محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ میں 6ارب 75کروڑ کے بے ضا بطگیوں کا انکشاف

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ میں 6ارب 75کروڑ کے بے ضا بطگیوں کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


   لاہور(ارشدمحمود گھمن)چیف انجینئر نارتھ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی ناک تلے 6 ارب 75 کروڑ کی بے ضابطگیوں کا انکشاف، بے ضابطگیوں میں ملوث پائے جانے والے افسران میں 6ایس ای،17 ایگزیکٹیو انجینئر سمیت 23 افسران مبینہ طور پرشامل ہیں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے حکومت پنجاب نے یکم جولائی تا 30 جون 2021کیلئے وزراء، اراکین صوبائی اسمبلی کو ان کے حلقوں میں تر قیاتی ADPکی سکیموں کے لئے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو22 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے جن میں گلیاں ونالیاں فرشبندی، PCC، ٹف ٹائل اور سولنگ شامل ہے چیف انجینئر نارتھ کے ماتحت افسران ایس ای اور ایگزیکٹو انجینئرز نے مبینہ طور ٹھیکیداروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے ناقص میٹیریل جن میں ریت،بنجری، سیمنٹ اور سریا شامل ہے کا استعمال کرتے ہوئے قومی خزانہ کو 6 ارب 75 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا یاد رہے جن اضلاع میں ان سکیموں کا انعقاد کی گیا ان میں ضلع لاہور،شیخوپورہ، ننکانہ،قصور،گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات،نارووال، جہلم،حافظ آباد،منڈی بہاؤالدین،راولپنڈی وغیرہ سرفہرست ہیں قومی خزانہ کے اربوں روپے مبینہ طور پرلوٹنے مذکورہ افسران اپنے ماتحت سب انجینئر ز،ایس ڈی او، ہیڈ کلرک اور اکاؤنٹس کے عملہ کے ذریعے ٹھیکداروں سے ناقص میٹیریل کے استعمال میں کروانے اور ان کے بلز کی ادائیگی کرنے پر مزید 25 فی صد کمیشن وصول کر لیتے ہیں،یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل ٹینڈرز کی الاٹمنٹ کے وقت بھی انڈوانس کمیشن 15 فی صد ایس ای اور ایگزیکٹیو انجینئر وصول کرتے ہیں،جو ٹھیکیداروں سے کام شروع کرنے سے پہلے ہی 40 فی صد رقم مذکورہ محکمہ کے افسران وصول کر لیتے ہیں، تاہم اس حوالے سیکرٹری نصراللہ کا کہنا ہے کہ ایسے افسران کے ساتھ محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
بے ضابطگیاں انکشاف

مزید :

صفحہ آخر -