کینیڈین اٹارنی جنرل نے پاکستانی خاندان کوقتل کرنے والے ملزم پر دہشت گردی کا مقدمہ عائد کرنے کی منظوری دے دی

کینیڈین اٹارنی جنرل نے پاکستانی خاندان کوقتل کرنے والے ملزم پر دہشت گردی کا ...
کینیڈین اٹارنی جنرل نے پاکستانی خاندان کوقتل کرنے والے ملزم پر دہشت گردی کا مقدمہ عائد کرنے کی منظوری دے دی

  

لندن، کینیڈا (محسن عباس )کینیڈا کے اٹارنی جنرل نے ایک پاکستانی خاندان کو ٹرک تلے روند کر قتل کے کیس میں پولیس کو ملزم پر دہشت گردی کا مقدمہ عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

20 سالہ سفید فام نوجوان کو صوبہ انٹاریو کے شہر لندن میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کو ان کے مذہب کی وجہ سے قتل کے الزامات کا سامنا ہے۔ ویلٹمین پر قتل کے چار اور اقدامِ قتل کا ایک الزام عائد کیا گیا ہے۔کینیڈین شہر لندن کی پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا کہ تفتیش کے دوران انہیں کون سے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوکہ یہ افسوسناک واردات نفرت کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

ملزم کو آج بذریعہ ویڈیو کانفرنس عدالت میں پیش کیا گیا۔فیڈرل پراسیکیوٹر سارہ شیخ نے پیر کے روز عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوشن نے الزامات کی منظوری دی ہے جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے دہشت گرد سرگرمیاں ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ قتل کی کوشش کو بھی دہشت گردی کے طور پر کارروائی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔  یہ پیش رفت قومی سطح پر کام کرنے والی شاہی پولیس یعنی آر سی ایم پی کی انٹیگریٹڈ نیشنل سیکیورٹی انفورسمنٹ ٹیم کیس کی تحقیقات کے لیے لائے جانے کے بعد ہوئی۔ قومی سلامتی کے قانون کی ماہر پروفیسر لیا ویسٹ نے قتل اور دہشت گردی کے سرگرمی کے اضافی الزامات کو مناسب قرار دیا۔ کارلٹن یونیورسٹی کے نارمن پیٹرسن سکول آف انٹرنیشنل افیئر کے اسسٹنٹ پروفیسر ، ویسٹ نے کہا دہشت گردی کی دفعات کا شامل ہونا ایک قابل سمجھ قدم ہے۔

مزید :

تارکین پاکستان -