چین بنے گا سپر پاور

چین بنے گا سپر پاور
چین بنے گا سپر پاور

  

صدر آصف علی زرداری سمیت پوری دُنیا اب یہ جان چکی ہے کہ امریکہ پہلے امداد کرنے کے بہانے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں گھستا ہے، پھر اُنہیں ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور درجنوں دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے قرضوں کے ایک ایسے لامتناہی جال میں پھنسا دیتا ہے ، جس سے باہر نکلنے کا راستہ ہی نہیں دیا جاتا۔ جو حکمران اس سارے کھیل کو سمجھ کر اِس جال سے نکلنے کی کوشش کرے، اُس کی حکومت ختم کرا دی جاتی ہے.... کبھی فوج کے ذریعے ، کبھی وہاں کے عوام کو تقسیم کر کے اور تفرقہ ڈال کر۔ آپ عراق، لیبیا، کویت، سوڈان، لبنان، مصر اور ایران کی تاریخ سامنے رکھیں، تو آپ کو درجہ بدرجہ معلوم ہو گا کہ وہاں پہلے بہترین دوستی کی بنیاد ڈالی گئی، پھر تجارت کا ڈول ڈالا گیا، لیکن ہوا کیا؟.... ڈالر کاریٹ مسلسل بڑھتا گیا۔ عنایات کی جگہ قرضوں نے لے لی اور جب وہاں کے عوام نے محسوس کیا کہ خون تو اُن کا چوسا جا رہا ہے، تو وہاں امریکہ نے اندرونی حالات میں مداخلت کی، جہاں کام چل گیا۔ امریکہ نواز حکمران لائے گئے، ورنہ فوج سے کام لے کر امریکہ نے اپنے مقاصد پورے کر لئے۔

آپ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر نگاہ ڈالیں تو دیکھیں گے کہ یہاں قحط سے ملک کو بچانے کے لئے50اور60 کی دہائی میں گندم کے درجنوں جہاز مدد میں دیئے گئے اور شرط یہ رکھی کہ ہم روس اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کم کریں۔ روس نے ہماری اقتصادی امداد کے لئے ہمیں سٹیل مل لگا کر دی تھی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے بیلارس نامی ٹریکٹر 20سال کی قسطوں پر دیئے۔ ہزاروں ٹریکٹر یہاں آئے اور زرعی ترقیاتی بینک نے آسان اقساط پر یہ ٹریکٹر کسانوں کو دیئے۔ اِن ٹریکٹروں کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ بجلی بھی پیدا کرتے تھے، آٹے کی چکی بھی چلاتے تھے، بھوسی سے گندم کو بھی الگ کرتے تھے اور باربرداری کے لئے ایسے ٹرالروں کو بھی کھینچتے تھے، جن میں500من تک اجناس یا گنا وغیرہ لوڈ کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جایا جا سکتا تھا۔ گویا یہ ٹریکٹر محض کھیت میں ہل چلانے کے لئے ہی نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان سے ٹیوب ویل چلا کر فصلوں کو سیراب بھی کیا جا سکتا تھا اور سرسوں کا تیل بھی ان کی مدد سے نکالا جا سکتا تھا۔ ان کسان دوست ٹریکٹروں کا اِس قدر فائدہ ہوا کہ ہم قحط کے خدشے سے بچ گئے اور زرعی پیداوار میں سو فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا.... لگ بھگ اِسی انداز میں چین نے بھی ہماری مدد کی اور پاک چین دوستی کی ایسی داغ بیل ڈالی، جو آج بھی موجود ہے۔

 ٹھیک اسی زمانے میں امریکہ نے ہماری بعض دینی جماعتوں کی براہ راست اور خفیہ طور پر ایسی امداد شروع کر دی، جنہوں نے کمیونسٹ ممالک سے ہماری حکومتی دوستی کو ٹھیک اس طرح تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا، جس طرح سے آج اُنہیں امریکہ کی دوستی زہر لگ رہی ہے۔ امریکہ کی دوستی تو ہوتی ہی ڈالر ریٹ بڑھانے اور دوسرے ممالک کو قرضوں کے جال میں پھنسانے کے لئے ہے۔ آپ دیکھ لیں کہ امریکی ہمارے دوست بنے تو روپیہ اور ڈالر کے نرخ یکساں تھے، لیکن ہمارے کروڑوں شہریوں کا خون اِس تسلسل سے چوسا گیا کہ اب ایک امریکی ڈالر کے بدلے ہمیں100روپے دینا پڑ رہے ہیں۔ جس روٹی، کپڑے اور مکان کے نعرے پر 1970ءکے الیکشن میں دینی جماعتوں نے یہ کہہ کر پیپلزپارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کی تھی اور اسلامی سوشلزم کے نعرے کو کمیونزم کے نعرے کا نام دیا تھا۔ کمیونسٹ ممالک میں تو اِس روٹی، کپڑے اور مکان کو چین، روس اور دیگر کمیونسٹ ملک میں ”ماٹو“ کا نام دیا جاتا ہے اور وہاں یہ ساری چیزیں وہاں کی حکومتیں آج بھی اپنے عوام کو مہیا کر رہی ہیں، لیکن اگر اسے ہمارے عوام میں باہمی پھوٹ ڈلوا کر اور یہاں پر درجنوں کے حساب سے بھانت بھانت کے نعرے لگانے والی سیاسی پارٹیاں پیدا کر کے ”ماٹو“ کا درجہ نہ دیا جا سکا اور اب تو شاید پی پی پی نعرے کو منشور میں رکھ کر بھی اس کے ذکر سے کنارہ کش ہو چکی ہے۔

صدر آصف علی زرداری شاید اب تک اس سارے کھیل کو سمجھ چکے ہیں اور اُن کے دو فیصلوں سے امریکہ اور اُس کے ہم نواﺅں پر جیسے اوس سی پڑ گئی ہے۔ ہماری حکومت کا ایک فیصلہ گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرنے کا ہے اور دوسرا ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھاوا دے کر گیس پائپ لائن کی تعمیر شروع کرنے کا ہے۔ چین کو گوادر کی بندرگاہ دینے کا سیدھا سادا مطلب اس کو ”سپر پاور“ بننے کی کنجی (Key) دینا ہے اور یہ کوئی خاص دوست اور خیر خواہ ہی کر سکتا ہے۔ چین کو یہاں راستہ دینے کا مطلب پوری دُنیا میں اس کا تجارتی سامان نسبتاً کم سفر خرچ کے ذریعے پہنچانا ہے، ظاہر ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اگر چین کم قیمت پر اپنا مال فروخت کے لئے ”آفر“ کرے گا، تو پھر اُسی کا مال ہی فروخت ہو گا۔ مقابلے کے اس دور میں کوئی کیوں زیادہ نرخوں پر کسی سے مال لے گا؟ ویسے بھی اب امریکہ جس اقتصادی بدحالی کے دور سے گزر رہا ہے، اس میں خود اُس نے چین کے بڑے بینکوں سے اربوں نہیں، بلکہ کھربوں ڈالر کے قرضے لے رکھے ہیں اور وہ ان قرضوں کی ادائیگی کے لئے ٹھیک اس طرح پریشان نہیں، جس طرح امریکہ سے لئے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لئے ہم اور ہمارے جیسے دوسرے کئی غریب ممالک پریشان ہیں۔

اب آپ دوسری جانب آئیں.... ہماری دوستی روس سے صحیح خطوط پر چل رہی تھی اور تجارت کا بھی توازن ٹھیک تھا، لیکن جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو امریکہ نے ہمیں ایک اچھے پڑوسی کا حق ادا کرنے کے لئے کہا اور درپردہ ہمارے ”پَروں“ کی مدد سے اُس نے افغانستان میں نو دس سال تک یہ لڑائی لڑی.... روس کمزور پڑ گیا۔ اس کے کئی حصے ہو گئے۔ افغانستان بھی ہم سے خوش ہوا، لیکن جن دینی جماعتوں نے مجاہدین کو یہاں اور افغانستان میں جہاد کی تربیت دی تھی، انہوں نے پاکستان، ایران، سعودی، عرب، انڈونیشیا، یو اے ای اور خلیجی ریاستوں میں کلاشنکوف اور اسلحہ کا کلچر بھی دیا۔ آج اگر ہم دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں تو اس کی بڑی وجہ ہماری امریکہ نواز پالیسی ہی ہے۔

پھر اِسی امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیا، تو کہاں گئی اس کی افغانستان نواز پالیسی، وہ تو ماضی میں افغانستان کو بچانے آیا تھا۔ اس نے ہمیں بھی استعمال کیا، لیکن پھر اس قدیم ملک کو نیست و نابود اور تاراج و برباد کر کے رکھ دیا۔ ہم بھی اچھے پڑوسی ثابت نہ ہوئے اور اپنے ملک کو بچانے کے لئے (بظاہر) امریکہ کے حمایتیوں میں شامل ہو گئے۔ ہم یہ بھول گئے کہ آج اگر ہم نے افغانستان جیسے اپنے قدیم ہمسایہ کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اس کی نئی نسل تو اب پاکستان کے نام کو گالی سمجھتی ہے، حالانکہ اس کے بارڈر کے نزدیک رہنے والی نصف آبادی کی تو رشتہ داریاں پاکستان میں تھیں اور آج بھی ہیں۔ ہم نے 30لاکھ افغان بھائیوں کو پناہ بھی دی تھی، اُن کا خیال بھی رکھا تھا اور امن بحال ہونے پر اُن کے وطن واپس بھجوانے میں بھی مدد کی تھی، لیکن آج وہاں حالات ہمارے خلاف ہیں۔ بھارت اور روس وہاں ہمارے خلاف محاذ بنا کر بیٹھے ہیں اور ہر نئی صبح ہمیں نقصان پہنچانے کی پالیسیوں اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ ہماری قیادت ہمارے سیاسی رہنماﺅں اور فوج سب کو اِس کا علم ہے۔

 اگر صدر آصف علی زرداری نے اپنی خارجہ پالیسی کو بدلا ہے، تو انہیں افغانستان اور روس کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو بہتر بنانا ہو گا اور امریکہ کو خدا حافظ کہنا ہو گا۔ اگر ہمارے عوام قرض اُتارنے کے لئے بیرون ممالک اور خود یہاں سے اپنا پیٹ کاٹ کر ”قرض اُتارو، ملک سنوارو“ کے لئے اپنا خون دے سکتے ، تو آج بھی امریکہ کے قرضوں سے جان چھڑانے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اُن سے یہ رقم، یہ قرضہ کوئی سیاسی لیڈر نہ مانگے، بلکہ پاک فوج آگے آئے اور اس قومی کام میں حصہ ڈالے۔ فوج اپنے عوام سے جو مدد بھی مانگے گی، عوام ٹھیک اسی طرح مدد کریں گے، جس طرح انہوں نے1965ءکی جنگ میں کی تھی۔  ٭

مزید :

کالم -