شہباز پرواز کے لئے تیار؟

 شہباز پرواز کے لئے تیار؟
 شہباز پرواز کے لئے تیار؟

  

ملکی سیاست میں ایک دفعہ پھر ہلچل مچی ہوئی ہے، تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے تین سالہ دور کا بجٹ پیش کیا، اس کے باوجود حکومت سے قوم کو جو  توقعات تھیں، وہ پوری نہ ہو سکیں،اس وقت قوم مہنگائی کے طوفان میں بری طرح جکڑ ی جا چکی ہے،لیکن حالات پھر بھی قابو میں نہیں آ رہے، ملک میں وافر مقدار میں بجلی موجود ہونے کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، ملکی حالات اگر مزید بے قابو ہوئے تو پھر ان کے آگے بند باندھنا ممکن نہیں ہو گا۔  تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے اول روز سے ہی  ملکی معاملات بہتر ہونے کے بجائے بتدریج خراب ہوئے، اب حالات یہ ہیں کہ عام آدمی کی گزر اوقات صرف مشکل ہی نہیں، ناممکن ہو چکی ہے۔ ایسے میں ملکی سیاست میں ایک مرتبہ پھر تبدیلی کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، ایوان اقتدار میں شہباز شریف کا نام جس شدومد سے گونج رہا ہے، ان سے لگتا ہے کہ یہ افواہیں حقیقت کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ اصولی طور پر ایسا ہونا تو نہیں چاہئے، تحریک انصاف کی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے دی جاتی تاکہ ملکی ترقی و خوشحالی کے جو دعوے اس نے کئے، وہ حقیقت بنتے یا پھر عوام کے کٹہرے میں یہ جواب دہ ہوتے، لیکن ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اگر تحریک انصاف اگلے دو سال بھی کچھ نہ کر پائی اور ملکی حالات مزید ابتر ہو گئے تو پھر  کیا ہو گا؟ اس سوال کا سردست کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ 

نواز شریف سخت موقف کے حامی سمجھے جاتے ہیں، جبکہ شہباز شریف سیاسی حالات کے تناظر میں خود کو ڈھالنے میں مہارت رکھتے ہیں، 12 اکتوبر 1999ء کو جب نواز شریف حکومت کا خاتمہ ہوا، تب سے ہی یہ افواہیں گرم تھیں کہ نواز شریف کے مقابلے میں شہباز شریف بطور وزیراعظم اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ قابل قبول ہیں،1999ء میں مشرف نے کافی عرصہ پارلیمینٹ کو معطل رکھا، مقصد یہی تھا کہ اگر شہباز شریف مان جائیں تو اسمبلیوں کی بحالی ممکن تھی۔ شہباز شریف معتدل مزاج رکھتے ہیں، بیوروکریسی کی نفسیات کو سمجھتے اور ان سے کام لینے کے فن سے بخوبی واقف ہیں، بیوروکریسی بھی ان کے مزاج کو سمجھتی ہے، جس کے باعث ایک خود کار طریقے سے معاملات انجام پذیر ہوتے ہیں۔ شہباز شریف آہنی اعصاب اور خداداد صلاحیتوں کے حامل ہیں، بطور وزیراعلیٰ پنجاب انہوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے، وہ تاریخ کا روشن باب ہیں، بجلی کی سی تیزی سے میگا پراجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر انہوں نے عالمی شہرت حاصل کی، انہیں ”پنجاب سپیڈ“ کے لقب سے بھی نوازا گیا، نواز شریف کو جیل سے نکال کر لندن کی پُرسکون فضاؤں میں پہنچانا،ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری متعدد بار شہباز شریف کی بطور وزیر اعظم حمایت کا برملا اظہار کرچکے ہیں،  اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بھی ان کے ساتھ ہیں، خود تحریک انصاف کے بہت سے ناراض ارکان ان کی حمایت کر سکتے ہیں۔

ملک میں ان ہاوس تبدیلی کے حوالے سے افواہیں تو گزشتہ  ایک ڈیڑھ سال سے گردش میں ہیں، نواز شریف جن دنوں لندن گئے، اس وقت بھی کہا جارہا تھا کہ واپسی پر شہباز شریف ”اہم ذمہ داری“ کا حلف اٹھائیں گے، لیکن پھر معاملات سرد پڑ گئے، دراصل نواز شریف کی طرف سے شہباز شریف کو گرین سگنل نہیں ملا تھا، شہباز شریف کو حکومت نے عید الفطر پر لندن روانگی سے روکا ہی اِس لئے تھا کہ وہاں جا کر یہ نواز شریف کو ملکی معاملات پر بریفنگ دے کر، انہیں راضی کر لیں گے،اسی لئے حکومت نے فیصلہ کیا کہ انہیں ایرپورٹ پر ہی روک لیا جائے، لندن نہیں جائیں گے تو حکومت کے لئے پریشانی کا باعث  بھی نہیں بن سکیں گے۔

ایک سوچ یہ بھی ہے کہ کیا شہباز شریف نواز  شریف کے فیصلوں کے برعکس کوئی اقدام کریں گے؟ حکومت نے ایسا تاثر پھیلانے کی کوشش تو بہت کی، حکومتی وزراء اور مشیروں نے معاملات کی نزاکت کے پیش نظر، مسلم لیگ(ن) میں دراڑ  ڈالنے کی پوری کوشش کی، لیکن اس میں کامیاب نہیں ہو سکی، شہباز شریف نے نواز شریف کی مرضی کے برعکس فیصلہ کرنا ہوتا تو 1999ء ہی  میں کرلیتے، اس کے بعد بھی بہت سے مواقع آئے، لیکن انہوں نے ہمیشہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ شریف فیملی پر کرپشن کے صرف الزامات ہی ہیں، اس فیملی کو آخری حد تک رسوا کیا گیا، لیکن  شاید قدرت کو ان کی رسوائی منظور نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ عوام کے دلوں میں آج بھی ان کی محبت بدرجہ اتم موجود ہے۔ملک میں آج اگر شفاف انتخابات کروا لئے جائیں تو مسلم لیگ(ن) بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر سکتی ہے، اِس لئے سوائے پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ (ن)سمیت اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتیں انتخابات کے حق میں ہیں، پیپلز پارٹی تحریک انصاف سے چھٹکارا چاہتی ہے، لیکن سر دست انتخابات کے بجائے ان ہاوس تبدیلی کے حق میں زیادہ ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ ملک کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، انہیں جلد سنبھالنا ممکن نہیں ہوگا،

اس طرح آئندہ  عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اپنی کامیابی کو یقینی سمجھتی ہے،اگر ان ہاوس تبدیلی میں شہباز شریف کو ذمہ داریاں ملیں تو اس سے شریف فیملی کی مشکلات میں کمی یقینی ہے، مسلم لیگ(ن) مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، ملک کی موجودہ صورت حال اختلافات کی سیاست کی مزید متحمل نہیں ہو سکتی، اگر شہباز پرواز کے لئے تیار ہوئے تو مفاہمت کی سیاست ملکی معاملات کو سنبھالنے میں معاون ہو سکے گی، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا ہورہا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر عرصہئ حیات تنگ کر دیا ہے، سی پیک منصوبہ تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے،ایسے میں پاکستان کا کردار خطے میں اہم نوعیت کا حامل ہے، لیکن اس کے لئے ملک میں پائیدار سیاسی استحکام ضروری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -