امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام کی ہلاکت، اس کے بعد پولیس چیف نے کیا کیا؟

امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام کی ہلاکت، اس کے بعد پولیس چیف نے ...
امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام کی ہلاکت، اس کے بعد پولیس چیف نے کیا کیا؟

  

اٹلانٹا(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی ریاست جارجیا کے دارلحکومت اٹلانٹا میں پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام شہری ہلاک ہوگیا۔ فاکس نیوز کے مطابق ایک شہری کے بارے میں پولیس کو درخواسست دی گی تھی کہ وہ ایک ریسٹورنٹ کے ڈرائیو تھرو راستے پر موجود گاڑی میں سو رہا ہے جس پر پولیس آفیسر وہاں گیا اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی۔

سیاہ فام شہری نے گرفتاری کی مزاحمت کی اور پولیس کے مطابق وہ آفیسر کا ٹیزر چھین کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کررہا تھا کہ  پولیس آفیسر نے اسے گولی مار کرہلاک کردیا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کے اس اقدام نے سیاہ فام شہریوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں مزید شدت ڈال دی ہے۔ مقتول کا نام ریشرڈ بروکس بتایا جاتا ہے۔

اس واقعے پر اٹلانٹا کی پولیس چیف ایریکا شیلڈز نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ میئر اٹلانٹا کیشا لینس باٹمز کے مطابق خاتون پولیس چیف نے اپنا استعفیٰ انہیں بھجوادیا ہے اور استعفیٰ دینے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا۔

استعفیٰ دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایریکا شیلڈز نے کہا کہ پولیس کو طاقت کا ایسے بہیمانہ استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا اور اس آفیسر کو گرفتار کرنا چاہیے۔

خیال رہے 25مئی کو امریکی شہر منی ایپلس میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد نہ صرف امریکا بلکہ کینیڈا، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک مٰیں سیاہ فام افراد کے حق مٰیں اور نسل پرستی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ دنیا کے کئی ملکوں میں پرتشدد مظاہرے کیے گئے ہیں۔

امریکا میں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ مظاہرے ہوئے جہاں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔

بلیک لائیو میٹرز کے عنوان سے ہونے والے ان مظاہروں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -