اسپیکر کی زیر صدارت اجلاس:ورچوئل بجٹ اجلاس بلانے پر اتفاق نہ ہوسکا

اسپیکر کی زیر صدارت اجلاس:ورچوئل بجٹ اجلاس بلانے پر اتفاق نہ ہوسکا

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اسپیکر آغا سراج درانی کی زیرصدارت اجلاس میں سندھ اسمبلی کا بجٹ سیشن ورچوئل بلانے کے حوالے سے ایوان میں موجود جماعتوں میں اتفاق نہیں ہوسکا جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔اس ضمن میں وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شا نے کہا ہے کہ موجودہ حالات انتہائی غیر معمولی ہیں۔کئی ارکان کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں،اس لیے ہم ورچوئل اجلاس بلانے کے حق میں ہیں۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج کی زیر صدارت ایوان میں موجود جماعتوں کا اجلاس ہوا،جس میں اپوزیشن ارکان نے بھی شرکت کی۔ایم کیو ایم پاکستان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔اجلاس میں بجٹ سیشن ورچوئل بلانے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ آج کا اجلاس سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے لیے بلایا تھا۔گزشتہ اجلاس میں بہت سے ارکان کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ہماری تجویز تھی کہ بجٹ اجلاس ورچوئل ہونا چاہیے۔اس اجلاس میں تمام ارکان حصہ لے سکے ہیں۔یہ غیر معمولی حالات ہیں۔پیر کے اجلاس میں 25فیصد ارکان کی حاضری ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ تحفظات ہیں۔اس بجٹ میں صرف تسلی سے کام لیا گیا ہے۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاق کی بہت پرانی خواہشات ہیں۔این آئی سی وی ڈی کی انکوائری کرانے کے لیے تیار ہیں۔۔این آئی سی وی ڈی جیسا ادراہ کہیں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے لیے ہم نے سب سے پہلے اقدامات کیے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ سندھ حکومت کی سپورٹ کرتی ہے۔یہ وائرس باہر سے آیا ہے۔وائرس کے پھیلاؤ میں وزیراعظم اور وفاقی حکومت کا ہاتھ ہے۔اب عمران خان کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک بڑا فلو ہے۔ادھر ایم کیو ایم کے رہنما کنور نوید جمیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت غیر سنجیدہ ہے۔ گزشتہ اسمبلی اجلاس سے پہلے ارکان اسمبلی کے ٹیسٹ کی رپورٹ ابھی تک نہیں آئی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -