تنخواہ، پنشن منجمد اور پٹرول کی قلت کے ذمہ دار؟

تنخواہ، پنشن منجمد اور پٹرول کی قلت کے ذمہ دار؟

  

سرکاری ملازمین (کلرک) کی تنظیم ایپکا نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ ہونے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ ملازمین مضطرب ہیں، ان کے بقول ایک تو مہنگائی نے مارا دوسرے حکومتی یوٹیلٹی بلز بڑھتے چلے جا رہے ہیں، جبکہ بازار میں عام آدمی کو بھی کوئی سہولت حاصل نہیں، حتیٰ کہ پٹرول سستا ہوا تو وہ ملتا نہیں ہے۔ یہ احتجاج درست ہے، مہنگائی حقیقتاً بڑھی جو کم نہیں ہو پا رہی، ایسے میں بجٹ آیا تو اس کے باعث اس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ اس کے مقابلے میں آمدنی میں اضافے کی کوئی صورت نہیں، کورونا کی وبا نے کئی طرح کے اخراجات میں بھی کسی حد تک اضافہ کر دیا، ایسے میں فکس انکم گروپ (تنخواہ دار طبقہ) خصوصی طور پر متاثر ہے۔ کلرک اسی زمرے میں شمار ہوتے ہیں، ان کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ یوٹیلیٹی بلوں کی صورت میں بھی بوجھ بڑھ رہا ہے اور اب حکومت ستمبر، اکتوبر میں بجلی اور گیس کے نرخ او ر بڑھانے کا فیصلہ کر چکی ہے، ایسے میں سارا بوجھ انہی لوگوں پر ہوتا ہے۔ جہاں تک پٹرول کی قلت کا سوال ہے تو وہ واقعی ہے۔ حکومت کی طرف سے اس کی ذمہ داری بڑے ہی احسن طریقے سے ڈیلروں اور کمپنیوں کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ،ماسوا اس کے کہ اس سے عوامی غصہ ٹھنڈا کیا جائے، اس میں حقیقت کا شائبہ بھی نہیں کہ ذمہ دار وہ حضرات ہیں، جنہوں نے نہ صرف سستا تر پٹرولیم خریدا نہیں، الٹا درآمد بھی بند کر دی تھی وہ لوگ واضح ہیں اور حقیقت میں سزا کے مستوجب بھی وہی،باقی سب توجہ ہٹانے کی باتیں ہیں۔ پٹرول کے نرخوں میں دوبار کمی کا فائدہ بھی عوام کو نہیں ملا، اس لئے بے چینی، اضطراب غلط نہیں، ابھی بجٹ کی منظوری کے مراحل باقی ہیں، حکمرانوں کو غور کرنا اور تنخواہوں سمیت ہر نوعیت کی پنشن میں بھی اضافہ کرنا چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -