امریکی صحافی کے بیہودہ الزامات قابل مذمت ہیں،منیر حسین گیلانی

امریکی صحافی کے بیہودہ الزامات قابل مذمت ہیں،منیر حسین گیلانی

  

لاہور (نمائندہ خصوصی) اسلامک ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین، اے آرڈی کے رہنما سابق وفاقی وزیر تعلیم سید منیر حسین گیلانی نے امریکی خاتون صحافی سنتھیارچی کے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہیدسمیت متعدد سیاستدانوں کے بارے میں بیہودہ الزامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی ایجنسیوں کے کردار اور حکمرانوں کی جاسوسی بارے تحقیقات منظر عام پر لائی جائیں کہ غیر ملکی خاتون نے این جی او کی آڑ میں پاکستان میں آ کر ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم تک رسائی کیسے حاصل کی؟ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزرا تک اس کی رسائی کیسے ممکن ہوئی اور اب تک وہ یہاں کس ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں؟۔

پاکستانی ایجنسیاں خاموش کیوں رہیں؟ کیا وہ اس کھیل کا خود حصہ تھیں یا سب کچھ خاموشی سے دیکھتی رہیں کہ ضرورت پڑنے پر پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ایک بیان میں سید منیر گیلانی نے کہا کہ بینظیر بھٹو شہید کی سیاست کو انہوں نے قریب سے دیکھا ہے۔اوران کے ذاتی علم میں ہے کہ متعدد بار ان کے ذاتی معاملات پر سابق وزیر اعظم کے شوہر کے کردار بارے آصف علی زرداری کے ذاتی سٹاف سے معلومات لی جاتی رہیں اور ان پر من پسند معلومات حاصل کرنے کے لئے دباو ¿ ڈالا جاتا رہا تاکہ ایسی باتیں نکلوائیں یاان کے منہ سے کہلوائیں جو دونوں میاں بیوی کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لئے استعمال کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو اور ان کے خاندان کی کردارکشی ان کے جمہوری عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے کی گئی جدوجہد کے باعث مارشل لا کے دور میں اور اس کے بعد بھی جنرل ضیا الحق کی باقیات ایک منظم سازش کے تحت کرتی رہیں جبکہ آصف علی زرداری کو جیل کاٹنا پڑی تشدد برداشت کیا۔میڈیا میں ان کی کردار کشی کی گئی۔ ان پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے گئے لیکن یہ جرات اور حیرت کی بات ہے کہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری ریاستی تشدد برداشت کرنے اور زبان کٹوانے کے باوجود ثابت قدم رہے اوربینظیر بھٹو کی شہادت تک دونوں میاں بیوی کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکی خاتون کا پس منظر اور امریکی معاشرے کی روایات پر نظر دوڑائی جائے تو سنتھیارچی کی سرگرمیوں کو سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ جنسی تعلقا ت قائم کر کے سیاستدانوں سے معلومات حاصل کرنا کوئی عیب سمجھا ہی نہیں جاتا اور یہ کام بڑی مہارت سے کیے جاتے ہیں جبکہ اس تلخ حقیقت سے واقفان حال آگاہ ہیں کہ کم و بیش تمام سفارتخانوں میں ہر طرح کی ایجنسیوں کے لوگ ہوتے ہیں اورلگتا ہے کہ اسی طرح کا تعلق اس خاتون کا بھی ہے لیکن یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہمارے حکمران بھی کردار کے غازی تو ہوتے نہیں اور رنگینیوں میں بہت جلد پھسل جاتے ہیں۔ آئی ڈی ایف کے چیئرمین نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کی جائیں کہ امریکی خاتون وزیراعظم اور وفاقی وزراء تک پیپلز پارٹی کے دور میں اور بعد میں کیسے پہنچیں۔ ان کی سرگرمیاں کیا تھیں؟کیا ایجنسیوں کومعلوم نہیں تھا کہ سنتھیارچی کس کے لیے کام کر رہی ہیں؟کیونکہ پاکستان کی سیاست کو بد نام کرنے کے لئے ایسے بد نام زمانہ کردار ماضی میں بھی پیدا کیے جاتے رہے ہیں،جو سیاستدانوں پربے ہودہ قسم کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -