کورونا وائرس ، نسل پرستی، امریکی صدر کے لیے اب تک کی سب سے بری خبرآگئی

کورونا وائرس ، نسل پرستی، امریکی صدر کے لیے اب تک کی سب سے بری خبرآگئی
کورونا وائرس ، نسل پرستی، امریکی صدر کے لیے اب تک کی سب سے بری خبرآگئی

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) کورونا وائرس سے نمٹنے کے طریقہ کار، معاشی مسائل  اور سیاہ فام شہری کی ہلاکت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں بنتی نظر آرہی ہیں۔

امریکی صدر کے حامی میڈیا پر ان سے متعلق کی گئے ایک سروے کی رپورٹ امریکی صدر کے لیے شاید اب تک کی سب سے بری خبر ہے۔ وال سٹریٹ جنرل اور سی این بی سی کی جانب سے کیے گئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکی صدر کی مقبولیت میں تیزی کے ساتھ کمی ہوئی ہے اور اس وقت امریکا بھر کے 53 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا ہے جبکہ 53 فیصد میں سے 47 فیصد نے شدید مایوس کن قرار دیا۔

سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکی صدر کی مقبولیت 42 فیصد رہ گئی ہے جبکہ ان کے حریف ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن کی مقبولیت ان سے 7پوائنٹس زیادہ ہے یعنی عوام میں ان کی اس وقت مقبولیت 49فیصد ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق ماضی میں جمی کارٹر اور جارج بش سینیر بھی اس صورتحال کا سامنا کرچکے ہیں مذکورہ دونوں صدور بھی دوسری بار اپنا الیکشن ہار گئے تھے۔ 

رپورٹ کےمطابق جمی اور جارج کے دوسری بار  الیکشن سے قبل  جون ہی کے مہینوں میں کیے گئے سروے میں ان کی مقبولیت چالیس چالیس فیصد رہ گئی تھی۔ صدر ٹرمپ بھی چالیس سے تھوڑی زیادہ مقبولیت رکھتے ہیں جو ان کی دوسری بار کامیابی کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہونے والا ملک بن چکا ہے جہاں ایک لاکھ 17ہزارسے زیادہ ہلاکتیں اور بیس لاکھ سے زیادہ متاثرین نے معمولات زندگی درہم برہم کردیئے ہیں۔

دوسری جانب س25مئی کو سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی جارہی ہے۔ شہر شہر لاکھوں افراد کے مظاہرے ،تشدد، توڑ پھوڑ  اور جلاؤ گھیراؤ امریکی صدر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔

نومبر 2020کاصدارتی الیکشن امریکی صدر کے لیے کیا پیغام لائے گا اس کا پتہ تو وقت آنے پر چلے گا تاہم امریکی صدر کے ایک بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں بھی اس بار کامیابی مشکل نظر آرہی ہے، امریکی صدر نے گزشتہ سے پیوستہ روز کہا تھا کہ اگر وہ الیکشن ہار گئے تو کوئی اور کام کریں گے۔

مزید :

بین الاقوامی -