گھوٹکی ٹرین حادثہ سے قبل مقامی افسر کی جانب سے اعلیٰ حکام کو خط لکھ کر ٹریک کی حالت کیا بیان کی گئی؟ تہلکہ خیز انکشاف ہو گیا 

گھوٹکی ٹرین حادثہ سے قبل مقامی افسر کی جانب سے اعلیٰ حکام کو خط لکھ کر ٹریک کی ...
گھوٹکی ٹرین حادثہ سے قبل مقامی افسر کی جانب سے اعلیٰ حکام کو خط لکھ کر ٹریک کی حالت کیا بیان کی گئی؟ تہلکہ خیز انکشاف ہو گیا 

  

گھوٹکی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان ریلویز کی تاریخ کا ایک اور خوفناک حادثہ کچھ دن قبل پیش آیا جس میں 63 افراد جان کی بازی ہار گئے ، ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ ڈی ایس سکھر نے حادثے سے قبل ریلوے کے اعلیٰ حکام کو خط لکھا تھا جس میں انہوں نے ٹریک کی خستہ حالی سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے دیگر امور بھی اجاگر کیئے ۔ خط کو حادثے سے قبل 28 مئی کو لکھا گیا اور 29 مئی کو پاکستان پوسٹ کی مہر کے مطابق ریلوے ہیڈ کوارٹر میں وصول ہوا تھا۔

مقامی اخبار ” ڈان نیوز “ کی رپورٹ کے مطابق ڈی ایس سکھر میاں طارق لطیف کی جانب سے 7جون کو ہونے والے حادثے سے قبل سی ای او ریلوے کو خط لکھا گیا تھا اور اس کی ایک کاپی وزارت ریلوے کو بھی ارسال کی گئی تھی۔خط کے متن کے مطابق ڈی ایس ریلوے سکھر ڈویڑن نے حکام کو آگاہ کیا تھا کہ سکھر ڈویژن کا ٹریک خستہ حالت میں ہے، پورے ٹریک میں ہر جگہ ڈھیلے اور کمزور جوڑ، جھٹکے دار ٹریک، بڑے بڑے گیپ، فش پلیٹ اور جوائنٹ بولٹ غائب پائے گئے اور مین لائن کے تقریباً 6000 جوڑ خطرناک ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ سکھر ڈویژن میں اس وقت ایک ہی ویلڈنگ کی ٹیم ہے جو صرف یومیہ 6 جوڑ ہی ویلڈ کرسکتی ہے، مزید 5 ویلڈنگ ٹیمیں درکار ہیں۔خط میں شکایت کی گئی کہ پورے ڈویژن کے ریلوے ٹریک کو قوانین اور معیار کے عین مطابق مینٹین رکھا نہیں گیا اور ریلوے ٹریک کی ایسی خستہ حالت کسی بھی بڑے ممکنہ حادثے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

آگہی خط میں ریلوے کے پی وے سٹاف کے خلاف سنگین شکایات بھی کی گئیں تھیں کہ ریلوے کا پی وے لوئر اسٹاف کسی صورت بھی ٹریک کی حالت زار پر توجہ نہیں دے رہا۔میاں طارق لطیف نے کہا تھا کہ پی وے اسٹاف میں متعدد عملہ ناتجربہ کار اور گریڈ 4 سے پروموشن دے کر لگایا گیا ہے اور پی وے عملے کو کئی بار شوکاز دیے گئے مگر نہ تو عملہ ان شکایات کا جواب دیتا ہے اور نہ ہی اپنے سینیئرز کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔خط میں ریلوے کے اعلیٰ حکام سے درخواست کی گئی تھی کہ ٹریک کی مرمت اور حفاظت کے لیے اس طرح کے اسٹاف کی جگہ تجربہ کار اسٹاف رکھا جائے۔

مزید :

قومی -