لیسکو نے بجلی چوری کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا

لیسکو نے بجلی چوری کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا
لیسکو نے بجلی چوری کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا

  

یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ پاکستانی عوام کے مصائب کب ختم ہوں گے، یہاں تو ایک مصیبت ٹلتی نہیں کہ دوسری گھر دیکھ لیتی ہے۔ ایک ماہ قبل جنوری کے گیس بل موصول ہوئے تو لوگ بے ہوش ہو گئے تھے، طوعا ً و کرعا ً ادائیگی کرنا پڑی کہ گیس زندگی کی ضرورت بن چکی اس کا پریشر کم ہو یا اس کی لوڈشیڈنگ ہوتی رہے۔اس کے بعد آنے والے بل اگرچہ زیادہ تھے تاہم معمول کے مطابق تھے، اضافی رقم وہ تھی جو یکم جنوری سے گیس کی قیمت بڑھانے سے شامل ہوئی۔ اب یہ اطلاع تشویش پیدا کر چکی کہ وفاقی کابینہ نے گیس چوری کا نقصان بھی بالآخر صارفین کی طرف منتقل کر دیا اور گیس کے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ کے عنوان سے بلوں کے ساتھ اضافی رقم آنا شروع ہو جا ئے گی، گیس کی چوری روکنے میں ناکامی محکمہ سوئی گیس کو ہوئی اور قصور وار صارف ٹھہرے اور اس میں بھی کوئی تخصیص نہیں کی گئی۔ گھریلو صارفین ہی زیادہ بوجھ برداشت کریں گے کہ اُن کی تعداد زیادہ ہے جہاں گیس چوری ہوتی ہے وہاں چوری پکڑتے وقت ملازمین اور اہلکاروں کے پر جلتے ہیں۔

بات اِسی ایک محکمے تک ہی محدود نہیں، اب بتدریج دوسرے بھی میدان میں اُتر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر امور مملکت امتیاز صفدر وڑائچ نے سینیٹ اجلاس کے دوران سوالات کا جواب دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ گزشتہ چار پانچ سال میں90ارب روپے کی بجلی چوری ہوئی۔اس میں ”لائن لائسز“ شامل نہیں ہیں۔ یوں اگر نسبت تناسب کے حساب سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہر سال سوا ارب سے ڈیڑھ ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ اگر سوال کا جواب صحیح نہیں تو پھر یہ90ارب روپے سالانہ ہے، جو پورے ملک میںچوری کی جاتی ہے۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، یہ چوری سینہ زوری کے علاوہ ملی بھگت سے ہوتی ہے۔

قارئین کے لئے اطلاع ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بھی سوئی گیس کی طرح بجلی چوری اور ”لائن لائسز“ کا نقصان صارفین سے وصول کرنا شروع کر دیا ہے، اس کا اعلان بھی نہیں کیا گیا البتہ اسے تکنیکی طور پر وصول کیا جا رہا ہے، اس کے لئے مثال عرض ہے۔ نومبر، دسمبر میں لیسکو نے لاہور میں بجلی کے میٹروں کی نئے سرے سے تنصیب شروع کی اور کھمبوں پر لگے لٹکے میٹروں اور تاروں کی تنصیب المونیم کی پتریاں لگا کھمبوں کے ساتھ شروع کی اور تاریں بھی ضرورت کے مطابق نئی لگائیں۔ اب ہوا یوں کہ جس جس علاقے میں یہ تنصیب مکمل ہو گئی اس علاقے کے صارفین کو اس تنصیب کے بعد کے دنوں کے جو بل موصول ہوئے وہ معمول سے بہت زیادہ تھے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک صارف کا نومبر2012ءکا بل 243یونٹ کا تھا تو اسے جنوری کا بل 389یونٹ اور پھر فروری کا بل 520یونٹ آ گیا ہے۔ یوں پہلے سوا سو یونٹ کا فرق پڑا تو اس سے اگلی مرتبہ یہ فرق 277یونٹ کا ہو گیا۔ اس دوران موسم سرد اور تاحال بھی پنکھے نہیں چلے۔ اس کے علاوہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 8گھنٹے سے تو کسی روز بھی کم نہیں ہوا۔ گزشتہ دو ماہ سے یہ12گھنٹے تک ہے۔ یہ لاہور کی بات ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ دورانیہ موسم کی طرح ہے کہ بادل آئیں تو اللہ کی رحمت نہ آئے یہ اس کی قدرت۔

 اب صورت حال یہ ہے کہ فروری اور مارچ میں صارفین کو جنوری اور فروری میں استعمال ہونے والی بجلی کے جو بل آئے وہ چیخیں نکلوانے کے لئے کافی ہیں۔ صارفین کا تاثر یہی ہے کہ میٹر اور تاروں کی درستگی کے کام کے ساتھ ساتھ میٹروں کی رفتار تیز کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا جو یونٹوں کے خرچ کا موازنہ کرنے سے ثابت ہو جاتا ہے، کیونکہ نومبر اور دسمبر میں جتنی بجلی استعمال کی گئی جنوری اور فروری میں اس سے کم ہوئی کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ چکا تھا۔ یوں بھی ہم یہاں ایک ایسے گھر کے چند ماہ کے یونٹوں کی تفصیل بتاتے ہیں کہ اندازہ ہو سکے۔ یہ گھر انرجی سیوروں والا ہے، جس میں احتیاط بھی کی جاتی ہے۔ ایک ٹیلی ویژن اور ایک فریج ضرور چلتا ہے، فریج تو زیادہ وقت کے لئے آن ہوتا ہے جبکہ ٹیلی ویژن قدرتی طور پر روشنیوں سمیت رات کو اور صبح کے اوقات میں بند رہتا ہے۔ اب اس گھرانے کے استعمال شدہ یونٹوں کا حساب لگا لیں۔ فروری 2012ءمیں195 یونٹ۔ مارچ میں 146 یونٹ، اپریل میں561یونٹ (دو ماہ کی کسر نکال دی گئی) پھر مئی میں503یونٹ (پنکھے اور کچھ وقت اے سی چلا) جون کے217یونٹ، جولائی کے 480 یونٹ، اگست کے292یونٹ، ستمبر کے 271 یونٹ، اکتوبر کے345یونٹ،نومبر کے243یونٹ اور دسمبر2012ءکے200یونٹ بھیجے گئے۔ اس تمام عرصے میں میٹر ریڈر اپنا کمال دکھاتے رہے اور کبھی خوشی کبھی غم کا گیت سناتے گئے کہ ایک ماہ ریڈنگ لینے نہ آئے اور خود ہی بل بنا دیا۔ پھر آ کر یونٹ زیادہ ڈال دیئے اب اگر جائزہ لیا جائے تو اس میٹر کی اوسط قریباً 200سے سوا دو سو یونٹ بنتی ہے، جب 11جنوری 2013ءکو نئی تنصیب ہوئی تو اس کے بعد جو پہلا بل موصول ہوا وہ389 یونٹوں پر مشتمل تھا۔ اس میں کچھ روز کم ہیں کہ ریڈنگ مہینے کے آخری ایک دو روز میں لی جاتی ہے، اب فروری کے28روز کا جو بل بھیجا گیا تو احساس ہوا کہ میٹر جیٹ طیارے کی رفتار سے چل رہا ہے۔ شکایت کے لئے متعلقہ سب ڈویژن سے رجوع کیا تو جواب ملا، میٹر تبدیل کر دیتے ہیں، فرق نہیں پڑے گا۔

تو پیارے قارئین اور صارفین دیکھ لیجئے کہ گیس والوں کے بعد لیسکو نے لوٹنے کا کتنا بہتر انتظام کیا اور اب شکایت کی گنجائش بھی نہیں کہ جو بھی میٹر ہو گا وہ اتنا ہی برق رفتار ہو گا۔ آپ چلاتے ہیں تو چلاتے رہیں۔ کاش لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت رٹ کے دوران لوڈشیڈنگ کے ساتھ یہ مسئلہ بھی اٹھایا جائے۔ قارئین! یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ بجلی کے نرخ بڑھ کر کچھ یوں ہو گئے ہیں۔ پہلے 100 یونٹوں کے نرخ5.790 روپے فی یونٹ، 100سے200یونٹ تک 8.110روپے فی یونٹ اور 200کے بعد والے یونٹوں کے نرخ 12.330روپے فی یونٹ ہیں۔ ان پر نیلم جہلم سرچارج، جنرل سیلز ٹیکس، محصول بجلی اور35روپے فی بل ٹیلی ویژن فیس الگ سے ہے جبکہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام سے واجبات الگ جمع کر کے وصول کئے جاتے ہیں۔

یہ تمام تر صورت حال عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کے لئے ہے۔ ان حالات میں بجلی ایک عیاشی نہیں تو اور کیا ہے۔ غریب لوگ اور تنخواہ دار طبقہ کیا کرے، فریاد ہی کی جا سکتی ہے اور و ہ بھی عدلیہ سے۔      ٭

مزید :

کالم -