، بات ہو رہی تھی کورونا بجٹ کی۔ تو بھیا میرے ماسک شدہ پاکستانی میں نے اپنی زندگی میں آج تک ایسا بجٹ نہیں دیکھا جسے عوامی یا عوام کی فلاح کا ضامن قرار دیا جاسکے۔ ہندسوں کے گورکھ دھندے ہیں وہ مخدوم شہاب پیش کریں اسحاق ڈار یا حماد اظہر۔

ہم نے سارے چراغ دیکھے ہیں

سب چراغوں تلے اندھیرا ہے

یہ بجٹ وجٹ آئی ایم ایف ورلڈ بینک کے چونچلے ہیں، ورنہ ہمارے نصیب میں تو بس ٹْکر ٹْکر اسمبلی اجلاس دیکھنا ہے۔ پیپلز پارٹی پیش کرے تو ن لیگ نے اسمبلی میں شور شرابہ کرنا ہے۔ آج پی ٹی آئی ساس بن کر اسمبلی میں بونگیاں مار رہی ہے کل ایک لڑاکا بہو کی طرح اسحاق ڈار پہ کاغذا اچھال رہی تھی۔ انہی فلاحی، تعمیری کاموں کے تو ارکان کو پیسے ملتے ہیں۔ بنتا سنگھ کے گھر مہمان آگیا۔ رات کو مہمان بولا بنتا سنگھ رضائی چھوٹی ہے۔ سر ڈھانپتا ہوں تو پاؤں ننگے ہوتے ہیں پاؤں ڈھانپوں تو سر، بنتا سنگھ بولا آپ پہلے سر ڈھانپیں۔ اس نے سر پر رضائی لی۔ بنتا سنگھ نے اس کے کھلے پیروں پر کس کے اینٹ ماری۔ اس نے پاؤں رضائی کے اندر کر لئے۔ بنتا سنگھ بولا لو جی میں نے سر تے پیر دونوں ڈھانپ دیئے ہیں۔ ہن تسی جانوں تے رضائی۔ میرے پیارے عمران خان نے لاہوریوں کو بتا دیا ہے جس نے ماسک سے اپنے ڈھڈے نما منہ باہر نکالا تو بنتاسنگھ کی طرح وٹا منہ پر پڑے گا۔لہٰذا عزت اور بہتری اسی میں ہے کہ رضائی اوڑھنا سیکھ لیں۔ مڑ کے کردے پھرو ٹکور تے فائدہ کی۔

مزید :

رائے -کالم -