17سال سے اوپر تمام صحتمند افراد خون عطیہ کر سکتے ہیں،ڈاکٹر اسد حیات

17سال سے اوپر تمام صحتمند افراد خون عطیہ کر سکتے ہیں،ڈاکٹر اسد حیات

  

لاہور(پ ر)خون عطیہ کرنے کے عالمی دن کے موقع پر شوکت خانم ہسپتال کے کنسلٹنٹ پتھالوجسٹ ڈاکٹر اسد حیات احمد کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں خون کے عطیہ کے حوالے سے غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔ سوائے ایسے افراد کے جن کو کبھی یرقان کی شکایت رہی ہو، 17سال سے بڑی عمر کے تمام صحت مند خواتین و حضرات خون کا عطیہ کر سکتے ہیں۔ ایک انسانی جسم میں خون کی مقدار دس سے بارہ بیگز کی ہوتی ہے جبکہ ایک وقت میں صرف 500مل لیٹر مقدار کی صرف ایک بوتل خون ہی عطیہ کی جاسکتی ہے۔ صحت مند ڈونرہر چار ماہ بعد خون عطیہ کر سکتا ہے۔ خون کی منتقلی بغیر درد کا ایک محفوظ عمل ہے۔ کورونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی ملک بھر میں خون کے عطیات میں بھی نمایا ں کمی دیکھنے میں آئی تھی۔

ایسے میں ہسپتالوں اور صحت کی تنظیموں کی طرف سے بار ہا خون کے عطیات کی اپیل کی جاتی رہی لیکن لاک ڈاؤن اور خون عطیہ کرنے کے عمل میں کرونا وائرس کا شکار ہونے کے ڈر سے خون کے عطیات دینے والوں کی تعداد معمول سے کم ہی رہی ۔ ڈاکٹر اسد کا کہنا تھا کہ خون عطیہ کرنے کو محفوظ بنانے کے لیے شوکت خانم ہسپتال میں ہمیشہ سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں لیکن کورونا وائرس کی وباء کے تناظر میں ان انتظامات کو اور بھی بہتر اور محفوظ بنادیا گیا ہے۔ یہاں بلڈ بینک میں انفیکشن کنٹرول کے خصوصی انتظامات موجود ہیں اور بلڈ بینک کا عملہ انفیکشن کنٹرول کے حوالے سے تربیت یافتہ ہے۔ ڈونرز سے رابطے کے دوران یہ عملہ ضروری حفاظتی سامان (PPE)کا استعمال کرتا ہے۔ یہاں خون کا عطیہ کرنے والوں کی کرونا وائرس کی سکریننگ بھی کی جاتی ہے۔ بلڈ بینک کی کرسیوں اور تمام چھونے والے مقامات کی صفائی کو یقینی بنایا جاتا ہے اسی طرح ہر بلڈ ڈونیشن کے بعدکاؤچ یا بیڈ کو جراثیم کش ادویات سے صاف کیا جاتا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -