کورونا کی فضا، یاد ماضی ساتھ!

کورونا کی فضا، یاد ماضی ساتھ!
کورونا کی فضا، یاد ماضی ساتھ!

  

سیاست اور کورونا ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور ان موضوعات پر لکھا اور بولا بھی جا رہا ہے۔ اب تو یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ چاروں طرف تو ہی تو والی بات ہے۔ ابھی صبح فیس بک کا نظارہ کیا تو دو اطلاعات مزاج پرسی کے لئے موجود تھیں، ایک ہمارے بھائی عبدالمحسن کی طرف سے کہ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا اور دوسری فوزیہ شاہد کی طرف سے یہ افسوس ناک اطلاع کہ ان کی ہمشیرہ کے برادر نسبتی کورونا میں مبتلا ہو کر وفات پا گئے ہیں، انہوں نے سب سے درخواست کی کہ حالات خطرناک صورت اختیار کر گئے ہیں۔ اس لئے سب خبردار رہیں، ہمارے پاس چارہ کار ہی کیا ہے ماسوا اس کے کہ محسن صاحب کے لئے دل سے صحت یابی کی دعا کی، اللہ ان کو جلد سے جلد اس وبا سے نجات دلا کر صحت یاب کرے اور تمام مرحومین کے لئے دعائے مغفرت ہے، اسی صورت حال کی روشنی میں یہ خبر بھی موجود ہے کہ لاہور میں وبا سنگین صورت اختیار کر چکی اور حکام نے پھر سے دو ہفتے کے سخت لاک ڈاؤن کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم گناہ گاروں کے گناہوں کو نہ دیکھیں اپنی نگاہ بخشش اور اپنے پیارے حبیبؐ کی امت کے لئے محبت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس وبا سے نجات دلائے۔

آج صبح ہی سے یہ خیال تھا کہ کورونا بہت ہو چکا اور سیاست کو بھی دوام مل گیا کہ کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ اس لئے موسم کی مناسبت سے کچھ یادیں تازہ کرلیں اور کچھ نوحہ لکھ دیں کہ یہ لاہور نہیں کچھ اور ہی ہو گیا ہے، کہتے تھے لاہور، لاہور ہے اور جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا، لیکن اب صورت حال بالکل مختلف ہو گئی ہے، بلکہ کہا جائے گا کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا، بہتر ہی کیا اور وہ جا کر اسلام آباد دیکھ لے کہ اب ساری توجہ ادھر ہی ہے، جبکہ وفاقی دارالحکومت بھی پھیلتا جا رہا ہے۔ جنگل کی شامت آئی اور سیکٹر بڑھتے جا رہے ہیں، یہ وہی اسلام آباد ہے جسے آباد کرتے وقت جنگل کی موجودگی اور نئی شجرکاری کے حوالے سے یہ توقع کی گئی کہ یہاں بھی مری کی طرف برف پڑا کرے گی۔

بات اپنے پیارے لاہور کی کرنا تھی، چلی دوسری طرف گئی، اس لاہور کو جو ہماری جاء پیدائش اور واقعی لاہور تھا، مفاد پرستی اور قبضہ گروپ کی کارروائیوں نے بگاڑ کر رکھ دیا کہ اب نہ تو اس کی وہ سی ہئیت باقی رہی نہ سماجی سرگرمیاں ہیں اور نہ ہی موسم اور موسموں کی تفریح سے لطف اندوز ہونے کے مواقع باقی رہ گئے۔ اس مرتبہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس شہر اور دیگر شہروں کی فضا جس طرح صاف ہوئی اور نیلے آسمان پر ستارے جھلملاتے نظر آنے لگے تو ساتھ ہی موسم بہار نے بھی قدرے طوالت اختیار کر لی۔ایسے میں رب کائنات نے بادل بھی بنائے اور وقفے وقفے سے مینہہ بھی برسا دیا، یوں مارچ تو مارچ اور اپریل سے مئی تک بھی خوشگوار گزر گیا، بلکہ جب جون میں سورج نے اپنا رنگ دکھایا تو پھر ہوا چلا کر پھوار بھی دے دی۔ اب پھر سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، اسی حوالے سے ہمیں یاد آیا کہ برسات کا موسم بھی آنے والا ہے۔ آم تو پہلے ہی مارکیٹ میں آ چکے کہ آج کل ان کو پکانے کے لئے ”گیس مصالہ“ استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگ خرید کر کھا بھی لیتے ہیں، چاہے ذائقہ ہو یا نہ ہو،لیکن ہمیں تو وہ دور اور اپنا لڑکپن یاد آ رہاہے جب آم برسات کے موسم کو دیکھ کر چوسے اور کھائے جاتے تھے، تب لاہور پر آبادی کا دباؤ تھا لیکن اتنا نہیں کہ راستے تنگ ہو جاتے، جب بارش کا آغاز ہوتا تو ہم پرانے شہر والے لوگ دریا پار (جب راوی واقعی دریا تھا) مقبرہ جہانگیر کا رخ کرتے، ہماری دادی جان، والد صاحب اور تایا جان اہتمام کرتے، تایا جان اپنا تانگہ گھوڑا تیار کرتے۔ ابا جان منڈی سے آم لاتے، دادی جان باقاعدہ گوشت اور برتنوں کا اہتمام کرتیں، پورا ٹبر معہ ساز و سامان اپنے تانگے پر سوار مقبرہ جہانگیر پہنچ جاتا، چولہے بنائے جاتے، گوشت بھونا جاتا، بڑے بڑے ٹبوں میں برف ڈال کر آم بھگوئے جاتے کہ ٹھنڈے ہو جائیں، ایسے میں اگر موسم مہربان ہوتا اور پھوار یا بارش شروع ہو جاتی تو رنگ دوبالا ہوجاتا، ہم لڑکے بالے اور بہن بھائی بھاگتے دوڑتے کھیلتے اور بزرگوں کی ڈانٹ والی آوازیں نظر انداز کرتے۔ ”سنبھل کر، چوٹ نہ لگوا لینا، پھر جب بھنا گوشت تیار ہو جاتا اور اباجان تازہ نان بھی لے آتے تو آوازیں دے کر بچوں کو بلایا جاتا اور سب لوگ دریوں پر بیٹھ کر آموں سے لطف اندوز ہوتے اور بھنے گوشت اور نان سے انصاف کرتے، یہاں یہ خیال نہ کریں کہ ہمارا ”ٹَبر“ اکیلا ہی ہوتا، یہ تو ایک مثال ہے، شہر سے آنے والے ایسے اور بھی بہت سے خاندان ہوتے تھے۔ کہیں بریانی اور کہیں قیمے والے نان بھی چلتے اور دیسی مرغی کا سالن بھی پکتا تھا، یوں یہاں ایک میلہ سا ہوتا تھا، شام تک سب لوگ تھک کر سانس لے رہے ہوتے اور پھر واپسی شروع ہو جاتی، اور لوٹ کے گھر آ جاتے، صرف یہی نہیں، اس لاہور کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ”سات دن اور آٹھ میلے“ لیکن اب یہ سب نہیں، میرا وہ لاہور، لاہور نہیں رہا، ہم پرانے شہر کے رہنے والے اپنے پیدائشی علاقے کو دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔ پورا شہر منڈی میں پھیل چکا، سرکاری باغات، جن میں ہم کھیل کود کر بڑے ہوئے تھے۔ شدید نوعیت کی تجاوزات کی زد میں آکر اپنی ہیئت کھو چکے، قبضہ گروپ نے باغات کی زمین پر جگہ جگہ قبضے کرکے عمارتیں بنا لی ہیں، اب تو تاریخی باغ، باغ بیرون موچی دروازہ کا بھی نشان نہیں جو تحریک پاکستان کا مرکز تھا اور نہ ہی حضرت شاہ محمد غوث کے اردگرد کے باغات کی وہ شکل باقی ہے جو تحریک ختم نبوت (1953ء) کے دوران تھی، کہتے ہیں کہ اب حکومت نے ایک والڈسٹی کنٹرول اتھارٹی بھی بنالی ہے جس کی ذمہ داری دور مغلیہ والے شہر کی بحالی ہے۔ اس کو فنڈز بھی دیئے گئے ہیں، ہم تو عرصہ ہوا، پرانے شہر نہیں گئے، بادشاہی مسجد دوبار نکاح کی تقریبات کے لئے جانا ہوا، تاہم سنا یہ ہے کہ اتھارٹی نے اختیارات تو بہت حاصل کئے، لیکن شہر کی بحالی نہیں ہو پائی۔ سڑک پر چار اینٹیں لگانے اور فوڈ سٹریٹ بنانے سے تو شہر کی ہیئت بحال نہیں ہوتی اور نہ ہی شاہی حمام پر بار بار مرمت کے نام پر لاکھوں روپے خرچ کرنے سے عظمت رفتہ واپس آتی ہے۔ اگر آپ بحالی ہی چاہتے ہیں تو شہر کے اردگرد والے سرکلر باغات ہی بحال کر دیں۔ یہی بڑا کام ہو گا، ورنہ ہم تو ادھر جانے ہی کو ترس گئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -