سندھ حکومت نے محکمہ زراعت پر لگائے جانے والے الزامات مسترد کر دیے

  سندھ حکومت نے محکمہ زراعت پر لگائے جانے والے الزامات مسترد کر دیے

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت نے محکمہ زراعت پر لگائے جانے والے الزامات مسترد کر دیے، اور سندھ کے وزیر زراعت نے ٹِڈی دل کے حوالے سے محکمہ زراعت کے خرچے کی ایک ایک تفصیل پیش کر دی۔تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر اسماعییل راہو نے الزامات لگانے والوں کو چیلنج کر دیا ہے کہ محکمہ زراعت کی کرپشن کی جھوٹی کہانیاں بیان کرنے والے ہمارے پیش کردہ حقائق کو غلط ثابت کر کے دکھائیں۔انھوں نے کہا کہ محکمہ زراعت پر لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات ہم مسترد کرتے ہیں، اپوزیشن کی طرف سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے آپریشن میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی۔اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہا گیا کہ محکمہ زراعت نے ٹڈی دل آپریشن میں 60 کروڑ کا ٹیکا لگایا، یہ بھی جھوٹ بولا گیا کہ محکمہ زراعت کو ٹِڈی دل کی مد میں ایک ارب روپے مل چکے ہیں، محکمہ زراعت کو 60 کروڑ ملے ہی نہیں تو 60 کروڑ روپے کی کرپشن کیسے ہو گئی۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال 2019 میں محکمہ زراعت سندھ کو 33 کروڑ روپے جاری کیے گئے، مختص بجٹ میں سے 8 سنگل کیبن گاڑیاں 24، 2 کروڑ 76 لاکھ 44 ہزار روپے میں آئیں، 11 سنگل کیبن گاڑیاں 44، 5 کروڑ 34 لاکھ 16 ہزار روپے میں آئیں، خریدی گئی تمام گاڑیوں کی ادائیگی ٹویوٹا ہائی وے موٹرز کو پے آرڈرز کے ذریعے کی گئی۔مختص بجٹ میں سے ایک ہزار ہینڈ اسپرے 43 لاکھ 20 ہزار روپے، 300 سولو اسپریئر 87 لاکھ 88 ہزار 500 روپے میں، 1 لاکھ 25 ہزار لیٹر کیڑے مار دوائی 6 کروڑ 43 لاکھ 9 ہزار 750 روپے میں خریدی گئی۔ ٹیموں کو ٹی اے ڈی اے کی مد میں 89 لاکھ 53 ہزار 742 روپے دیے گئے، کرائے پہ لی گئی خدمات کی ادائیگی 17 لاکھ 41 ہزار 3 سو روپے سے کی گئی، پرنٹنگ پر 10 لاکھ 2 ہزار 990 روپے خرچ ہوئے، تیل اور مینٹننس پر 1 کروڑ 17 لاکھ 62 ہزار 649 روپے خرچ ہوئے، کرائے پر گاڑیوں کے اخراجات ایک کروڑ 49 لاکھ 47 ہزار 989 روپے ہوئے۔اسماعیل راہو کے مطابق ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے مجموعی طور پر 196,975,920 روپے خرچ ہوئے، تمام اخراجات کر کے بھی ہم نے 12 کروڑ کی بچت کی جو آنے والی مہم میں خرچ ہوں گے، یہ رقم کرونا وبا کی وجہ سے فریز کی گئی جو اب ریلیز ہونی ہے، اب تک خرچ کی گئی رقم سے گزشتہ سال فیلڈ ٹیمز نے 6 لاکھ 37 ہزار ایکڑ صحرا اسپرے کیا۔وفاقی ادارے DPP کی آئینی ذمہ داری ہونے کے باوجود صحرائی علاقوں میں زیادہ تر مہم محکمہ زراعت سندھ نے چلائی، 57 ٹیمیں پورا سال مصروف عمل رہیں، جب کہ وفاق نے فقط 8 ٹیمیں مہیا کیں، مختص رقم سے محکمہ زراعت سندھ نے ایک لاکھ 22 ہزار613 ایکڑ فصل پر بھی اسپرے کیا، سندھ حکومت ابھی جو گاڑیاں، اسپریئر، دوائی وغیرہ خرید رہی ہے یہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے جو وفاق نے منظور کیا، جس میں صوبوں کو بھی وسائل مہیا کرنے ہیں، سندھ تو وفاق کے نیشنل ایکشن پلان میں اپنا حصہ دے رہا ہے لیکن وفاق کے جہاز ابھی تک نہیں پہنچے، وفاق نے ٹِڈی دل کے خاتمے کے لیے 6 نئے جہازوں کی جگہ ایک پرانا جہاز کھڑا کیا ہوا ہے، جس کا پائلٹ بھی ہر وقت دستیاب نہیں ہوگا۔انھوں نے کہا وفاق کی جانب سے سندھ کو ڈیزرٹ میں فیلڈ آپریشن کے لیے 110 گاڑیاں بھی نہیں دی گئیں، ٹِڈی دل کی خطرناک صورت حال میں بھی پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے سندھ کو فقط 6 گاڑیاں دی ہیں، نیشنل ایکشن پلان کے پہلے مرحلے میں سندھ کو 286 ملین روپے دینے ہیں، سندھ نے وفاق کے نیشنل ایکشن پلان میں اپنے حصے کی رقم سے پلان کے تحت 21 ڈبل کیبن 44 گاڑیاں خریدیں، مختص رقم میں سے وہیکل مانٹڈ اور ٹریکٹر مانٹڈ اسپریئر، جی پی ایس اور کیڑے مار ادویات بھی لی جا رہی ہیں، خریدی گئی گاڑیاں سروے اینڈ سرویلنس اور اسپرے کے لیے استعمال ہوں گی۔محکمہ زراعت نے گزشتہ سال سنگل کیبن گاڑیاں خریدی تھیں، ایک بھی ڈبل کیبن نہیں لی گئی، اس وقت ڈبل کیبن گاڑیاں محکمے کو وفاق کے نیشنل ایکشن پلان کی وجہ سے خریدنی پڑی ہیں، سندھ حکومت مالی بحران کے باوجود ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، وفاق کی جانب سے ٹِڈی دل کے خاتمے کے اقدامات نہ کیے جانے پر سارا بوجھ سندھ پر پڑ رہا ہے۔دریں اثنا، اسماعیل راہو نے مطالبہ کیا کہ وفاق سندھ کے ڈیزرٹ میں فضائی اور زمینی آپریشن کے لیے 6 جہاز اور 110 گاڑیاں NDMA کو مہیا کرے، وفاق نے فوری اقدامات نہ کیے تو یہ ٹڈی دل کی وبا بے قابو ہو جائے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -