این اے 105گجرات شجاعت حسین ،پرویزالہی اور احمد مختار کے مابین سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے کھینچا تانی جاری

این اے 105گجرات شجاعت حسین ،پرویزالہی اور احمد مختار کے مابین سیٹ ایڈجسٹمنٹ ...
این اے 105گجرات شجاعت حسین ،پرویزالہی اور احمد مختار کے مابین سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے کھینچا تانی جاری

  

لاہور(شہباز اکمل جندران ،معاونت مرزا نعیم الرحمان ‘ اسماعیل خرم )قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 105میںمسلم لیگ ق کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین ‘ ڈپٹی وزیر اعظم چودھری پرویز الہی اور موجودہ وفاقی وزیر برائے بجلی و پانی چودھری احمد مختا ر کے مابین سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی شکل میں سیاسی کھینچا تانی ختم نہ ہوسکی۔اہم شخصیات کا آبائی حلقہ ہونے کے باوجود ماضی میں یہاں گیس اور بجلی کا بدترین بحران کا شکار رہا جس سے نہ صرف بے روزگاری کی شرح میں خوفناک اضافہ ہوا بلکہ ضلع معاشی لحاظ سے مجموعی طور پر غیر مستحکم رہا گجرات جو فین انڈسٹری ‘ فرنیچر سازی اور پارٹری مصنوعات کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت رکھتا ہے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے شدید متاثر ہواسینکڑوں چھوٹے بڑے صنعتی ادارے بند ہونے سے جہاں بے روزگاری کی شرح میں خوفناک اضافہ ہوا وہیں جرائم کی شرح بھی آسمان چھوتی رہی سیوریج کی بندش اور صفائی کا مسئلہ پانچ سال سے شہریوں کیلئے اذیت کا باعث بنا ہوا ہے‘ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے سیوریج نالوں کی عدم صفائی کے باعث بارشوں کی صورت میں پورا شہر ڈوب جاتا ہے کئی کئی دن تک گلیوں ‘ میں کھڑا پانی مچھروں کی افزائش اور وبائی امراض کا باعث بنتا ہے ماضی میں بحرانوں کے ستائے ہوئے عوام کی محرومیوں ختم کرنے اور اعتماد میں لیے بغیر کامیابی کا خواب دیکھنا احمقانہ فعل ہو گاانتخابات کا دور شروع ہو چکا ہے قدر آور سیاستدانوں نے گجرات میں ڈیرے جما لیے ہیں الیکشن مہم زور پکڑ چکی ہے این اے 105سے ڈپٹی وزیر اعظم چودھری پرویز الہی اور وفاقی وزیر بجلی و پانی چودھری احمد مختار کے درمیان کھینچا تانی جاری ہے دونوں سیاستدانوں کے درمیان بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کے باعث دونوں میں سے کسی ایک امیدوار کو ٹکٹ ملے گی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے باعث ایک امیدوار کو دستبردار ہونا پڑیگا تاہم دونوں روایتی حریف ہونے کے باعث اپنی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور حلقے میں عوامی رابطہ مہم تیز کر رکھی ہے مسلم لیگ ن کی طر ف سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر تاحال کوئی مضبوط امیدوار کھل کر سامنے نہیں آیا تاہم سابق چیئرمین پی آئی اے چودھری احمد سعید ‘ اورنگزیب بٹ ‘ نجیب اللہ گورالہ‘عمر مسعود فاروقی سمیت دیگر کے نام گردش کر رہے ہیں جماعت اسلامی نے شرافت کے حوالے سے مثالی شہرت رکھنے والے چودھری انصر دھول کو قومی اسمبلی کی سیٹ پر اپنا امیدوار نامزد کیا ہے تحریک انصاف کی طرف سے سابق ایم اے چودھری مبشر حسین ‘ الحاج افضل گوندل ‘ اور عثمان منظور دھدرا کے درمیان ٹکٹ کیلئے تگ ودو جاری ہے چودھری مبشر حسین چودھری برادران کے قریبی عزیز ہیں اور مسلم لیگ ن کی گجرات میں نمائندگی کر چکے ہیں کچھ عرصہ قبل تحریک انصاف میں شامل ہوئے PP110سے چودھری مونس الہی ق لیگ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑینگے وہ اس سے قبل ماضی میں اس سیٹ پر کامیابی حاصل کر چکے ہیں پیپلز پارٹی کی طرف سے چودھری اسلم لنگے اور امجد بٹ نے ٹکٹ کیلئے درخواست دے رکھی ہے مسلم لیگ ن کی طرف سے چودھری رضا علی متہ ‘ عمران اللہ گورالہ سمیت دیگر ٹکٹ کے منتظر ہیں جماعت اسلامی نے چودھری سجاد وڑائچ کو اس صوبائی حلقے میں امیدوار نامزد کیا ہے‘تحریک انصاف کی طرف سے سماں خاندان کے سربراہ چودھری افتخار احمد سماں مضبوط امیدوار ہیں جو عوامی خدمت اور شرافت کی سیاست میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اشرف چڈھر اور چودھری قیصر نے بھی PTI کی ٹکٹ کیلئے درخواست دے رکھی ہے PP111 سے سابق وزیر تعلیم میاں عمران مسعود ‘ جو متعدد مرتبہ اس حلقے سے قسمت آزمائی کر چکے ہیں ق لیگ کی طرف سے امیدوار ہیں پیپلز پارٹی کی طرف سے زاہد حسین سلیمی اور سابق صدر گجرات بار طاہر محمود صادق ایڈووکیٹ نے الیکشن لڑنیکا اعلان کر رکھا ہے زاہد حسین سلیمی کو پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر چودھری احمد مختار کی بھر پور حمایت حاصل ہے مسلم لیگ ن کی طرف سے ممبر صوبائی اسمبلی حاجی عمران ظفر‘ اور الحاج امجد فاروق الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں حاجی عمران ظفراس حلقہ سے جعلی ڈگری پر نااہل ہونیوالے سابق ایم پی حاجی ناصر محمود کے بعد ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرچکے ہیںجبکہ امجد فاروق معروف کاروباری شخصیت ہیںجماعت اسلامی کی طرف سے ڈاکٹر طارق سلیم کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے جو اس سے قبل بھی اس حلقے سے انتخاب لڑ چکے ہیں سماجی اور مذہبی حوالے سے انہیں خاصی شہرت حاصل ہے جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے چودھری سلیم سرور جوڑا ‘ آصف حسین سلیمی ‘ مہر امتیا زاحمد ‘ اور فیضان خالد بٹ سمیت دیگر امیدوار میدان میں ہیں ‘ سلیم سرور جوڑا اور مہر امتیاز نے تحریک انصاف کو گجرات میں فعال کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ‘سیاسی جماعتوں کی طرف سے امیدواروں کا حتمی اعلان ہونے کے بعد مقابلے کی پوزیشن مزید واضح ہو گی اس حلقے سے کامیابی کسی کو طشتری میں رکھ کر نہیں ملے گی منزل پانے کیلئے عوام کا اعتماد جیتنے اور ان کے زخمو ں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے ۔

الیکشن

مزید :

الیکشن ۲۰۱۳ -