پٹرولیم لیوی میں اضافہ اور ٹیکس جمع کرنے کے انوکھے طریقے

پٹرولیم لیوی میں اضافہ اور ٹیکس جمع کرنے کے انوکھے طریقے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال میں  پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ کرنا ہو گا، اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں اُن کا کہنا تھا کہ ”پٹرولیم لیوی20روپے لیٹر تک بڑھائی جا سکتی ہے“ اِس وقت پٹرول اور ڈیزل پر چار سے پانچ روپے تک لیوی وصول کی جا رہی ہے۔پٹرولیم لیوی کا ہدف610 ارب روپے حاصل کرنے کے لئے حکومت کو اِس میں اضافہ کرنا ہو گا تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس سے افراطِ زر نہیں بڑھے گا، کیونکہ متوقع طور پر ایران کے خلاف امریکی پابندیاں ختم ہونے والی ہیں، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، ایسی صورت میں حکومت کے پاس یہ موقع ہو گا کہ وہ لیوی میں اضافہ کر دے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اِس امر پر مفاہمت ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کو موخر ادائیگی کی بنیاد پر تیل کی فراہمی شروع کر دے تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ  کتنا تیل ادھار  درآمد کیا جائے گا اور ادائیگی کا طریق ِ کار کیا ہو گا؟
ایسے محسوس ہوتا ہے کہ نئے ٹیکس کی گولی اب شوگر کوٹ کر کے مریضوں کے حلق سے اتاری جائے گی، کیونکہ شوکت ترین صاحب جب سے وزیر خزانہ بنے تھے بڑے طمطراق سے اعلان کرتے چلے آ رہے تھے کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، اب اگر بجٹ میں ٹیکس لگتے تو شور مچ جاتا اور ”ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے“ جو بجٹ پیش کیا جا رہا تھا اس کا سارا بھید کھل جاتا، اِس لئے بجٹ میں بھی چھپ چھپا کر383 ارب روپے کے نئے ٹیکس تو لگا ہی دیئے گئے، اگرچہ اب کی بار ان کا نام بدل دیا گیا۔ ایف بی آر نے اپنے ”انتظامی اقدامات“ کے ذریعے یہ ٹیکس وصول کرنے ہیں، اب اگر پٹرولیم لیوی چار یا پانچ روپے فی لیٹر کی بجائے20 روپے لیٹر کر دی جائے گی تو کیا یہ نیا ٹیکس نہیں ہو گا؟ اور کیا بجٹ کے ساتھ اس ٹیکس کی منظوری دی، فنانس بل میں ترمیم کر کے لی جائے گی یا پھر بعد میں کسی وقت خاموشی سے یہ اضافہ کر دیا جائے گا؟تاہم وزیر خزانہ نے یہ دلچسپ اعلان بھی کیا ہے کہ مالی سال کے دوران کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا،لیکن اگر پٹرولیم لیوی بڑھے گی  تو کیا اِسے منی بجٹ کا نام نہیں دیا جائے گا اور اس کے لئے میڈیا کو کوئی دوسرا اچھا سا نام رکھنا ہو گا۔ فی الحال تو وزیر خزانہ نے لیوی بڑھانے ہی کی بات کی ہے، چند ہفتوں یا چند مہینوں کے بعد وہ مزید کھل کر سامنے آ سکتے ہیں اور کچھ ایسے اقدامات بھی کر سکتے ہیں جن کا مقصد تو ٹیکس جمع کرنا ہو گا، لیکن انہیں بھی شاید نام کوئی اور دینا پڑے۔
پٹرولیم لیوی کیوں عائد کی جاتی ہے؟ سادہ الفاظ میں یہ تیل کی کم ہوتی قیمتوں کو بدستور اونچی سطح پر قائم رکھنے کا ایک طریقہ ہے، کیونکہ جب تیل کی قیمت عالمی سطح پر گرتی ہے تو حکومت کو اس سے حاصل ہونے والی آمدن بھی کم ہو جاتی ہے، چونکہ حکومت ”عوام دوستی“ کا بھرم بھی قائم رکھنا چاہتی ہے،اِس لئے وہ تیل کی قیمتیں کم نہیں ہونے دینا چاہتی اور اُنہیں ایک ہی سطح پر رکھنے کے لئے اتنی ہی لیوی بڑھا دیتی ہے تاکہ صارفین خواہ مخواہ کم بیشی کے چکر میں پڑ کر کنفیوژ نہ ہوں۔ لیوی کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح حاصل ہونے والی رقم میں سے وفاق کو صوبوں کا حصہ نہیں دینا پڑتا، تیل پر پہلے ہی جو  قسِما قِسم کے ٹیکس لگے ہوئے ہیں اگر ان میں اضافہ ہو گا تو اضافی رقم میں سے خود کار طریقے سے صوبوں کو بھی کچھ نہ کچھ حصہ چلا جائے گا اور وفاق کا ٹیکس بڑھانے کا مقصد پورا نہیں ہو گا۔ پٹرولیم لیوی اس مقصد کے لئے عائد کی جاتی ہے تاکہ صوبوں کو حصہ  دیئے بغیر یہ وفاق کے خزانے میں چلی جائے۔
شوکت ترین نے اپنی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں مزید اعلان کیا کہ خریدار دکاندار سے پکی رسید لیں، کیونکہ ایسی رسیدوں پر بعد میں قرعہ اندازی ہو گی اور اس میں شریک لوگوں کو انعام دیئے جائیں گے، حکومتوں کے طریق بھی نیارے ہیں کہیں تو وہ عالمی اداروں کے کہنے پر انعامی سکیمیں بند کر رہی ہیں جیسے 40ہزار، 25ہزار،15ہزار اور ساڑھے سات ہزار والے انعامی بانڈ بند کر دیئے گئے ہیں، لوگ اِن بانڈز پر اپنی بچتیں انوسٹ کرتے تھے اور انعام کے لالچ میں زیادہ سے زیادہ بانڈ خرید لیتے تھے اِس طرح قومی بچت کی ان سکیموں کے ذریعے حکومت کے پاس بڑی رقوم جمع ہو جاتی تھیں۔عین ممکن ہے کوئی ان بانڈز کو کالا دھن سفید کرنے یا دوسرے مقاصد کے لئے بھی استعمال کرتا ہو،لیکن ایسے خطرات یا چور درازے کس سکیم میں نہیں ہوتے؟ اِس وقت ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لئے جو سکیم چل رہی ہے کیا اس کے ذریعے کالا دھن سفید نہیں ہو رہا؟اِس لئے اگر انعامی بانڈز کے ذریعے ایسا ہو رہا تھا تو قطعاً حیرانی کی بات نہ تھی، اب گاہکوں کو ایک نئی سکیم میں حصہ لینے پر اُکسایا جا رہا ہے، پہلے ہی ریستورانوں میں کھانا کھا کر پکی رسید لینے پر قرعہ اندازی کے ذریعے انعام دیئے جاتے ہیں،لیکن اس کے باوجود بڑے بڑے پاش ریستورانوں میں ہزاروں روپے کا کھانا کھانے والے ”کچے کاغذ“ پر بل دے کر چند سو  روپے بچانے میں کوئی  عار محسوس نہیں کرتے اور ایف بی آر کے متعلقہ عملے کو اِن سارے ریستورانوں کے پتے معلوم ہیں، جہاں یہ کام ہوتا ہے،چونکہ خود ایف بی آر کے افسر بھی ان ریستورانوں کے ”گاہک“ ہیں اور اکثر و بیشتر انہیں مفت کھانے کی سہولت حاصل ہے،اِس لئے وہ اس سارے کاروبار سے صرفِ نظرکرتے ہیں۔اب دیکھنا ہو گا کہ پکی رسیدوں کی یہ ترغیب کس حد تک کام کرتی ہے، ٹیکس جمع کرنے کے لئے پہلے سے ٹیکس دینے والوں کی گرفتاری کے جو راستے کشادہ کر دیئے گئے ہیں وہ بھی کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہے یہ تو ایف بی آر کو نیب کے اختیارات دینے والی بات ہے،جو کسی بھی ٹیکس دینے والے کو محض اس شبے میں کہ اس نے پورا ٹیکس نہیں دیا، گرفتار کر کے بعد میں سودے بازی کر لیں گے۔یہ سب کچھ ایف بی آر میں پہلے سے ہو رہا ہے،اِس لئے افسروں کو نئے اختیارات دے کرکرپشن کا ایک نیا دروازہ چوپٹ کھولا جا رہا ہے۔ حیرت ہے کہ ایک طرف تو نیب کے بعض اختیار کم کرنے کی بات ہو رہی ہے تاکہ وہ سرکاری افسروں اور تاجروں کو بے جا ہراساں نہ کر سکے اور دوسری طرف ایف بی آر کے افسروں کو نیب سے ملتے جلتے اختیارات دے کر اُنہیں نیب کے راستے پر چلنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے،اِس سب کچھ کا مطلب یہی ہے کہ ہم ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے کے جو دعوے عشروں سے کرتے چلے آ رہے ہیں وہ وسیع نہیں ہو رہی بس افسروں کے اختیارات وسیع کر کے اُن کے لئے مواقع بڑھائے جا رہے ہیں اور پہلے سے ٹیکس دینے والوں سے مزید ٹیکس جمع کیا جا رہا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -