کورونائی بجٹ

کورونائی بجٹ
کورونائی بجٹ

  

حکومت نے کورونا کے موسم میں کورونائی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ آندھی آئے یا کورونا ہر سال جون میں بجٹ پیش کرنا تو لازمی ہوتا ہے۔ پچھلے بہتر برسوں کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ایک گھڑی گھڑائی بجٹ تقریر ہوتی ہے، جس میں اعداد و شمار نئے فٹ کر دیئے جاتے ہیں۔ وہی مشکلات کا رونا، وہی فلاحی بجٹ کا دعویٰ، وہی عوام دوست بجٹ پیش کرنے کی باتیں اور انہی کی آڑ میں غریبوں پر ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافہ،مراعات یافتہ طبقوں کے لئے مزید مراعات اور معیشت کی بہتری کے دعوے، سو اس بار کیا نیا ہوا ہے، سوائے اس بات کے جو اسمبلی میں نظر آئی کہ سب نے ماسک پہنے ہوئے تھے۔ ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی تاریخ مین چہروں پر ماسک پہن کر پہلی بار بجٹ پیش کیا گیا۔ شائد اسی وجہ سے اسے کورونائی بجٹ کہنا مناسب ہوگا۔

حسب سابق اس بجت کے بارے میں سب سے بڑا دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ ٹیکس فری ہے۔ کتنی خوش کن اصطلاح ہے، تیکس فری، جس قوم سے بجلی اور پٹرول پر درجنوں اقسام کے ٹیکس وصول کئے جاتے ہوں، اسے یہ خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ ٹیکس فری بجٹ آ گیا ہے، اخبارات بھی ہیڈ لائن میں اس کا ذکر کرتے ہیں اور ٹی وی چینلز اسے بریکنگ نیوز بنا دیتے ہیں۔ حکومت نے ٹیکسوں سے اپنی آمدنی بڑھانے کا ایک طرف دعویٰ کیا ہے اور دوسری طرف نیا ٹیکس نہ لگانے کی نوید سنائی ہے۔ گویا پرانے ٹیکسوں میں ہی ایسی مہارت دکھائی گئی ہے کہ عوام کی جیبوں سے مزید بچا کھچا بھی نکال لیا جائے اور یہ احسان بھی جتایا جائے کہ دیکھو ہم نے تو کوئی نیا تیکس بھی نہیں لگایا۔ تحریک انصاف کی حکومت کا یہ باقاعدہ دوسرا بجٹ ہے۔ حالانکہ وہ تکنیکی طور پر چار بجٹ پیش کر چکی ہے۔ گزشتہ برس اس نے تین بجٹ پیش کئے تھے۔ اب اس بار دیکھتے ہیں یہ بجٹ کتنے عرصے تک چلتا ہے اور کب نیا بجٹ پیش کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔تحریک انصاف والے تو اس بات کا کریڈٹ بھی لے رہے ہیں کہ کورونا بحران کے دنوں میں جب معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے، تحریک انصاف نے ایک بہت اچھا بجٹ پیش کیا ہے، وگرنہ تو حالات کسی قسم کے بجٹ کی اجازت ہی نہیں دے رہے۔ درست کہتے ہیں وہ بھی، حالات واقعی بہت خراب ہیں، شرح نمو منفی ہو چکی ہے اور پچھلے برسوں کے ٹیکسوں میں 9سو ارب روپے کا شارٹ فال رہاہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بجٹ میں گزشتہ بجٹ کی نسبت 2سو ارب روپے زیادہ کے اہداف مقرر کئے گئے ہیں۔ گویا پچھلا خسارہ بھی پورا کرنا ہے اور مزید دو سو ارب روپے بھی عوام سے وصول کرنے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے، کیا موجودہ ایف بی آر کی کارکردگی ایسی ہے کہ وہ ٹیکس ہدف کو پورا کر سکے۔

حکومت کے لئے کورونا ایک نعمت ثابت ہوا ہے۔ اسی کی وجہ سے اس کی کارکردگی پر جو اس سوالیہ نشان لگنے تھے وہ نہیں لگے۔ اس کے پاس ایک بہانہ آ گیا ہے کہ معیشت کورونا کی وجہ سے متاثر ہوئی، حالانکہ مارچ کے مہینے تک بھی حکومت کی معاشی پالیسیاں کوئی معجزہ نہیں دکھا سکیں تھیں۔ وہی مہنگائی، کساد بازاری، بے روزگاری اور عوام کی زندگی اجیرن کرنے والی صورت حال اس وقت بھی تھی، یہ تو کورونا نے آکر ساری خامیوں پر پردہ ڈال دیا۔ سب کچھ اس میں دب کر رہ گیا۔ سونے پہ سہاگہ کورونا کی وجہ سے ورلڈ بنک، آئی ایم ایف سمیت دیگر ممالک نے اپنے قرضے موخر کر دیئے، وگرنہ خزانے میں دینے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ اب حکومت یہ کریڈٹ لے گی کہ اتنے بُرے حالات میں بھی اتنا اچھا بجٹ پیش کیا ہے، حالانکہ اس میں عوام کے لئے کوئی ایک بھی اچھی خبر نہین، کوئی ایک چیز بھی سستی نہیں ہوئی، بلکہ امکان یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ آٹا، چینی، دالیں اور گوشت تو پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے۔دفاعی بجٹ میں اضافہ غیر متوقع ہے، کیونکہ پہلے یہ خبریں آئی تھیں کہ دفاعی بجٹ کو آرمی چیف کی منظوری سے منجمد کر دیا گیا ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لئے بجٹ بڑھایا گیا ہے، مگر موجودہ حالات میں وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ عمران خان کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ غربت میں کمی لائیں گے اور غریبوں کو اوپر اٹھائیں گے۔ اس بجٹ میں ایسی کوئی خوبی نظر نہیں آئی کہ جس سے یہ اندازہ ہو کہ وہ غربت میں کمی لائے گا، بلکہ روائتی بجٹوں کی طرح اس بجٹ کی وجہ سے غربت اور امارت کے درمیان خلیج مزید بڑھ جائے گی۔ایک زمانہ تھا کہ جب بجٹ عوام کی دلچسپی کا ایک ذریعہ ہوا کرتا تھا، کیونکہ بجٹ میں بجلی، پٹرول، گیس کی قیمتوں کا اعلان بھی کیا جاتا تھا، اب تو ان سب باتوں کو بجٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ سارا سال ان کی قیمتوں کا تعین ہوتا رہتا ہے۔ گویا ہر ماہ ضمنی بجٹ آتے ہیں۔ اس لئے عوام اب جون میں آنے والے بجٹ کو معمول کی کارروائی سمجھتے ہیں۔ ی ہ معمول کی کارروائی اس لئے بھی لگتی ہے کہ اجلاس میں تقریر کے دوران اپوزیشن شورشرابہ ضرور کرتی ہے، ڈیسک بجاتی ہ ے اور اب تو باقاعدہ تقریر کو زبردستی روکنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ آج تک یہ منطق سمجھ نہیں آئی کہ جب اپوزیشن تقریر سنتی ہی نہیں تو اس پر ردعمل کیسے ظاہر کرتی ہے۔ بجٹ سیشن ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے، کیونکہ اس سیشن کے دوران اگر سنجیدہ بحث کی جائے، اچھی تجاویز لائی جائیں تو بجٹ میں بہتری لائی جا سکتی ہے، لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ اپوزیشن نے صرف شورشرابے کے سوا کبھی اس سیشن میں کچھ نہیں کیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حالات چاہے کچھ بھی ہوں، اپوزیشن چاہے کتنی ہے مخالفت کرے، بجٹ منظور بھی ہو جاتا ہے۔ اس لئے کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے کہ بجٹ کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں نوراکشتی ہوتی ہے، جس کا بالآخر نتیجہ بجٹ منظوری کی شکل میں ہی نکلتا ہے اس بار بھی یہی ہوگا۔ البتہ مسلم لیگ (ن) کے ”شعلہ بیاں“ مقررین شاہد بحث میں حصہ نہ لے سکیں، کیونکہ شہبازشریف،شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق سمیت بہت سے کورونا کی وجہ سے گھروں میں قرنطینہ ہو چکے ہیں۔

موجودہ بجٹ سرکاری ملازمین کے لئے صحیح معنوں میں کورونائی بجٹ ثابت ہوا ہے،کیونکہ شائد پہلی بار ان کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ قسم توڑنے کے لئے ہی سہی حکومت اگر پانچ فیصد بھی اضافہ کر دیتی تو سرکاری ملازمین شائد صبر شکر کرکے قبول کر لیتے، مگر اب تو ان ایک اُبال پایا جاتا ہے اور انہوں نے شہر شہر احتجاج کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ اب دیکھتے ہیں حکومت کیا کرتی ہے، کیونکہ اپوزیشن نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کو مسترد کر دیا اور بجٹ منظور نہ ہونے دینے کی دھمکی دی ہے۔ سرکاری ملازمین سارا سال انتظار کرتے ہیں کہ بجٹ میں انہیں کچھ ملے گا، کم از کم حکومت کو پنشنروں کے بارے میں تو سوچنا چاہیے تھا۔ ان کا گزارا محدود پنشن اور قومی بچت مراکز میں رکھی گئی اپنی جمع پونجی کے منافع پر ہوتا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں شرح سود کم کی ہ ے تو قومی بچت کے منافع میں بھی بچاس فیصد کمی ہو چکی ہے۔ گویا پنشنروں کی آمدنی آدھی رہ گئی ہے۔ ایسے میں انہیں بجٹ سے بھی کچھ نہ ملنا ان کے لئے شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے، مگر اس کورونائی فضا، نفسانفسی کے عالم میں کسی کے پاس فرصت ہی کہاں ہے کہ وہ ایسی بے معنی باتوں پر توجہ دے۔

مزید :

رائے -کالم -