کینیڈا کے شہر لندن میں نفرت انگیز  واقعہ میں چار پاکستانی نژاد شہریوں کی ہلاکت، عمران خان نے عالمی رہنماؤں سے آن لائن نفرت اور انتہا پسندی کے خاتمے کا مطالبہ کردیا

کینیڈا کے شہر لندن میں نفرت انگیز  واقعہ میں چار پاکستانی نژاد شہریوں کی ...
 کینیڈا کے شہر لندن میں نفرت انگیز  واقعہ میں چار پاکستانی نژاد شہریوں کی ہلاکت، عمران خان نے عالمی رہنماؤں سے آن لائن نفرت اور انتہا پسندی کے خاتمے کا مطالبہ کردیا

  

لندن، کینیڈا (محسن عباس سے)پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان  نے کینیڈا کے شہر لندن میں نفرت انگیز  واقعہ میں چار پاکستانی نژاد شہریوں کی ہلاکت کے بعد عالمی رہنماؤں سے آن لائن نفرت اور انتہا پسندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، اس واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔ چھ جون بروز اتوار کو بیس سالہ سفید فام کینیڈین نوجوان نے پاکستانی خاندان کے چار افراد کو ہلاک اور نو سالہ بچے کو زخمی کردیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس خاندان کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے۔ یہ خاندان 2007 میں پاکستان سے کینیڈا منتقل ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے کے روز اس کنبہ کی آخری رسومات ادا کی گئیں اور اس موقع پر کینیڈا میں پاکستان کے سفیر بشیر رضا تاڑڑ نے خطاب کیا۔عمران خان نے کینیڈا کے سرکاری ٹی وی سی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان  میں ہر کوئی حیرت زدہ ہے ، کیوں کہ ہم نے ہلاک ہونے والے خاندان کی تصاویر دیکھی ہیں۔ جس کا پاکستان میں گہرا اثر پڑا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سی بی سی کی چیف سیاسی نامہ نگار روزریری بارٹن کو اتوار کو براہ راست  نشر ہونے والے مکمل انٹرویو میں بتایا کہ وہ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان  رہ چکے ہیں اور مغرب کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

عمران خان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ نفرت انگیز ویب سائٹیں جو انسانوں میں نفرت پیدا کرتی ہیں ان کے خلاف بین الاقوامی کارروائی ہونی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آن لائن بنیاد پرستی حالیہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اہم وجہ ہے۔  اگرچہ تفتیش کاروں نے ابھی تک یہ طے نہیں کیا ہے کہ آیا 20 سالہ ملزم نیتانیل ویلٹ مین نے کسی آن لائن سرگرمی میں حصہ لیا جس نے انتہا پسندی یا تشدد کو فروغ دیا ۔ عمران خان نے کہا کہ مغربی ممالک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں جو انداز اپنایا گیا ہے اس میں آن لائن بنیاد پرست گروپوں کے خلاف زیادہ توجہ سے کاروائی کی ضرورت ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -