وائرس زدہ وفاقی بجٹ

وائرس زدہ وفاقی بجٹ

  

قومی اسمبلی میں مالی سال 2020-21ء کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جس کا مجموعی حجم 7137ارب اور خسارہ 3437 ارب ہے۔ مجموعی آمدنی کا تخمینہ 3700 ارب لگایا گیا ہے بیرونی وسائل سے 810 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔ ٹیکس ریونیو کا ہدف 4963ارب روپے رکھا گیا ہے تخمینہ لگایا گیا ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو 2.1 فیصد رہے گی، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا صنعتوں اور پیداوار کے وفاقی وزیر حماد اظہر نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔بجٹ میں ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لئے 2950 ارب روپے رکھے گئے ہیں ترقیاتی بجٹ 1324 ارب روپے پر محیط ہوگا۔ دفاع پر 1290 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ نئے مالی سال میں 2223 ارب روپے کے غیر ملکی قرضے حاصل کئے جائیں گے۔ بھاری فیسیں لینے والے تعلیمی اداروں پر سوفیصد سے زائد ٹیکس لگایا گیا ہے۔ شناختی کارڈ پیش کرنے کی شرط ایک لاکھ روپے کی خریداری پر لاگو ہوگی، سی پیک منصوبوں کے لئے 118 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سبسڈیز کے لئے 210 ارب روپے اور نیا پاکستان ہاؤسنگ کے لئے 30ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 25اور انکم ٹیکس کی مد میں 20ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے اخراجات ریکارڈکم کر دیئے گئے ہیں اخراجات کے لئے 86کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

اگرچہ وفاقی وزیر نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا لیکن قومی اسمبلی میں جو فنانس بل پیش کیا گیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں لگژری گھروں اور فارم ہاؤسز کے مالکان سے پہلی مرتبہ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ دو سے چار کنال کے بنگلوں پر 4لاکھ جبکہ پانچ کنال سے زائد پر 10لاکھ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ دس ہزار مربع فٹ سے زائد پر ایک کروڑ روپیہ ٹیکس لگایا گیا ہے۔ بجٹ میں جو اضافی ٹیکس تجویز کئے گئے ہیں اور سگریٹ، انرجی ڈرنکس اور بعض دوسری اشیائے تعیش پر ایکسائز ڈیوٹیوں میں جو ردوبدل کیا گیا ہے اس سے مجموعی طور پر 200ارب روپے حاصل ہوں گے۔ ایف بی آر کے لئے ٹیکس ریونیو جمع کرنے کا جو ہدف رکھا گیا ہے۔ وہ رواں مالی سال میں حاصل شدہ رقوم سے 1000ارب روپے زیادہ ہے۔ رواں سال میں اگر بمشکل 3900ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگلے سال کے لئے مقررہ ہدف کا حصول کتنا مشکل ہوگا تاہم اگر اتنا ٹیکس اکٹھا کر لیا جائے تو یہ بڑی کامیابی ہو گی، جی ڈی پی کی شرح نمو 2.1 فیصد رکھی گئی ہے لیکن عالمی ادارے ابھی سے یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ یہ ہدف بھی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ کورونا کی وبا جو اس وقت تیزی سے پھیل رہی ہے اگر ڈیڑھ دو ماہ میں اس پر قابو پا لیا گیا اور معیشت کا پہیہ چل پڑے تو شائد بہتری آ جائے۔

15سال میں پہلی مرتبہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ماضی میں ہر سال زیادہ یا کم شرح سے اضافہ ہوتا رہا ہے، جس کا مقصد افراطِ زر کا مقابلہ کرنا ہوتا تھا۔ اب بھی ملازمین اور بوڑھے پنشنروں کو امید تو تھی کہ کم از کم دس فیصد اضافہ ہوگا لیکن آئی ایم ایف نہ صرف اضافے کا مخالف تھا بلکہ اس کی تجویز تو یہ تھی کہ تنخواہیں دس فیصد تک کم کر دی جائیں۔ اس لئے سرکاری ملازمین کو مطمئن ہونا چاہیے کہ اضافہ نہیں ہوا تو تنخواہیں کم بھی نہیں ہوئیں، بجٹ میں پنشنوں کی ادائیگی کے لئے 470 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی تجویز یہ بھی ہے کہ پنشنوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال سے بڑھا کر 66کر دی جائے، تاہم یہ ابھی تجویز ہی ہے اور گزشتہ دو سال سے گردش کر رہی ہے اس کی حمایت اور مخالفت ہو رہی ہے۔ آئی ایم ایف اس کا حامی ہے لیکن کیا یہ تجویز قبول کر لی جائے گی۔ فی الحال اندازہ نہیں ہے۔

حکومت کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اس وقت قرضوں پر سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ کورونا کی وجہ سے بعض غیر ملکی قرضے موخر کر دیئے گئے ہیں اور اگلے مالی سال میں حکومت کو اس مد میں ادائیگیاں نہیں کرنا پڑیں گی۔ یہ ایک بڑا ریلیف ہے اور عین ممکن ہے بعض دوسرے قرضے بھی ری شیڈول ہو جائیں لیکن اس کے باوجود قرضوں پر سود کی ادائیگی پر آدھے سے زیادہ بجٹ خرچ ہو جائے گا اور ہر سال یہ رقم بڑھتی ہی جاتی ہے اس کا حل بھی تلاش کرکے قرضوں پر انحصار کم کرنا چاہیے لیکن حکومت نے قرض کے حصول کے تمام سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیئے ہیں۔ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے اب بھی قرضے ہی لینے پڑیں گے لیکن حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ آئندہ برسوں کے لئے کم سے کم قرض لینا پڑے اس مقصد کے لئے نہ صرف ٹیکس سے حاصل آمدنی میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ نان ٹیکس ریونیو بھی بڑھانا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب بڑھانے کی ضرورت ہے۔ رواں مالی سال میں جو ٹیکس جمع ہونے کی امید ہے وہ جی ڈی پی کا 9.4فیصد ہے جبکہ اگلے مالی سال کے لئے ٹیکسوں کا جو ہدف رکھا گیا ہے اگر وہ حاصل ہو گیا تو یہ شرح 10.9 فیصد تک پہنچ جائے گی جو دنیا کی کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ ماہرین کے خیال میں یہ شرح کم از کم چودہ پندرہ فیصد تک ہونی چاہیے۔ ویسے دنیا کے خوشحال اور ترقی یافتہ ملکوں میں تو جی ڈی پی کے 30فیصد سے بھی زیادہ ٹیکس جمع ہوتا ہے۔ ٹیکس کے نظام میں اگر اصلاحات نہ لائی گئیں اور امیروں پر براہ راست ٹیکس میں اضافہ نہ کیا گیا تو جلد وہ وقت آ جائے گا جب قرضوں کا بوجھ ہوشربا ہو جائے گا اور ٹیکس سے حاصل شدہ ساری آمدنی قرضوں کا سود ہی کھا جائے گا جب تک وزیراعظم عمران خان برسراقتدار نہیں آئے تھے ان کا خیال تھا کہ پاکستان میں آٹھ سے دس ہزار ارب تک ٹیکس اکٹھا کرنا مشکل نہیں اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب اوپر دیانتدار لوگ بیٹھے ہوں یہ شرط تو اب پوری ہو چکی اس لئے اگر دیانت داروں کی موجودگی کے باوجود ٹیکسوں کے اہداف حاصل نہیں ہو پا رہے تو پھر خرابی کہیں اور ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کا سارا بوجھ بالآخر غریب صارفین تک منتقل ہو جاتا ہے، پٹرول اور موبائل فون پر ٹیکس اس کی مثالیں ہیں جو امیر اور غریب یکساں شرح سے ادا کر رہے ہیں۔ پٹرول پر ٹیکسوں کا کوئی نیا فارمولا سامنے لانا چاہیے۔

مہنگے تعلیمی اداروں پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے وہ بھی بالآخر طالب علموں کے والدین پر ہی منتقل ہو گا اس ٹیکس کی منطق غالباً یہ ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کی فیس کی شکل میں بھاری رقوم ادا کرتے ہیں وہ ٹیکس بھی دیں لیکن جو والدین اتنی بھاری فیسیں دیتے ہیں ان کے ذرائع آمدن کا بھی سراغ لگایا جائے جن سرکاری ملازمین کے بچے ان مہنگے سکولوں میں زیر تعلیم ہیں ان کی تو پوری پوری تنخواہ بھی اس کی کفالت نہیں کر سکتی اس لئے اگر وہ اپنے بچوں کو ان سکولوں میں پڑھا رہے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان کے ذرائع آمدن تنخواہوں سے ماورا بھی ہیں جو ضروری نہیں جائز بھی ہوں اگر ان کا سراغ لگایا جائے تو اس کرپشن کا بھید بھی کھل سکتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ روزانہ آٹھ سے بارہ ارب روپے کی گردش اس مد میں ہوتی ہے۔ ایک زمانے میں اس کے بہت چرچے تھے اب دو سال سے اس کا کوئی ذکر اذکار نہیں۔ ممکن ہے اس کا خاتمہ ہو گیا ہو، لیکن اگر کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ برقرار ہے تو اس کا بھی سراغ لگانا ہو گا کیونکہ کرپشن کے یہ دروازے اگر بند ہو جائیں تو عوام سکھ کا سانس لیں گے اس کا بوجھ بھی بالآخر انہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے بھی ہر برس ایک بڑی رقم کھا جاتے ہیں کیا اس کا کوئی تدارک ممکن ہے۔ بجٹ میں تو ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آتی اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سفید ہاتھیوں کی پرورش پہلے کی طرح اب بھی کی جاتی رہے گی۔ ایسے میں اگر ایف بی آر نے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف حاصل کر بھی لیا تو کیا حاصل؟ کہ یہ بھی اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -