وزیراعظم کا اردو سے متعلق بیان خوش آئند ہے،علامہ جواد نقوی

 وزیراعظم کا اردو سے متعلق بیان خوش آئند ہے،علامہ جواد نقوی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نمائندہ خصوصی)مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ و تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کا اجتماع سے خطاب میں کہنا تھا کہ وزیراعظم کا اردو سے متعلق بیان خوش آئند ہے۔ آئین میں بھی اردو قومی زبان ہے اور سب سے پہلی ذمہ داری اس کو لاگو کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج ناصر الملک جو کہ مختصر عرصے کے لیے آئے تھے وہ جاتے ہوئے انگلش میں یہ حکم نامہ دے کر گئے ہیں کہ اردو جاری ہو جو اردو نافذ نہیں کرے گا وہ مجرم ہوگا۔ اگر یہ کام صرف وزیراعظم کی حد تک رہے تو باقی سسٹم تعلیم سب انگریزی میں ہو تو یہ اصطلاح رائج ہے کہ ایسے فیصلے صرف شہرت کے لیے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت مضبوط حکومت ہے۔

 ان کے پاس اختیارات بھی ہیں۔ نہ اپوزیشن انکا کچھ بگاڑ سکی نہ میڈیا۔ اب اگر واقعاً حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے تو اردو کیلئے کچھ کر جائے کیونکہ اردو ہماری شناخت ہے ہماری پہچان ہے اور وزیراعظم کے پاس اتنا اختیار ہے کہ یہ سب کو مجبور کر سکتے ہیں اور اردو پر پابند کر سکتے ہیں۔ علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارے وزیراعظم سے تاجکستان کے وزیراعظم نے ملاقات کے دوران فارسی میں بات کی لگتا ہے، وہاں سے وزیراعظم کو یہ احساس ہوا کہ دوسرے ممالک اس قدر اپنی قومیت کا خیال رکھتے ہیں اور ایسا ہی ہے جب بھی کوئی وزیراعظم دوسرے ممالک میں جاتا ہے تو اپنا ایک تعارف لے کر جاتا ہے، اس کو موقع ملا ہوتا ہے کہ وہ اپنی تہذیب کو دوسروں کے سامنے پیش کرے، لہذا احساس کمتری سے باہر نکل کر اپنی زبان اور اپنے لباس کو متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ اردو کے بارے میں ایک مضبوط قدم ا ±ٹھایا جائے کوئی کیونکہ اگر کوئی اردو نافذ نہیں کر رہا تو وہ مجرم ہے، جس کے بارے میں سپریم کورٹ بھی فیصلہ کر چکی ہے