مقبوضہ کشمیر میں بھارت کیخلاف کشمیری جوانوں کی جدوجہد رنگ لائے گی،شاہ محمود

  مقبوضہ کشمیر میں بھارت کیخلاف کشمیری جوانوں کی جدوجہد رنگ لائے گی،شاہ ...

  

لاہور /اسلام آباد(آئی این پی)وزیر خاجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بوکھلاہٹ کا شکار بھارت خطے کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف کشمیری جوانوں کی جدوجہد رنگ لائے گی، کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں،جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے مقامی لوگوں کو ریلیف ملے گا، سیکرٹریٹ کے قیام سے عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل ہوں گے، اس اقدام سے گورننس بہتر ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات میں کیا۔ملاقات میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام، سیاسی صورتحال اور کورونا سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔قبل ازیں ایک بیان میں وزیر خارجہ نے مالی سال 2020-21کے بجٹ پر اپوزیشن کے رویہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاش اپوزیشن کا رویہ سنجید ہ ہوتا،حکومت نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا عوام پر بے جا بوجھ نہیں ڈالا،ماضی کی حکومتوں کیلئے لئے گئے قرضہ جات پر سود کی ادائیگی میں ہمارے بجٹ کا بہت بڑا حصہ صرف ہوتا ہے،جی 20 اور پیرس کلب نے ہمیں کچھ رعایت دی ہے جس پر خوشی ہے،مزید رعایت حاصل کر نے کیلئے ہماری توجہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف مرکوز ہے، مشکل حالات میں انتہائی مناسب، حوصلہ افزا، اور پرامید بجٹ دینے پر میں وزیر خزانہ اور ان کی پوری معاشی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے ا پنے ویڈیو بیان میں کہاکہ ہمارا جی ڈی پی آمدن میں جو خسارا ہوا ہے وہ 3000 ارب کا ہے،-2020-21کا. بجٹ غیرمعمولی حالات میں پیش کیا گیا جب کورونا وبا نے دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے،معیشت کا پہیہ رک جانے کی وجہ ہمارے محصولات میں 800 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جولائی سے مارچ تک ہماری برآمدات میں اضافہ ہوا جبکہ مارچ سے جون تک کورونا کی وجہ سے ان میں تیزی کے ساتھ کمی آئی،جیسا کہ عوام جانتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں کیلئے لئے گئے قرضہ جات پر سود کی ادائیگی میں ہمارے بجٹ کا بہت بڑا حصہ صرف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے یہ قرضے نہیں لیے، یہ ماضی کی حکومتوں نے لیے ہیں لیکن ہمیں ان کی ادائیگیاں کرنا ہیں۔ انہوں نے کہاکہ2020-21 کے بجٹ کی خاصیت یہ ہے کہ حکومت نے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا عوام پر بے جا بوجھ نہیں ڈالا بلکہ ماضی کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کی ہے بالواسطہ ٹیکسز، ڈیوٹیز اور ٹیرف کو کم کیا جا ریگولیٹری ڈیوٹیز کو کم کیا،ہماری کوشش ہے کہ ہم ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنائیں جبکہ ٹیکس نظام کی آٹو میشن سے ٹیکس وصولی میں یقینابہتری آئے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ کرپشن میں کمی واقع ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بھارت کے عزائم کو جاننے کے باوجود، دفاعی اخراجات کی مد میں بھی اضافہ نہیں کیا تاکہ لوگوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اور یہ بہت بڑا فیصلہ ہے اور اس سلسلے میں افواج پاکستان نے معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے ساتھ بے پناہ تعاون کیا ہے۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -