وزیر اعلیٰ پنجاب اور معاہدہ شمسی توانائی

وزیر اعلیٰ پنجاب اور معاہدہ شمسی توانائی

  

 

اگر ہم گزشتہ پانچ سالوں کی طرف نظر دوڑائیں تو ما سوائے لوڈشیڈنگ ، مہنگائی ، کرپشن کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ نہ گیس ، نہ بجلی ، نہ روٹی ،نہ پکڑا ، نہ مکان ، اللہ جانے کہاں ہے حکومت کا دھیان ، جدھر دیکھو ادھر نقصان ہی نقصان ، پورا سال پنجاب حکومت پر تنقید کرتے گزرے لیکن اگر چند کام پنجاب حکومت نے ایسے کیے جن کا ذکر کرنا بہت ہی ضروری ہے ۔ اچھی بری باتیں ہر انسان میں پائی جاتی ہیںاور ہم ایسے مسلمان ہیں کہ ایک دوسرے کی کمزوریاں ڈھونڈنے کی کی کوشش میں ر ہتے ہیں اور اگر کوئی کمزوری ہاتھ لگ جائے تو تنقید کا نشانہ بنا دیتے ہیں اور اگر کوئی اچھا کام ہو تو تعریف کرنے میں کنجوسی سے کام لیتے ہی ۔ ماہ فروری میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف نے جرمن کمپنی سے شمسی توانائی کے منصوبوں کا معاہدہ کیاجبکہ بجلی کا بحران وفاقی حکومت کی پچھلے 5سال کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے یہ بحران ہر تین چار ماہ بعد ہوتا ہے لیکن وفاقی حکومت ہر بار عارضی اور مستعار اقدامات سے وقتی طور پر صورتحال بہتر کر لیتی ہے -

اس وقت ملک میں بجلی کی کل پیداوار ی صلاحیت 23ہزار میگا واٹ ہے جس میں سے فقط 17ہزار میگا واٹ پیدا کی جارہی ہے اس 17ہزار میں 70فیصد تیل اور گیس کے پلانٹ سے حاصل ہوتی ہے اور اس میں 6500میگا واٹ آئی پی پی ایس کا حصہ ہے -اس وقت دونوں بڑے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ ڈیڈ لائن پر ہے - اب تمام انحصار آئی پی پی ایس اور Gencosپر ہے -ان کا کل استعداد 12,000میگا واٹ ہے اور اتنی ہی اس وقت سسٹم کی کل ضرورت ہے مگر یہ پلانٹ اس وقت واپڈا کو تقریبا6500میگا واٹ مہیا کر رہے ہیں اور تقریبا6ہزار میگا واٹ کی کمی کا سامنا ہے -کیونکہ پیپکو ان میں سے بہت سے پلانٹس کو ادائیگی نہیں کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ تیل نہیں خرید سکتے-مگر اس سسٹم کی خوبصورتی یہ ہے کہ پلانٹ بندہونے کے باوجود پیپکو انہیں فکسڈ چارجز ادا کر رہی ہے-حکومت پنجاب نے انرجی کے حوالے سے دو ادارے بنائے ہیں-پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی اورپنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ-پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی پبلک سیکٹر میں جاری انرجی کے منصوبوں کو چلاتی ہے جبکہ اس کے لئے فنڈ ز حکومت فراہم کر تی ہے انرجی کے شعبہ میں اگر کوئی شراکتی منصوبہ بھی بنانا ہوتو وہ بھی پنجاب ڈویلپمنٹ کمپنی بنائے گی۔

جرمن کمپنی اے ای جی (AEG)چولستان میں شمسی توانائی کے 400میگا واٹ اور 50میگا واٹ کے منصوبے لگارہی ہے۔ جرمن کمپنی ان منصوبوں میں سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کررہی ہے جو پنجاب اور پاکستان کے عوام کے لئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا ایک شاندارتحفہ ہے۔ جون 2013میں 50میگاواٹ کا منصوبہ بجلی کی فراہمی شروع کردے گا جبکہ 400میگاواٹ کا منصوبہ بھی ایک سال کی مدت میں مکمل کیاجائے گا۔جرمن کمپنی اے ای جی 18سینٹ کے حساب سے چارج کرے گی اور وفاقی حکومت سے ان منصوبوں کے حوالے سے ساورن گرانٹی حاصل کی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے جرمن کی کمپنی انرجی قویل(Energiequelle)اور آسٹریا (Austria)کی کمپنی اینڈریز ہائیڈرو (Andritz Hydro)کمپنی کے ساتھ بھی توانائی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے 2مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیںاور حکومت پنجاب جرمنی کمپنی کے تعاون سے چولستان میں ایک منصوبہ شروع کیا۔ جرمن کمپنی اور پنجاب حکومت کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر پنجاب حکومت کی طرف سے سیکرٹری توانائی اور جرمن کمپنی انرجی قویل کی جانب سے ڈائریکٹر سیلز ہیلمٹ فیوج مین (Helmut Fugemann)نے دستخط کئے جبکہ دوسری مفاہمتی یادداشت پر آسٹریا کمپنی اینڈریز ہائیڈرو کے نمائندے اور سیکرٹری توانائی پنجاب نے دستخط کئے۔ مفاہمتی معاہدے کی رو سے جرمن کمپنی پنجاب میں 300میگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ لگائے گی جبکہ آسٹریا کی کمپنی پن بجلی کے منصوبوں میں تعاون کرے گی۔

 پاکستان میں کوئلے پانی اور سورج سے توانائی کے حصول کے بڑے مواقع موجود ہیں۔ پنجاب حکومت جرمن اور آسٹریا کی کمپنیوں کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتی ہے۔ پنجاب حکومت توانائی کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہے تاہم افسوس کی بات ہے کہ نیپرا نے ابھی تک توانائی کے منصوبوں کے لئے فی یونٹ بجلی کا ریٹ مقرر نہیں کیاہے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے سینکڑوں مرتبہ آواز اٹھائی لیکن اس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ جرمن کمپنی اے ای جی نے 18سینٹ کے حساب سے بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیاہے ۔ وفاقی حکومت 22سینٹ پر بات کرنے کی خواہاں تھی لیکن اب اسے 18سینٹ کے حساب سے ساورن گرانٹی دینا ہوگی۔ پاکستان انتخابات کی جانب بڑھ رہاہے اور جون میں جرمن کمپنی 50میگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ مکمل کرلے گی جو آنے والی حکومت کے لئے ایک تحفہ ہے۔ اس منصوبے کا وزیر اعلیٰ پنجاب نے چولستان میں سنگ بنیاد رکھا۔ وفاقی حکومت کے عدم تعاون اور مشکلات کے باوجود توانائی کے شعبے میں100ارب رو پے کی جرمن کمپنی کی سرمایہ حکومت پنجاب کی توانائی کے شعبے مین سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سرمایہ کار اسلام آباد جاتے ہوئے اپنی جیبوں پر ہاتھ رکھ کر جاتے ہیں تاکہ کوئی ان کی جیبوں سے پیسے نہ نکال لے۔ لیکن پنجاب میں سرمایہ کارکھلے دل سے آرہے ہیں جو پنجاب حکومت کی پالسییوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ آنے والی حکومت کو توانائی کے بحران کے بڑے چیلنج کا سامنا ہوگا ۔ وفاقی حکومت نے کرپشن کی بدولت ملک کا بیڑا غرق کیا۔ معیشت کا جنازہ نکال دیا۔ عوام ووٹ کی پرچی سے ان لٹیروں او رٹھگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے اقتدار سے باہر کردیں گے او رایسے لوگوں کو لائیں گے جو صحیح معنوں میں عوام کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں۔ پنجاب حکومت نے میٹرو جیسا عظیم الشان منصوبہ 11ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا ہے جس میں روزانہ ایک لاکھ سے زائد لوگ سفر کررہے ہیں۔ منصوبے پر 90ارب روپے خرچ آنے کا پراپیگنڈہ کرنے والے آج کہاں ہیں؟ گزشتہ 65سالوں میں عام آدمی کو کھٹارا بسوں پر سفر کرنے پر مجبور کیاگیا لیکن پنجاب نے میٹرو بس منصوبے کے ذریعے شہریوں کو بہترین سفر کی سہولیات دیں۔ میٹرو بس کے منصوبے میں کرپشن کا الزام لگانے والوں میں اگر ہمت او رحوصلہ ہے تو وہ کرپشن کا ثبوت لائیں؟ میٹرو بس کے منصوبے میں کرپشن کا ایسے لوگ الزام لگا رہے ہیں جنہوںنے اپنے دور میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر قوم کے اربوں کھربوں روپے ہڑپ کئے ہیں۔ قوم ان لٹیروں کا کڑا احتساب کرے گی اور ان سے ایک ایک پائی وصول کی جائے گی۔میں ایسے لیڈروں سے جان چھوڑوانا ہو گی ، پھر ہی ہم جا کر سکھ کا سانس لے سکتے ہیں ۔ وو کاصحیح استعمال ہماری ذمہ داری ہے ۔     ٭

مزید :

کالم -