تاجر کے جواں سال بیٹے کا اندوہناک قتل

تاجر کے جواں سال بیٹے کا اندوہناک قتل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

زمانہ جاہلیت میں انسانی اقدار اس قدر بے توقیر تھیں کہ معمولی بات عرب قبائل طیش میں آکر جھگڑنے لگتے جو طول پکڑ کر جنگوں کی شکل اختیار کرجاتے لاتعداد جنگیں مختلف قبائل کے درمیان ہوئی جن میں سے ایسی جنگیں بھی شامل ہیں جو فقط گوڑھا دوسرے سے آگے بڑھانے یا اونٹوں کو پہلے پانی پلانے کے تنازعہ پر ہوئیں اور لاتعداد لوگ ان جنگوں کی بھینٹ چڑھے جبکہ ایک المیہ یہ بھی تھا ان تنازعات کو فوری ختم کروانے کیلئے کوئی کوشش نہ کی جاتی رہی یوں طول پکڑتی ان جنگوں نے ایک نہایت سیاہ تاریخ رقم کی جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گاتاہم جیسے جیسے اسلام کی روشنی پھیلی ویسے ویسے انسانی جان کی قدر و منزلت واضح ہوتی چلی گئی اسلام ہی نے بتایا کہ ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ اہل عرب نے مثالی امن بھی دیکھا مگر اس میں کارفرما وہ تعلیمات تھیں جن سے نبی کریم ؐ نے اہل عرب کو آگاہ کیا جبکہ انسانی جان کی قدر و منزلت اور دفاع و تحفظ کی خاطر ایک ایسا مربوط نظام بھی قائم کیا گیا جس کے تحت کسی انسان کی ناحق جان لینے کا تصور بھی ختم ہوتا چلا گیا یوں اہل عرب حقیقی معنوں میں امن پسند ثابت ہوئے بدقسمتی سے آج ہمارے ہاں بھی صورتحال قطعی مختلف نہیں انسانی جان کی قدر دکھائی نہیں دے رہی چھوٹی چھوٹی بات پر طیش میں آکر لوگ ایک دوسرے کی جان لے رہے ہیں دوسری طرف اسلحہ تک سہل رسائی نے بھی قتل و اقدام قتل کے واقعات کو بڑھاوا دیا ہے اس سے بڑھ کر بدبختی یہ ہے کہ مقتول کو انصاف کی فراہمی میں کردار ادا کرنے کی بجائے قاتل کو سزا سے بچانے کی خاطر پولیس سے مک مکا کا حربہ اختیار کیا جاتا ہے اس سے بات بنتی دکھائی نہ دے تو مقتول کے خاندان کو مختلف ہتھکنڈوں سے دبایا جاتا ہے اس سے بھی بات نہ بنے تو خدا و رسولؐ کے نام پر معافی تلافی پرراضی کرنے کا حربہ اختیار کیا جاتا ہے جس میں متاثرہ خاندان کیلئے مالی مدد کی آفر بھی شامل ہوتی ہے۔
اس صورتحال نے انسانی جان اسقدر بے توقیر کردی ہے کہ معمولی تلخ کلامی پر بھی بات تشدد اور قتل تک پہنچ جاتی ہے جس کی ایک واضح مثال گزشتہ روز تھانہ سٹی بی ڈویڑن کے علاقہ مین بازار میں رات کے وقت رونما ہونے والا ایسا دلخراش واقعہ ہے جس میں معمولی تلخ کلامی پر مشتعل ہوکر چلائی جانیوالی اندھی گولی ایک ہنستے بستے گھر کو ماتم کدے میں تبدیل کر گئی، متاثرہ خاندا ن کے سربراہ شیخ محمد جمیل کے مطابق اس نے مین بازار شیخوپورہ میں کپڑا فروخت کرنے کی دکان بنا رکھی ہے اور اس کا جواں سالہ بیٹا شیخ حسن جمیل اس کاروبار میں معاونت کیلئے میرے ساتھ کام کرتا تھا گزشتہ رات ہم دکان سے لوٹ آئے تو اچانک میرے بیٹے کو خیال آیا کہ وہ دکان کا ایک تالہ لگانا بھول گیا ہے لہذاٰ اس نے فوری واپسی کی راہ لی اور دکان پر پہنچ کر تالے چیک کئے اور لوٹا تو اسکی ملاقات دیگر دو مقامی تاجرو ں ہارون اور افنان سے ہوئی جن سے گفتگو کے دوران اچانک بازار کاادھیڑ عمر چوکیدار نواز بھٹی جو نواحی آبادی سکھیکھی کا رہائشی بتایا گیا ہے وہ ان کے درمیان آن دھمکا اور شیخ حسن جمیل سے تلخ کلامی شروع کردی اور دھکیاں دینے لگا جس کی وجہ اس نے یہ بتائی کہ شیخ حسن نے اسے مذاق کیاہے بات بڑھی تو شیخ حسن کے ساتھ کھڑے افراد نے بیچ بچاؤ کروا کر دونوں کو الگ کردیا مگر شیخ حسن کے پیچھے ہٹنے پر چوکیدار نے نہ صرف گالیاں دیں بلکہ اینٹ اٹھا کر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی جس کے باوجود شیخ حسن چلا گیا مگر کچھ دیر بعد جب اس امید سے لوٹا کہ بات ختم ہوچکی اور اب واپسی کی راہ لی جائے تو پھر سے دونوں کا آمنا سامنا ہوگیا اور چوکیدار اسے دیکھ کر پھر سے سیخ پاء ہوگیا مگر شیخ احسن نے برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات کرنے کی کوشش کی جو بے سود ثابت ہوئی اور آپے سے باہر چوکیدارنواز بھٹی نے وہاں موجود ہارون اور افنان سمیت دیگر بعض افراد کے سامنے پسٹل کو لوڈ کیا اورآناً فاناً پسٹل کا رخ شیخ احسن جمیل کی طرف کرکے اس کے سر پر گولی ماردی جس کے لگتے ہی نوجوان شیخ احسن نے تڑپ تڑپ کر موقع پر ہی دم توڑ دیا۔
گولی لگنے سے جونہی مقتول زمین پر گرا قریب کھڑے سبھی افراد بھاگ نکلے کسی نے اسے پلٹ کر دیکھنے تک کی زحمت گواراہ نہ کی اور چوکیدار نواز بھٹی مقتول شیخ احسن کے پاس کھڑا اس کی موت کا تماشا دیکھتا رہا اور سفاکی کی انتہا یہ کی کہ اس دانستہ قتل کو ڈکیتی کا رنگ دینے کیلئے فرضی کہانی بھی گڑھ لی مگرموقع پر موجود ہارون اور افنان جنہوں نے شیخ احسن جمیل کو سفاک چوکیدار کی گولی لگنے پرموقع سے ہٹ جانے کو ترجیح دی مگر انہوں نہ صرف مقتول کے اہلخانہ کو فوری آگاہ کیا بلکہ بعدازاں پولیس کو بھی واقعہ کے حقائق سے آگاہ کیا تھانہ سٹی بی ڈویڑن پولیس نے مسلح ملزم چوکیدار نواز بھٹی کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا اور تھانے پہنچ کر تفتیش کی تو چوکیدار نے ڈکیتی کا داؤ ناکام ہونے پر نئی کہانی گھڑی کہ وہ گولی مارنا نہیں چاہتا تھا بلکہ پسٹل کا بٹ مار نے کی خاطر مقتول پر حملہ آور ہوا مگرقریبی دکان کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی فوٹیج نے اسکے اس دعوے کو بھی جھٹلا دیا کیونکہ فوٹیج میں ملز م کو پسٹل کو لوڈ کرتے واضح طور پر دیکھا گیا جبکہ اس قتل کے محرکات بیان کرتے ہوئے مقتول کے والد تاجر محمدجمیل نے بتایا کہ حافظ اویس کی دکان انکے مدمقابل ہیں جس سے ہماری کاروباری چپقلش چل رہی تھی جس کی ایما پر ملزم چوکیدار نواز نے میرئے بیٹے کو قتل کیا لہذاٰ تھانہ سٹی بی ڈویڑن پولیس نے اس قتل کے واقعہ کا مقدمہ درج کرتے ہوئے ملزم چوکیدار نواز کے ساتھ ساتھ حافظ اویس کو بھی نامزد کیا اور تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے کیس جلد نمٹانے کی مقتول کے ورثا کو یقین دھانی کروائی جبکہ پولیس نے پوسٹ مارٹم اور ضروری کاروائی کے بعد نعش ورثا کے حوالے کی توتدفین کے وقت رقعت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے اور ورثا جس قیامت سے گزرے وہ ناقابل بیان ہے تاہم توقع ہے کہ اس اوپن کیس کو متعلقہ پولیس اپنے وعدے کے مطابق جلد نمٹاتے ہوئے سفاک ملزم کو قرار واقعی سزا دلوانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔
٭٭٭

 شیخوپورہ میں معمولی تلخ کلامی پر

ملزم نے جھوٹی کہانی گھڑنے کی کوشش کی،جسے سی سی ٹی وی فوٹیج نے ناکام بنا دیا

مزید :

ایڈیشن 1 -