پنجاب کا بجٹ عوام کے لئے خوشیاں لائے گا؟

پنجاب کا بجٹ عوام کے لئے خوشیاں لائے گا؟
پنجاب کا بجٹ عوام کے لئے خوشیاں لائے گا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پنجاب کے بجٹ بارے کہا جا رہا ہے کہ وہ  بھی عوام کے لئے خوشیاں لائے گا، یہ بہت بڑا پیغام ہے اُن دُکھی لوگوں کے لئے جو مہنگائی اور بری گورننس کے باعث پنجاب میں ایک مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔پنجاب کے بجٹ میں درحقیقت وہ سب مدات شامل ہوتی ہیں،جو  عوام کی زندگی سے براہِ راست تعلق رکھتی ہیں۔مثلاً صحت، تعلیم، شہری سہولتیں،پولیس اور دیگر شعبے صوبے کی حدود میں آتے ہیں۔بلدیات اور ایکسائز کے محکمے بھی صوبے کی ذمہ داری ہوتی ہیں،اسی طرح جو ترقیاتی ادارے کام کر رہے ہیں،اُن کا تعلق بھی صوبے سے ہوتا ہے۔پھر اضلاع کی ساری ایڈمنسٹریشن اور عوام کے روزمرہ کام صوبائی محکموں سے متعلق ہوتے ہیں۔اگر صوبے کا بجٹ اچھا ہو تو اُس کے خوشگوار اثرات عوام پر مرتب ہو سکتے ہیں،اِس لئے اگر یہ کہا جا رہا ہے بجٹ خوشیاں لائے گا تو اچھا بجٹ واقعی خوشیاں لا سکتا ہے۔بجٹ درحقیقت گورننس کی سمت متعین کرتا ہے۔ سمت متعین ہو جائے تو بہتری کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔وفاقی حکومت کی طرح عثمان بزدار حکومت بھی اپنا تیسرا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔پنجاب حکومت کے پہلے دو بجٹ بھی روایتی ثابت ہوئے تھے، البتہ ایک اچھا کام کیا گیا تھا کہ صوبے میں وسائل کی تقسیم بہتر انداز میں کی گئی تھی،اِس بار بھی کہا جا رہا ہے جنوبی پنجاب کو بجٹ کا 35فیصد حصہ دیا جائے گا اور اُسے کسی دوسری جگہ خرچ نہیں کیا جائے گا۔مہنگائی اتنی وفاقی ٹیکسوں سے نہیں پھیلتی جتنی صوبائی ٹیکسوں سے بڑھتی ہے۔ ایک طرف صوبائی محکمے ٹیکس لگاتے ہیں اور دوسری طرف بلدیاتی ادارے اپنا نظام چلانے کے لئے ٹیکسوں کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ یوں ایک شہری تین اقسام کے ٹیکس ادا کرتا ہے،جو اُس کے لئے کسی اذیت سے کم نہیں ہوتے۔یاد رہے کہ بجلی، گیس، سیوریج اور پانی کے بل علیحدہ ہوتے  ہیں۔


وفاقی بجٹ کی طرح پنجاب کے بجٹ میں بھی اگر صوبائی ٹیکسز میں چھوٹ دی جاتی ہے یا کم از کم اُن کی شرح گھٹا دی جاتی ہے تو یہ ایک بڑا ریلیف ہو گا، محکمہ ایکسائز ہاؤس ٹیکس، موٹر وہیکل ٹیکس، کمرشل اقسام کے ٹیکس وصول کرتا ہے۔اس میں ایک طرف محکمے کے اہلکار صوابدیدی اختیارات استعمال کر کے کرپشن کرتے ہیں اور دوسری طرف پنجاب کی آمدنی کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں،اگر ان ٹیکسوں کو سادہ اور آسان کر دیا جائے نیز ان میں کمی لائی جائے تو ہر مستحق آسانی سے ادا بھی کرے گا اور عمومی آمدنی بھی زیادہ ہو گی۔ اس بار پنجاب کو دیگر صوبوں کی طرح وفاقی محاصل سے زیادہ حصہ ملے گا۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ بجٹ میں ایسے علاقوں کو ترقیاتی کاموں کے لئے ترجیح دی جائے جنہیں ابھی تک پسماندہ رکھا گیا ہے۔ سب سے اہم ضرورت پینے کے صاف پانی کی ہے۔ جنوبی پنجاب کے بعض علاقے آج بھی ایسے ہیں جہاں جانور اور انسان اکٹھے پانی پیتے ہیں۔ بعض شہروں کا بھی یہی حال ہے کہ ناقص سیوریج نظام کی وجہ سے سیوریج اور پینے کے پانی کی لائنیں آپس میں مل گئی ہیں،جس کی وجہ سے لوگوں کو آلودہ پانی ملتا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں حکومت نے پہلے ہی تیرہ یونیورسٹیوں کے قیام کا اعلان کر رکھا ہے، اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ سکول اور کالج کی سطح پر بھی وسائل اور سہولتیں بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔خواندگی کا تناسب اگر بڑھانا ہے تو پھر دور دراز علاقوں میں سکول کھولنے ہوں گے،جہاں تک صحت کے شعبے کا تعلق ہے، بلاشبہ صحت کارڈ ایک اہم سہولت ہے، جو اِس وقت صوبے کے دو ڈویژنوں میں فراہم کر دی گئی ہے اور باقی ڈویژنوں میں اِس سال کے آخر تک فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم صحت کارڈ اپنی جگہ، اصل چیز یہ ہے کہ عوام کو صحت کی سہولتیں اُن کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لئے ہسپتالوں اور رورل ہیلتھ سنٹروں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ عوام بآسانی علاج معالجے کی سہولت حاصل کر سکیں۔


سرکاری ملازمین کے لئے وفاق کی طرح صوبہ پنجاب بھی دس فیصد تنخواہیں بڑھانا چاہتا ہے۔ اس طرح پنشن میں بھی دس فیصد اضافہ کیا جائے گا، تاہم ضرورت اِس بات کی ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے ہاؤس رینٹ، کنوینس الاؤنس اور میڈیکل الاؤنس میں بھی اضافہ کیا جائے۔ ہاؤس رینٹ اور کنوینس الاؤنس فی الوقت اتنا کم ہے کہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ مثلاً سترہویں، اٹھارہویں گریڈ کو بھی دس بارہ ہزار ہاؤس رینٹ دیا جاتا ہے، جس سے ایک کمرے کا گھر بھی کرایہ پر نہیں ملتا۔ یہی صورتِ حال کنوینس الاؤنس کی ہے۔ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اِس لئے اس میں کہیں خوشحالی و ترقی آسمان کو چھوتی نظر آتی ہے اور کہیں زوال کی ایسی صورت  کہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے۔جب تک صوبے کے تمام علاقوں کو یکساں ترقی سے نہیں گزارا جائے گا، صوبے کے حالات بہتر نہیں ہوں گے، بڑے شہروں کی طرف آبادی کا رجحان رہے گا۔ اُن کے مسائل بڑھتے جائیں گے اور چھوٹے شہر و علاقے پسماندہ ہی رہیں گے۔

بجٹ میں تمام جدید سہولتیں چھوٹے شہروں تک پہنچانے کی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئے۔ اس سے ٹیکسوں کا دائرہ بھی وسیع ہو گا اور لوگوں کو بڑے شہروں والی سہولتیں بھی میسر آئیں گی، انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے حکومت نے پہلے بھی اچھے اقدامات کئے ہیں،تاہم جنوبی پنجاب میں مظفر گڑھ، علی پور روڈ، ملتان، ڈیرہ غازی خان روڈ اور اس سے آگے چھوٹے شہروں تک سڑکیں ناکافی ہیں اور آئے روز جان لیوا حادثات میں بیسیوں افراد لقمہ ئ اجل بن جاتے ہیں۔بجٹ میں ان علاقوں کو خصوصی طور پر شامل کیا جانا چاہئے۔ یہاں ملتان کا ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا۔ یہ لاہور کے بعد پنجاب کا دوسرا بڑا اور اہم شہر ہے، یہاں کی ترقی لاہور کی  ترقی کا تیس فیصد بھی نہیں۔ شہر کا سب سے بڑا مسئلہ سیوریج کا ہے۔ نصف صدی سے بھی زیادہ پرانا سیوریج کا نظام بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ اکثر مقامات پر سیوریج اور پانی کی لائنیں آپس میں مل گئی ہیں اور آلودہ پانی نلکوں کے ذریعے بھی عوام کے گھروں میں پہنچ رہا ہے۔


ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ پنجاب کے بجٹ میں سیلز ٹیکس کم کر کے عوام کو50ارب روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے۔ ایک بہت پرانا مطالبہ یہ ہے کہ لگژری گھروں پر ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے اور غریبوں کی بستیوں میں قائم گھروں کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔اب فارمولا یہ ہے کہ مرلوں کے حساب سے ٹیکس لگایا جاتا ہے،حالانکہ کالونیوں اور علاقوں کی اہمیت اور قدرو قیمت کے حوالے سے ٹیکس لگنا چاہئے،کسی علاقے میں دس مرلے کا گھر صرف50لاکھ میں مل جاتا ہے اور کسی میں اس کی قیمت چار کروڑ ہوتی ہے،ہاؤس ٹیکس بھی اُسی تناسب سے وصول کیا جائے تو صوبے کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا اور عوام کو ریلیف بھی مل سکے گا۔بہرحال دیکھتے ہیں بزدار حکومت اپنا تیسرا بجٹ کیسا لاتی ہے۔سب نظریں پنجاب پر لگی ہوئی ہیں، پنجاب کا اچھا اور فلاحی بجٹ خود عمران خان کی حکومت کو ایک بڑا ریلیف دے سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -