مسلم لیگ(ن)کا کامیاب فاٹا ورکرزکنونشن

مسلم لیگ(ن)کا کامیاب فاٹا ورکرزکنونشن
مسلم لیگ(ن)کا کامیاب فاٹا ورکرزکنونشن

  

فاٹا کو65سال کے بعد سیاسی آزادی ملی ہے ،چنانچہ وہاں سیاسی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں ۔ سیاسی جماعتیں فاٹا کی مختلف ایجنسیوں میں پارٹی ٹکٹ جاری کریں گی، جس سے فاٹا میں ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا، کیونکہ اس سے پہلے فاٹا میں آزاد امیدوار پیسوں کے بل بوتے پر کامیاب ہوتے چلے آئے ہیں، پھر کامیابی کے بعد اسلام آباد میں وزیراعظم کے انتخاب سے لے کر سینیٹ کے الیکشن تک میں کروڑوں روپے لیتے رہے، جس کی وجہ سے بدنامی قبائلی عوام کی ہوئی، فاٹا میں جو بڑا سمگلر ہوتا، جس کے پاس زیادہ پیسہ ہوتا، وہ ایوان زیریں یا ایوان بالا تک پہنچ جاتا۔ ایماندار ، باکردار اور مخلص قیادت پیچھے رہ جاتی۔فاٹا میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کے نفاذ کے بعد گزشتہ ایک سال سے تمام سیاسی جماعتوں نے سیاسی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مسلم لیگ (ن)کے عہدیداروں نے بھی مختلف ایجنسیوں میں اپنی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ میاں محمد نواز شریف نے فاٹا کے لئے مرحوم انور کمال خان کو کوآرڈی نیٹر مقرر کیا تھا، ان کی وفات کے بعد میاں صاحب کا انتخاب خیبرپختونخوا کے زیرک سیاست دان امیر مقام تھے۔

 امیر مقام نے فاٹا کے کوارڈی نیٹر کے فرائض سنبھالتے ہی مسلم لیگ (ن) فاٹا کے عہدیداروں سے رابطے شروع کئے اور دو ہفتوں کے اندر اندر فاٹا کے حوالے سے پارٹی کا سب سے بڑا کنونشن گزشتہ دنوں حیات آباد میں منعقد کیا ،جس میں فاٹا سے تقریباً پانچ ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، جو ایک ریکارڈ ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امیر مقام نے فاٹا میں مسلم لیگ (ن)کے ان دیرینہ رہنماﺅں، کارکنوں کے ساتھ مشورے کئے جو مشکل دور سے فاٹا میں مسلم لیگ (ن) کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں۔ امیر مقام نے ان رہنماﺅں کے مشورے سے ایک بڑا کنونشن منعقد کر کے دیگر سیاسی جماعتوں کے لئے فاٹا میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ۔کنونشن کی صدارت امیر مقام نے کی، کامیاب کنونشن کے دوران امیر مقام نے نہ صرف یہ کہ قبائلیوں کو یہ بتایا کہ وہ فاٹا مسلم لیگ(ن) کے لئے علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کریں گے، بلکہ پرانے اور دیرینہ کارکنوں اور رہنماﺅں سے میرٹ پر ٹکٹ سمیت دیگر امور پر مشورے کئے جائیں گے تاکہ مسلم لیگ (ن) کے منشور میں قبائلی علاقوں کے لئے جو اعلانات کئے گئے ہیں، ان کو عملی جامہ پہنایا جا سکے ۔

مسلم لیگ (ن) کے منشور کے مطابق فاٹا کے عوام کے لئے آئین ساز کونسل قائم کی جائے گی، جو قبائلی علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔منشور میں قبائلیوں کے لئے یہ بڑا اعلان فاٹا کے مسلم لیگ (ن)کے دیرینہ رہنماﺅں، کارکنوں اور امیر مقام کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔منشور میں اس بات کو شامل کرنے کے بعد فاٹا میں امیر مقام کے لئے اچھے جذبات پائے جاتے ہیں ۔ فاٹا آئین سازکونسل کا قیام منشور کا حصہ ہے، جس کے انتخابات براہ راست ہوں گے۔ پولیٹیکل انتظامیہ سے ترقیاتی اختیارات لے کر فاٹا آئین ساز کونسل کو منتقل کئے جائیں گے ۔پولیٹیکل ایجنٹ سے عدالتی اختیارات بھی واپس لئے جائیں گے ۔فاٹا کے عوام اپنے فیصلوں میں آزاد اور خودمختار ہوںگے ۔فاٹا کے لئے میڈیکل کالج اور فاٹایونیورسٹی کا قیام بھی منشور میںشامل ہے ۔سپریم کورٹ آف پاکستان اورپشاورہائیکورٹ کا دائرہ اختیار بھی فاٹا تک بڑھایا جائے گا۔ قبائلی عوام کو بھی اپیل کا حق مل سکے گا ۔

یہ وہ بڑے نکات ہیں، جن کو مسلم لیگ (ن)کے انتخابی منشور میں شامل کیاگیا ہے ۔منشور میں اس بات کو شامل کرنے کے لئے محمدنواز شریف ،امیر مقام اور مسلم لیگ (ن)فاٹاکے رہنماﺅں نے انتہائی اہم کوششیں کرنے کے ساتھ ساتھ ذاتی دلچسپی لی ۔اگر مسلم لیگ (ن)اقتدار میں آتی ہے اور اس منشور پر عمل ہو جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ امیر مقام اور مسلم لیگ (ن)فاٹا کے رہنماﺅں کی یہ کوششیں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی، بلکہ فاٹا میں گزشتہ 65 سال سے قائم محرومیوں کا ازالہ بھی ہو جائے گا اور فاٹا کے عوام بھی ایف سی آر کے ظالمانہ اور انگریزوں کے وضع کردہ غلامانہ قانون سے نکل کر پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح اپنے حقوق حاصل کریں گے، جس سے نہ صرف یہ کہ فاٹا کے عوام کو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ تک رسائی حاصل ہو جائے گی، بلکہ پولیٹیکل ایجنٹ کی ظالمانہ عدالتوں، جہاں پر لوگوں کو بغیر پوچھے سو سال تک قید میں ڈال دیا جاتا ہے، جیسے ظالمانہ اقدامات سے نجات مل جائے گی۔ ان کوششوں کا سہرا مسلم لیگ(ن)کے سینئر نائب صدر اور فاٹا کے کوآرڈی نیٹر امیر مقام کے سر جاتا ہے، جنہوں نے مسلم لیگ (ن)فاٹا کے رہنماﺅں کے ساتھ مشاورت کر کے اور ذاتی طور پر دلچسپی لے کر انتخابات سے قبل ہی منشور میں یہ نکات شامل کئے ۔

ڈکٹیٹرشپ کے دورمیں مسلم لیگ(ن)فاٹا کے رہنماﺅں کے خلاف پولیٹیکل انتظامیہ نے ہر طرح کے اقدامات کئے، ان کو ہراساں کیا اور انہیں اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور کیا، لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) فاٹا کے عہدیدار نہ صرف ثابت قدم رہے، بلکہ انہوں نے پولیٹکل ایجنٹس کی ظالمانہ کارروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہر وقت آمریت کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی، بلکہ ہر طرح کے مقدمات کا بھی سامنا کیا ۔فاٹا کے عوام کو امید ہے کہ محمد نواز شریف کی قیادت میں ان شاءاللہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کے بعد محمد نواز شریف اور امیر مقام فاٹا کے عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں گے اور فاٹا کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے ۔قبائل نظریاتی طور پر مسلم لیگی ہیں اور قیام پاکستان سے لے کر استحکام پاکستان تک بے پناہ قربانیاں دے چکے ہیں، لیکن ہر حکومت نے قبائلی عوام کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے قبائل آج بدترین پسماندگی اور ناخواندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اب 80لاکھ قبائلی عوام کی نظریں محمد نواز شریف پر مرکوز ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر قبائلی عوام کی 65سالہ محرومیوں کا ازالہ کریں گے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کریں گے!     ٭

مزید :

کالم -