حکومت اقتصادی نظام کا لائحہ عمل دینے میں ناکام ہو چکی، ساجد میر

حکومت اقتصادی نظام کا لائحہ عمل دینے میں ناکام ہو چکی، ساجد میر

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر نے وفاقی بجٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آ ئی ایم ایف کے احکامات کی کتاب بجٹ کی صورت میں 22 کروڑ عوام پر مسلط کر دی گئی۔ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے یہ تمام اقتصادی نظام لائحہ عمل دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ موجودہ بجٹ سے مہنگائی کانیا سونامی آئے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرکے نچلے متوسط طبقے کی زندگیاں مزید مشکل بنادی گئی ہیں۔کورونا کے نام پر ملنے والی بیرونی امداد کی تفصیلات سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔ وزیر اعظم طاقتور محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں خاموشی سے اضافہ اس لیے کیا کہ انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے کیا؟وزیر اعظم بتائیں کہ ایک طرف وہ سماجی انصاف اور ریاست مدینہ کی مثالیں دیتے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب آپ کے ارد گرد تو اے ٹی ایم ہیں۔آپ کو کس چیز کی پروا ہے؟ مارا تو غریب ملازم جارہا ہے۔ علامہ ساجد میر نے مزید کہا کہ بجٹ سے ایگزیکٹو کے ذریعے بیوروکریسی اور دیگر طاقتور اداروں کے مخصوص لوگوں کو پہلے سے ہی تنخواہوں میں دیے گئے۔ بجٹ میں اگرچہ اعلان کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا لیکن اس میں ایف آئی اے، نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم وغیرہ جیسے محکموں کے افسران کو پہلے سے ہی گزشتہ سال کے بجٹ کے بعد ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے تنخواہوں کی مد میں دیے گئے بھاری بھر کم اضافے کو دستاویزی شکل دی گئی ہے اور انہیں ریگولر کیا گیا ہے۔علامہ ساجد میرنے کہا کہ افراط زر10 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ سال حکومت کی نااہلی اور ناکامی کی وجہ سے قرضوں اور سود کا بوجھ ریکارڈ حیثیت میں بڑھ گیا۔موجودہ بجٹ میں بھی سود کی لعنت سے نجات کا کوئی اصول نہیں اپنایاگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدارس اصلاحات کے نام پر مختص کئے گئے بجٹ کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد مشاورت سے اپنا موقف پیش کریں گے۔

ساجد میر

مزید :

صفحہ آخر -