کورونا رُت میں پلاسٹک کے آقا

کورونا رُت میں پلاسٹک کے آقا
کورونا رُت میں پلاسٹک کے آقا

  

بہتر یہی ہے کہ پہلے پورا واقعہ سناؤں اور پھر دوست احباب کو کوئی عالمانہ نتیجہ نکالنے کی ترغیب دی جائے۔ عظیم سائنسدان سر آئزک نیوٹن نے بھی اپنا کشش ِ ثقل کا نظریہ اسی طرح قائم کیا تھا۔ فرق یہ ہے کہ نیوٹن باغ میں بیٹھ کر زمین پہ گرتے ہوئے سیب کو دیکھتا رہا۔ نیوٹن کے برعکس، میری حیرت کا سبب یہ ہے کہ بندے کی حق حلال کی تدریسی کمائی اُس طلسمی کھڑکی سے باہر کیوں نہیں نکلی جسے ہمارے ملک کے لوگ اے ٹی ایم کہتے ہیں۔ یہ آپشن تو بہرحال تھی کہ بینک کے کاؤنٹر پہ پہنچ کر اُس آدمی کے متھے لگوں جو ہر مرتبہ چیک جمع کرتے ہوئے ایک دھمکی دیتا ہے۔ وہ یہ کہ آپ کے نام کے آگے پی یو بمعنی پنجاب یونیورسٹی لکھا ہوا ہے، اگر چاہوں تو اِس پہ رپھڑ ڈال دوں۔ بینک اُس وقت بند تھا، سو اندر جانے کی بجائے مَیں نے اپنی کوشش کا آغاز نئے سرے سے کر دیا۔

پہلا مرحلہ تو و ہی جیسے عام طور پہ ہوتا ہے۔ ڈیبٹ کارڈ کو صحیح رخ پہ مشین کی درز میں ڈالا اور اپنے شناختی نمبر کوڈ کے چاروں اعداد فِیڈ کر دیے۔مشین نے پوچھا کون سی زبان؟ کہا انگریزی۔ سوال ہوا کہ پیسے چاہئیں یا کوئی دوسری سروس، اور اگر پیسے چاہئیں تو کتنے؟ چونکہ جز وقتی استاد کی تنخواہ بھی جز وقتی سی ہوتی ہے، اس لیے جواب میں پانچ سو پہ تقسیم ہونے والی درمیانی سی رقم ٹائپ کر دی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک مخصوص مشینی ’ٹِک‘ کے ساتھ پہلے کارڈ واپس ملتا، پھر دبے پاؤں رسید نکلتی، آخر میں سکون سے نوٹ نیچے آتے جنہیں گِن کر ہاتھوں پہ سینیٹائیزر مل لیا جاتا۔ کارڈ تو بخیر و عافیت واپس آ گیا جو صورت حال کا روشن پہلو ہے۔ گنتی کے نیم صوتی اثرات بھی محسوس ہوئے، لیکن نوٹوں کی جگہ کاغذ د و لفظی ٹکڑا باہر نکلا ’ٹرانزیکشن ریورسڈ‘۔ پنجابی میں کہیں گے ’ہیٹھلی اُتے ہو گئی اے‘۔

مالی ضرورت ہنگامی نوعیت کی تھی، مگر پاکستان چونکہ قدرت کا خاص عطیہ ہے، لہذا مومنانہ روایت کے عین مطابق صبر شکر کی پریکٹس بچپن ہی سے کر رکھی ہے۔ یہ اطمینان کم نہیں تھا کہ کارڈ سلامت ہے، کسی اور اے ٹی ایم پہ برت لیں گے۔ ناصر کاظمی نے ہم جیسوں کو حوصلہ دینے کی خاطر کہا ہے کہ ’بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے‘۔ پر اہلِ دل روپیہ بانٹنے والے شیشہ گھر سے باہر نکلے ہی تھے کہ موبائل پہ ایس ایم ایس آیا ’آپ کے اکاؤنٹ سے رقم منہا کر لی گئی ہے‘۔ آگے وہی اعداد تھے جو مَیں نے پانچ سو پہ تقسیم کیے۔ ’اوئے، یہ کیا ہوا؟‘ اشفاق احمد کے تلقین شاہ کا قول ہے کہ ’جذبات تو بس اُن کے دل میں ہوتے ہیں جن کے چہرے کی رنگت پیلی ہو‘۔ میرا رنگ اُس وقت جیسا بھی تھا، مَیں یہ ثابت کرنے پہ تل گیا کہ اہلِ دل اہلِ دماغ بھی ہوتے ہیں۔

اِن ارفع عزائم کو تقویت موٹر کار میں میری کمک پہ بیٹھے ہوئے اُس دوست نے بخشی جو کورونا ٹیسٹ نیگیٹو آجانے کی خوشی میں یہ نہیں بھولا کہ اُس کی بنیادی ڈگری کامرس کے مضامین میں ہے۔ ’ایس ایم ایس جہاں سے آیا ہے اُس نمبر پہ فون کریں تا کہ جو رقم آپ نکلوانا چاہ رہے تھے کہِیں سچ مچ کٹ نہ گئی ہو‘۔ اب جی گلبرگ کے مین بولیوارڈ پر مانگے کی پرانی کار میں بیٹھ کر موبائل فون تھامتا ہوں۔ ہاتھ جن پہ لمحہ بھر پہلے سینیٹائیزر لیپا تھا، اِس خوف سے کانپ رہے ہیں کہ اِس عمر میں خوشحالی کی یاد گار یہ صوتی آلہ چھن گیا تو بیگم صاحبہ سختی سے پیش آئیں گی۔ آج سے تین سال پہلے جب ایک انگریزی خواں ڈاکو نے نے میرا بٹوے کا بوجھ ہلکا کیا تو یہی علاقہ تھا اور غروب آفتاب کا یہی مانوس منظر۔ فون ملایا، گھنٹی بجی مگر لائن ڈراپ ہو گئی۔ خیر، کیوں نہ دوبارہ ٹرائی ماری جائے؟

دوسری کوشش ابتدائی طور پہ کا میاب رہی۔ ہمارے بینک کا نام ذرا اینگلو انڈین ٹائپ کا ہے۔ خاتون کی خیر مقدمی آواز سُن کر میں نے اردو اور انگریزی میں سے قومی زبان کے حق میں ووٹ تو دیا مگر ریکارڈنگ کا لہجہ کچھ غیر ملکی سا تھا۔ ’ہمارا مینو تبدیل ہو چکا ہے، براہ مہربانی توجہ فرمائیے‘۔ خدا جانتا ہے کہ ’ہمارا‘ اور ’مہربانی‘ کی ’ر‘ سے سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس کیوں یاد آگئیں۔ اِس سے آگے۔۔۔ ’گم شدہ یا چوری زدہ کارڈ کے لیے ایک ملائیں، سیلف سروس بینکنگ کے لیے دو، دیگر پراڈکٹس اور سروسز کے لیے تین، مزید معلومات کے لیے صفر ملائیں۔۔۔‘ اب صفر جو دبایا ہے تو مزید معلومات شروع گئیں۔ ایک، دو، تین اور پھر ایک ہی قابلِ عمل صورت رہ گئی کہ دوبارہ ابتدائی ’مین مینو‘ پہ چلا جاؤں۔ فلسفہ میں اِسے کہتے ہیں ’سرکلر آرگیومنٹ‘۔ مَیں نے گھبرا کر فون بند کر دیا۔

تیسری کوشش میں انگریزی کی آپشن دباتا ہوں۔ ابکے ہدایات ذرا زیادہ واضح ہیں، جس سے خوشی ہو رہی ہے۔ گھپلا وہیں جا کر ہوتا ہے جو ذیلی مینو کا نکتہ ء آغاز ہے۔ کامرس گریجویٹ چلاتا ہے ’اب دو دبا دیں۔۔۔ دو دبا دیں‘۔ دو دباتا ہوں اور واہ، سچ مچ کا آدمی زندہ آواز میں بولنے لگتا ہے ’ہاؤ مے آئی ہیلپ یو، سر؟‘ میں منہ پہ ماسک چڑھائے محتاط پیرائے میں کہانی بیان کرتا ہوں کہ کس طرح اے ٹی ایم سے رقم نکالنے کی کوشش کی، سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو رہا تھا۔۔۔ یہاں تک کہ مجھے عادت کے مطابق، نوٹ گننے کی ہلکی سی آواز بھی سنائی دی، مگر نوٹوں کی بجائے کاغذ کا پرزہ ملا جس پہ درج تھا کہ کارروائی الٹا دی گئی ہے۔ اب ایس ایم ایس ملنے پر خوفزدہ ہوں کہ ہوٹل کے گاہک کی طرح کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے۔ ’ذرا سا انتظار کیجئے‘۔ ہدایت پہ عمل کیا مگر ایک منٹ ہوا تھا کہ رابطہ پھر ٹوٹ گیا۔

یہ مت سمجھیں کہ میری فلم انٹرول سے پہلے ختم ہونے لگی ہے۔ اپنے موبائل کی ہسٹری بغور دیکھوں تو اُس شام وقفہ وقفہ سے ایک ہی نمبر پہ کی گئی کالوں کی تعداد سات بنتی ہے۔ ہاں، جب بھی بامعنی گفتگو کی نوبت آئی، ایک نئی آواز سننے کو ملی اور ہر بار مجھے اپنی کہانی کا خلاصہ دہرانا پڑا۔ پھر بھی آخری مکالمہ کمال کا تھا۔ ’سر، آپ سے تھوڑی دیر پہلے بھی بات ہوئی ہے‘۔ ’جی، کئی لوگوں سے ہوئی، لیکن بات بیچ میں رہ جاتی ہے‘۔ ’اچھا، کارڈ نمبر بتائیے، پچھلے کسی ٹرانزیکشن کی اماؤنٹ اور اپنا سی این آئی سی‘۔ سب کچھ بتا دیا۔ ’یہ سی این آئی سی نمبر صاف کیوں نہیں بول رہے آپ؟‘ ’جب پہلا فون کیا تو سورج چمک رہا تھا، اب اندھیرا ہے اور نمبر پڑھا نہیں جا رہا‘۔ چونکہ کال ریکارڈ ہو رہی تھی، اس لیے اگلی کوشش میں کار کی مدھم لائٹ سے کام لے کر باریک باریک اعداد پڑھنے ہی پڑے اور بالآخر اس جواب سے تسلی ہو گئی کہ ’آپ کے پیسے نہیں کٹے‘۔

فتح کے نشہ میں گھر روانہ ہونے لگے تو کامرس گریجویٹ نے یہ کہہ کر ساری تگ و دو پہ پانی پھیر دیا کہ بینکنگ پریکٹس میں اے ٹی ایم پہ ملنے والی اطلاع تو حتمی شمار ہو تی ہے لیکن ایس ایم ایس کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ ’تم بھی سائینس کی مدد سے میری تو ہین کر رہے ہو‘ مَیں نے ایک مزاحیہ کتاب سے رٹا ہوا فقرہ پھینکا۔ پر ساتھ ہی پینتیس سال پہلے کی بینکنگ پریکٹس یاد آگئی جب بی بی سی لندن کی عالمی سروس کے نواح میں اکاؤنٹ کھولتے ہی گھر کے ایڈریس پہ ایک کارڈ موصول ہوا تھا۔ ہم اِسے استعمال کر کے مہینہ بھر کیش نکلواتے رہے۔ سات سو پونڈ کی واپسی کا حیران کن نوٹس ملنے پہ بینک مینجر سے رجوع کیا تو اُس نے تفصیل سے سمجھایا کہ یہ کریڈٹ کارڈ تھا اور آپ اپنی تنخواہ نہیں بلکہ قرضہ کی رقم کھاتے رہے ہیں۔ ’مگر مَیں نے تو کریڈٹ کارڈ مانگا ہی نہیں تھا‘۔ ’یہ کمپنی پالیسی کے تحت آپ کو بھیج دیا گیا‘۔

آپ مانیں یا نہ مانیں، لیکن سرمایہ داری کے کلچر میں جکڑی ہوئی گوروں کی بعض اَور پالیسیاں بھی مزاحیہ نوعیت کی ہیں۔ جیسے لائف انشورنس کراتے ہوئے سگریٹ نوش کے بر عکس، پائپ پینے والے کو اسموکر نہیں سمجھا جاتا۔ اسی طرح رہائشی مکان کی خریداری کا قسط وار قرضہ مقررہ معیاد سے پہلے یکمشت واپس کر دینے پر یہ لوگ بقایا عرصے کا سود معاف نہیں کرتے۔ الٹا اِس بنا پہ جرمانہ عائد ہو سکتا ہے کہ یہ رقم ایک معینہ مڈت تک آپ کے لیے مختص کی گئی تھی، جسے پہلے لوٹا کر کمپنی پالیسی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جرمانہ والی ایک پالیسی سے مجھے فائدہ بھی پہنچا کہ دوستوں پہ دہشت ڈالنے کے لئے جو امریکی کارڈ جیب میں سنبھال رکھا ہے، اُس سے ایک مرتبہ پاکستان میں ہوائی جہاز کا ٹکٹ نہ ملنے کی تحریری شکایت کر دی تھی۔ اِس پہ کار ڈ والی کمپنی نے کہے بغیر اپنے طور پہ ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک معقول رقم خیر سگالی کی علامت کے طور پر میرے اکاؤنٹ میں یوں ڈال دی۔

وطن ِ عزیز میں کورونا پھوٹ پڑنے سے پہلے بھی ہم ترقی کی اُس سطح پہ نہیں پہنچے جہاں سرمایہ داری مکمل ضابطہء حیات بن جاتی ہے۔ پھر بھی آپ پاکستانی ہوں یا غیر ملکی، جدید جھاکا ٹیکنالوجی کا شکار ہونے والے کارڈ ہولڈر کو پہلے تو پتا ہی نہیں چلتا کہ طاقت کی دوا کی طرح اُس کے جسم و جاں میں فوری قوتِ خرید کہاں سے آ گئی۔ پتا اُس وقت چلتا ہے جب ساتھ ہی دل سے یہ آہ بھی اٹھنے لگے کہ ’درد کی دوا پائی، درد لادوا پایا‘۔ احمد ندیم قاسمی نے سیم و زر کو ’آدمی کے چاکر‘ کہہ کر اِس پہ افسوس کیا تھا کہ ’آدمی سیم و زر کے کام آیا‘۔ ندیم صاحب یہ بھی بتایا کرتے کہ وہ جارج پنجم کے زمانے میں جب محکمہ ایکسائز میں سب انسپکٹر ہو کر بہاولپور گئے تو اس زمانے میں بادشاہ کی تصویر والے سونے چاندی کے سکے ہمارے آقا تھے۔ پر یہ پچھلی صدی کے پہلے نصف کی بات ہے۔ اب نئے دور میں ہمارے آقا سونے چاندی کے نہیں، پلاسٹک کے بنے ہوئے ہیں اور کورونا کی وبا نے اُن کی حاکمیت اور مضبوط کر دی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -