ماں کی گود کا کمال

ماں کی گود کا کمال

  

ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے۔ بچہ یہیں سے اچھے اور بُرے کی تمیز سیکھتا ہے۔ ماں با عمل اور با کردار ہے تو بچے کی سیرت و کردار پر بھی اسی کا اثر ہو گا۔ہر بچہ قانون فطرت پر پیدا ہوتا ہے ،اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی بناتے ہیں ۔حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال اللہ کے دین کی تبلیغ کی ۔ایک سو سے بھی کم لوگ ان پر ایمان لائے۔ نوحؑ کی بیوی ان پر ایمان نہ لائی، بلکہ ان کی مخالفت کرنے لگی اورگمراہ لوگوں کے ساتھ مل گئی۔ جو لوگ حضرت نوحؑ پر ایمان لاتے ان کی اطلاع مخالفین کو کرتی اور وہ ان کو ڈرا دھمکا کردوبارہ گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ۔حضرت نوحؑ کا اپنا بیٹا بھی ماں کی تربیت کی وجہ سے ماں کا ساتھی بن گیا۔ یہ ماں کی گود کا ہی کمال تھا ۔والد وقت کے نبی اور اللہ کے برگزیدہ بندے تھے ۔ بیٹا گمراہ لوگوں کا ساتھی بن گیا اور ماںاور بیٹا طوفان نوح میں غرق ہو گئے۔

 حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اللہ کے نبی اور رسول تھے ۔ان کی پیدائش اورفرعون کے محل میں پہنچنا ، پھر اپنی والدہ کا دودھ پینا بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت تھی ۔ان کی تربیت بھی ایک رحم دل ماں کے سائے میں ہوئی تھی، اس لئے وہ بڑے حلیم اور رحم دل تھے، اسی لئے وہ بنی اسرائیل کی غلامی اوران پر ہونے والے ظلم وستم پر بہت رنجیدہ ہوتے ۔حضرت مریم علیہ السلام بھی اللہ کی بہت عبادت گزار اور نیک بندی تھیں۔ ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے ،ان کی پیدائش بھی بہت بڑا معجزہ تھا ۔حضرت عبدالقادرجیلانی بھی اللہ کے بہت نیک نبدے تھے۔ ان کی والدہ ہر وقت قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ کی عبادت کرتی رہتی تھیں۔ بیٹے نے بھی بہت بلند مقام حاصل کیا ،لیکن یہود و نصاریٰ نے آج کی مسلمان ماں کو اللہ کے دین سے بہت دور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے اولاد نا فرمان ہو گئی ہے اور گھر میں بے برکتی پیدا ہو گئی ہے۔ لڑائی جھگڑے ہر گھر میںمعمول بن گئے ہیں،بلکہ یوں کہیے کہ اب والدین کو روٹی کھلانا بڑامشکل ہو گیا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گی ہے کہ لوگ والدین کو اضافی بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔

حکم ربانی ہے کہ والدین کو اُف تک بھی نہ کہو۔ بڑے افسوس سے کہا جا رہا ہے کہ سب سے زیادہ جس کی توہین کی جارہی ہے، وہ بے چارے والدین ہی ہیں ۔ یہ بھی دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ ہم نے صرف دنیاوی تعلیم کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ پہلے گھر کا ایک فرد کماتا تھااور سارا کنبہ کھاتا تھا ،بہت اچھا گزارا ہو جاتا تھا، اب پورا گھر کما رہا ہے ،پھر بھی گھر کی پوری نہیں پڑ رہی۔ ہر فرد کا ایک ہی رونا ہوتا ہے کہ گزارا نہیں ہو رہا ۔یہی وجہ ہے کہ لوگ چند پیسوں کے لالچ میں اپنا قیمتی ووٹ ایک نااہل اور کرپٹ ممبر کو دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے لٹیرے سیاستدان ایوانوں میں پہنچ کر عوام کو لوٹنے کے نئے نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں ۔عوام کو صرف خوشحال ہونے کے نعرے ملتے ہیں ،عملی طور پر عوام کو مہنگائی اور بے روز گاری کی دلدل میں دھکیل دیا جاتاہے ۔ آج انسان بھوکے بھی سو رہے ہیں، بلکہ کئی افراد تو فاقوں کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان سب کا ذمہ دارکون ہو گا ؟

 سچ تو یہ ہے کہ ہم بھی پچاس فیصد اس کرپٹ نظام کے حصے دار ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ شخص نااہل اور بے ایمان ہے،لیکن ووٹ دیتے وقت اس بات کا ہرگز خیال نہیں رکھتے ،جس کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم پیٹ کے بندے بن گئے ہیں۔ ہر وقت کمانے اور گھر چلانے کی فکر ہوتی ہے۔ دنیاوی تعلیم بھی اسی کا حصہ ہے کہ بچہ پڑھ لکھ کر اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو جائے گا ۔ پاکستان کے عوام کی خوشحالی کے نعرے تو بہت لگائے جا رہے ہیں اور اس کی بڑی بڑی مثالیں بھی دی گئیں، ،ان کو عملی جامہ پہنانے کے دعوے بھی کئے، مگر عوام کو صرف وعدوں کے سبز با غ دکھانے کے سوا کچھ نہیں دیا گےا۔اگر دو ماہ کے اندر ہونے والی مہنگائی پر ایک نظر ڈالی جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ حکومت کی گرفت کتنی مضبوط ہے۔ ذخیرہ اندوز کتنی ڈھٹائی سے من مانی کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں نے عوام کو تڑپانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ گھی، چینی اور آٹے جیسی بنیادی چیزوں کی قیمتوں میں بے دریغ اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ حکومت عوامی تکلیف کا خیال رکھتے ہو ئے ذخیرہ اندوزوں سے عوام کی جان چھڑائے، تاکہ عوام کے اندر جو بے چینی پیدا ہو گئی ہے، ختم ہو۔عوام کے لئے مشکلات پیدا کرنے والے ذخیرہ اندوزوں کو قرار واقعی سزا دی جائے ،تاکہ آئندہ ملک کے اندر کوئی ناجائز منافع کمانے کی کوشش نہ کرسکے ۔    ٭

مزید :

کالم -