زندگی اور معاشی تر قی کے لئے سمندرکی اہمیت  

زندگی اور معاشی تر قی کے لئے سمندرکی اہمیت  
زندگی اور معاشی تر قی کے لئے سمندرکی اہمیت  

  

سمندر کے عالمی دن کے موقع پر عموما دنیا بھر کے ساحلوں کی صفائی، تعلیمی پروگرام، تصاویرسازی، سمندر سے حاصل ہونے والی لذیذصحت بخش غذا کے ایونٹس سجانے سمیت دیگر تقاریب منائی جاتی ہیں جن کا بنیادی مقصد انسانوں میں سمندر کے تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہے۔موجوہ سال کا تھیم  ہے”The Ocean: Life & Livelihoods“ َ۔ سمندرکا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سمندر ہمارے سیارے”زمین“ کے پھیپھڑے ہیں جو نہ صرف ہماری خوراک اور ادویات کے وسائل مہیا کرتے ہیں بلکہ حیاتیات کا ایک اہم حصہ ہیں۔ زمین کے لئے پچاس فیصد آکسیجن سمندر پیدا کرتے ہیں اور 30 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں جس سے گلوبل وارمنگ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ سمندر ہماری معیشت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں ایک اندازے کے مطابق سن 2030ء تک 40ملین افراد کو سمندر سے متعلق مختلف کاروبارکے ذریعے روزگار کے مواقع حاصل ہونگے۔

سمندروں کی صحت کا ہماری صحت سے گہرا تعلق ہے۔آپ یہ جان کر حیرت زدہ ہونگے کہ موجودہ دنوں میں جبکہ دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے،اس وائرس کی تشخیص اور علاج کی نئی راہیں متعین کرنے میں سمندر بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق سمندر کی گہرائیوں میں دریافت ہونے والی زندہ مخلوق،حیاتیات، کوویڈ۔19 وائرس کا تیزی سے پتہ لگانے کے لئے استعمال ہوسکتی ہیں۔سمندر انسان کو نت نئے تجربات اور انسانیت کی بھلائی کیلئے بہت سے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں اسی لئے بہتر مستقبل کے لئے سمندروں کی حفاظت کرناضروری ہے۔ انہی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی کل آبادی کا 40 فیصد حصہ سمندروں اور ساحلوں کے ساتھ جڑے ایک سو کلو میٹر تک کے علاقوں میں آباد ہے۔ اس مناسبت سے سمندروں کا ماحول انسان اور اس کی بقا کے لیے انتہائی اہم ہے۔کروڑوں انسانوں کی روزمرہ کی ضروریات کا انحصار سمندری حیات اور اس سے وابستہ کاروبار پر ہے۔ یہ ساحل ان افراد کے لیے خوراک کا ذریعہ اور رہائشی ٹھکانے بھی ہیں۔ اس وقت سمندری پانی اور اس میں موجود نباتات اور حیوانات کو مختلف ملکوں کے ساحلی شہروں سے کیمیاوی اور دوسرے مضر اجزاء کا سامنا ہے جبکہ سمندروں میں ہونے والے حادثے بھی سمندری حیات کے لیے سنگین خطرہ خیال کیے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سمندرکو محفوظ بنانے کے بعد اسے توانائی کا متبادل ماخذ بھی بنایا جا سکتا ہے جبکہ سمندری علوم کے ماہرین زمین پر پھیلے وسیع و عریض سمندروں کو معدنی ذخائر کا بھی ایک بے بہا خزانہ سمجھتے ہیں۔پاکستان کا ساحل سمندر1050 کلو میٹرپرپھیلا ہوا ہے۔ اس میں 700 کلو میٹر کا رقبہ بلوچستان کے ساتھ جبکہ 350 کلو میٹر کی حدود سندھ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان ہر سال سمندر سے پکڑی جانے والی کروڑوں روپے کی آبی حیات بیرون ممالک فروخت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 40 لاکھ سے زائد افراد ماہی گیری کے پیشے سے منسلک ہیں۔ مگر اب اس میں تیزی سے کمی آرہی ہے جس کی وجہ آبی آلودگی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کے مطابق بحری آلودگی کی 80 فیصد وجہ زمینی ذرائع ہیں یعنی دریاوں کی آلودگی، شہروں اور صنعتوں سے خارج ہوتا گندا پانی وغیرہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کی شکل میں دنیا کے تین حصوں پرمشتمل پانی کا ذخیرہ جو حیاتِ انسانی کے لئے ضروری ہے، ایک خاموش تباہی کی سمت بڑھ رہا ہے۔پچھلے سال سمندر کا عالمی دن انٹرنیٹ کے ذریعے منایا گیا تھا لیکن اس سال دنیا بھر میں سمندر کے عالمی دن کے موقع پر مختلف تقاریب،سیمینار،مصوری کے مقابلے،سوشل میڈیا پر لائیو شوز کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے جبکہ کچھ مقامات پرعام لوگوں کو سمندر کی گہرائیوں میں لے جاکر انھیں سمندر کے اندر کی زندگی کے راز جاننے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ دنیا جان سکے کہ سمندر انسانی حیات کے لئے کس قدر اہم ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -