بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کی،کورونا سے ملکی معیشت کو بڑا دھچکا لگا،پاکتان آئی ایم ایف کا تابعدار انہ حکم کا پابند:حفیظ شیخ،حماد اظہر

بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کی،کورونا سے ملکی معیشت کو بڑا ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کورونا سے ملکی معیشت کو تین ہزار ارب کا نقصان کا تخمینہ، ٹیکس وصولی میں 700 ارب کی کمی کا سامنا رہا، بیروز گاری میں اضافہ ہوا، 10 قسم کے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کئے، 16 سو درآمدی اشیا کی ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی صفر کر دی۔ کوشش ہے عوام کو ہر ممکن حد تک ریلیف دیا جائے، بجٹ میں عوام پر بوجھ نہیں ڈالا گیا، کہا جارہا ہے پی ٹی آئی حکومت قرضہ لے رہی ہے، ہم قرض عیاشی کیلئے نہیں لے رہے، ماضی کے قرض واپس کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ہمیں ماضی کے قرضوں کوادا کرنے کیلئے قرض لینا پڑ رہا ہے، ٹیکسوں میں اضافہ نہیں کریں گے تو قرضوں کا بوجھ بڑھے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت کو 5 ہزار ارب روپے قرضوں کی مد میں واپس کرنے پڑے ہیں، آئی ایم ایف پاکستان کے لوگوں پر ظلم کرنے کیلئے نہیں بنایا گیا، اقوام متحدہ کی طرح پوری دنیا کے لوگوں نے مل کر آئی ایم ایف بنایا ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ایسا تعلق نہیں ہے کہ پاکستان آئی ایم کے تابعدار ہے اور نہ پاکستان آئی ایم ایف کے حکم کا پابند ہے۔ آئی ایم ایف کیساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، کچھ چیزوں پرآئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات ہوتے ہیں، آئی ایم ایف کا مو قف ہوتا ہے کہ آمدنی کے مطابق اخراجات کریں، پتا نہیں کیوں آئی ایم ایف کے معاملے کو توڑ مروڑ کرپیش کیا جاتا ہے۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا زرعی شعبے کی بہتری کیلئے 50 ارب روپے دیئے گئے، کوشش ہے عوام کو ہر ممکن حد تک ریلیف دیا جائے، بجٹ میں عوام پر بوجھ نہیں ڈالا گیا، حکومت نے قرض واپسی کی مد میں 5 ہزار ارب خرچ کیے، ماضی میں لیے گئے قرضوں کے سود کی مد میں 2700 ارب دینے پڑے، صوبوں کو ادائیگی کے بعد وفاق کے پاس 2 ہزار ارب ہو تے ہیں، حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی یقینی بنانے کا عہد کیا۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا کسی بھی محکمے کو ضمنی گرانٹ کی مد میں فنڈز نہیں دیئے گئے، ٹیکس محاصل میں اضافہ نہیں کریں گے تو قرض کا بوجھ بڑھے گا، کورونا سے پہلے ٹیکس محاصل میں 17 فیصد اضافہ ہوا، ہم نے جان بوجھ کر امپورٹ کو کم کیا، ایک وقت آیا کہ ہمارے ڈالرز ختم ہوگئے تھے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر سے 3 ارب ڈالر تک لائے، نان ٹیکس ریونیو کا ٹارگٹ 1100 ارب روپے تھا، ہم نے نان ٹیکس ریونیو ٹارگٹ 1600 ارب روپے حاصل کیے، کورونا سے معیشت کو 3 ہزار ارب کا نقصان ہوا۔مشیر خزانہ نے مزید کہا بیرونی سرمایہ کاری میں 137 فیصد اضافہ ہوا، کورونا سے پہلے ٹیکس وصولی میں اضافہ ہو رہا تھا، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی بھی کورونا کی وجہ سے متاثر ہوئی، ایف بی آر کی وصولی بھی بمشکل 3900 ارب روپے تک پہنچی، کورونا نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا، ہم کورونا کا بہانا نہیں بنا رہے، پوری دنیا متاثر ہوئی، کورونا کی وجہ سے انڈسٹریز، کارخانے، دکانیں بند ہوئیں، کورونا کی وجہ سے کاروبار بند ہوئے تو ایف بی آر کی کلیکشن بھی متاثر ہوئی، موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ کو بڑھایا تھا۔حفیظ شیخ نے کہا چھوٹے کاروباری افراد کے 3 ماہ کے بجلی بل ادا کیے گئے، ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی گئی، کاشتکاروں کی بہتری کیلئے 280 ارب کی گندم خریدی گئی۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا آئندہ مالی سال کیلئے دفاعی بجٹ کی ڈیمانڈ 1493 ارب روپے تھی، بجٹ دستاویز کے مطابق نئے مالی سال کیلئے دفاعی بجٹ کی حد 1340 ارب تھی جو 50 ارب روپے کم کرکے 1290 ارب روپے رکھی گئی۔ کورونا سے پہلے فروری میں ایکسپورٹ میں 14 فیصد اضافہ ہوا تھا اور ہمارا پہلاہدف تھا کہ معیشت کواستحکام دیں۔ روزگارکے مواقع پیدا کرنے پربھرپورتوجہ دے رہیں ہیں، سٹیٹ بینک کی جانب سے کاروباری برادری کیلئے اسکیموں کا مثبت رد عمل آیا جبکہ چھوٹے کاروباری افراد کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کیلئے 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ترقیاتی پروگرام میں 100 ارب روپے اضافہ کیا،حماد اظہر کا کہنا تھا حکومت ان حالات میں کفایت شعاری کے اصولوں پر کاربند ہے، افواج پاکستان کے مشکور ہیں کہ اْنھوں نے حکومت کی کفایت شعاری کی کوششوں میں بھرپور تعاون کیا ہے۔بعدازاں نجی ٹی وی سے گفتگو میں وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہرکا کہنا تھا کورونا نے پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچایا، لاک ڈاؤن سے ملک و قوم کا بہت نقصا ن ہوا، ہم مزید اس کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہمارے پاس معیشت کا پہیہ چلانے کے سوا اور کوئی آپشن نہیں، اگر کورونا نہ آتا تو ہم 4800ارب ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف پورا کر لیتے، حکومت کی کوشش ہے کہ کورونا پر قابو پائے، معیشت کی بحالی کیلئے کام کریں گے، پوری دنیا میں کورونا کے باعث لوگ بیروز گار ہوئے، پاکستان میں بیروز گار افراد کا ڈیٹا ابھی مرتب نہیں کیا گیا، کورونا کی صورتحال بہتر ہوئی تو ہم اب بھی لوگوں کو نوکریاں دینے کیلئے پرعزم ہیں، اس سے پہلے ہماری 17فیصد ٹیکسز کی گروتھ جاری تھی لیکن بدقسمتی سے ہمیں کورونا وباء کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیکس کے اہداف پورے نہ ہوسکے اور ہمیں 900ارب کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جیسے جیسے صورتحال بہتر ہوتی جائے گی انڈسٹری اور بزنس کھلے گا ہم 4800ارب کا ہدف اگلے سال تک پورا کر لیں گے۔ جو ٹیکسز ہم نے پچھلے بجٹ میں لگائے تھے یا اس سے پہلے والے جو موجود ہیں اور افراط زر 8یا 9فیصد جو اس سال ہوئی ہے وہ بھی اگلے سال کے ٹیکس میں بھی آئے گا تو اس بنیاد پر میں کہہ رہا ہوں ہم یہ ہدف پورا کر لیں گے۔ اگر ہم اگلے دو تین ماہ میں کورونا کی صورتحال سے نکل آتے ہیں تو ہم انشاء اللہ ٹیکسز وصول کرنے کا ہدف پورا کرلیں گے۔ جی ڈی پی گروتھ کے ٹارگٹ کے حوالے سے سوال پر ان کا کہناتھا یہ پوری دنیا کے اندر ایک ڈویلپنگ پورزیشن ہے، عالمی معیشت 6فیصد سکڑ گئی ہے اور برصغیر کی معیشت اوسطا 4فیصد سکڑ گئی، یہ سب لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہے اب صورتحال کلیئر ہو جاتی ہے تو جلد ریکوری ہوجائیگی اگر کورونا نہ آتا تو اگلے سال کی اکنامک گروتھ 2.1فیصد سے کہیں زیادہ ہوتی۔ ایک کروڑ نوکریوں کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا جب ہم آئے تو ہمیں تباہ شدہ معیشت ملی جب ہم محسوس کررہے تھے معیشت بہتر ہورہی ہے تب کورونا کی وبا آگئی۔ ہمارا اب بھی ارادہ ہے کورونا سے نکلنے کے بعد لوگوں کو نوکریاں دیں اور ہم اس کیلئے اب بھی پرعزم ہیں۔ ہم نے پرانے قرضوں پر 5ہزار ارب سود دیا۔ پچھلے دو تین سال سے تحریک انصا ف حکومت خسارے کم کرنے، نئے ٹیکسز کو بڑھانے کیلئے کام کر رہی ہے اور ہم نے اپنی ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے کام کیااور ہم ان تینوں چیزوں کے ذریعے ہی قرضے اتارنے ا و ر معیشت کو مضبوط بنائیں گے۔

حفیظ شیخ

مزید :

صفحہ اول -