کورونا کے مریضوں میں ہونے والی ایک اور پیچیدگی کا انکشاف

کورونا کے مریضوں میں ہونے والی ایک اور پیچیدگی کا انکشاف
کورونا کے مریضوں میں ہونے والی ایک اور پیچیدگی کا انکشاف

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا بھر میں لاکھوں جانیں نگلنے والےقاتل کورونا وائرس سے ہونے والی ایک اور پیچیدگی سامنے آگئی۔ طبی ماہرین کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ذیابطیس کا خطرہ بڑ ھ جاتا ہے۔

طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع  17ممتاز طبی ماہرین کی جانب سے لکھے گئے ایک خط میں  اس پریشان کن پیچیدگی کاانکشاف کیا گیا ہے۔ 

ماہرین نے یہ خط ان مریضوں کے مشاہدے کی بنیاد پر تحریر کیا تھا جو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے اور بعد میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کس طرح کورونا وائرس ذیابیطس کا باعث بن سکتا ہے۔

 تحقیق میں بتایا کہ ایس 2 نامی وہ پروٹین جس کو سارس کوو 2 وائرس خلیات کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، صرف پھیپھڑوں میں ہی نہیں بلکہ ان تمام اعضا اور ٹشوز میں پایا جاتا ہے جو گلوکوز میٹابولزم میں کردار ادا کرتے ہیں جیسے لبلبہ۔

محققین کا ماننا ہے کہ ان ٹشوز میں داخل ہوکر یہ وائرس ممکنہ طور پر اپنی نقول بناتا ہے اور گلوکوز میٹابولزم کے افعال کو متاثر کرتا ہے۔

یہ بات کئی برس پہلے ثابت ہوچکی ہے کہ وائرس انفیکشن ذیابیطس ٹائپ 1 کا شکار بناسکتا ہے۔

کووڈ 19 کے مریضوں میں ذیابیطس کے نئے کیسز کو محققین نے کووڈیب رجسٹری پروجیکٹ کا نام دیا ہے۔

 تحقیقی ٹیم میں شامل کنگز کالج لندن کے میٹابولک سرجری کے پروفیسر فرانسسکو روبینو نے بتایا کہ کووڈ 19 کے کچھ مریضوں پہلے ہی ذیابیطس کے شکار تھے اور انہیں اس کا علم نہیں تھا۔

مزید :

کورونا وائرس -