ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا افتتاح

ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا افتتاح
ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا افتتاح

  

غم اور خوشی کا ہر واقعہ،وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ بن جاتا ہے لیکن تاریخ بنانے کے ذمہ دار جو افراد ہوتے ہیں ان کو تاریخ فراموش نہیں کرتی اور ان کی اچھی یا بُری صفات کو یاد کرتی اور کراتی رہتی ہے۔مقصد شائد تاریخ کا اس سے یہ ہو کہ عہدِ موجود میں تاریخ ساز لوگوں کو کچھ فیڈ بیک مہیا کرسکے اور اس طرح بنی نوع انسان کی بھلائی کا کوئی بہتر دروازہ کھل سکے!

کسی بھی معاشرے میں تاریخ ساز لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی، صرف چند لوگ ہوتے ہیں جو انسانی انبوہوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جدید سیاسی اصطلاح میں ان کو عوام کہا جاتا ہے۔یہ عوام تاریخ سازی کے عمل کے صرف ناظر ہوتے ہیں۔ان کا تعلق اگر ٹریک ٹو ڈپلومیسی سے بھی ہوتو پھر بھی ان کے نام منظر عام پر نہیں آتے۔میری عمر کے لوگ جنہوں نے گزشتہ نصف صدی کی تاریخ بحشمِ خودبنتے دیکھی ہے،وہ ناظرین کے زمرے میں ہی آئیں گے۔لیکن وہ تاریخ ساز لوگ جو مسندِ اقتدار پر فائز ہوتے ہیں ان پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ انہیں خود ناظر بننا پڑتا ہے۔پاکستان کے جنرل پرویز مشرف بھی دس سال تک تاریخ سازی کرتے رہے اور اب پانچ سال سے اپنے کردار کے پلے بیک کے اثرات کو دیکھ اور سن رہے ہیں۔

گیارہ ستمبر2001ءکو جب امریکہ کے جڑواں ٹاوروں پر حملہ ہوا تو مشرف صاحب کو اقتدار میں آئے پورے دو برس ہوچکے تھے اور جب افغانستان پر امریکہ نے حملہ کیا تو جنرل صاحب کے پاس سول اور ملٹری دونوں قیادتیں تھیں۔اس حملے میں امریکہ کا ساتھ دینا ایک متنازع فیصلہ تھا،جس پر ان کے اور ان کے مخالفین کے ارشادات سن سن کر اگرچہ لوگوں کے کان پک گئے ہیں، مگر اب بھی کسی نہ کسی طرف سے اس تنازع کا ذکر ایک بار پھر سن جانے کو مل جاتا ہے۔

دو تین روز ہوئے پاکستان اور ایران کے صدور نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کو پاکستانی علاقے میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔مغربی دنیا نے تو اس کی مخالفت کرنی ہی کرنی تھی اور امریکہ کا رول اس میں کلیدی ہونا ہی ہونا تھا، لیکن جب ہم مسلم ممالک کو یہی گردان کرتے دیکھتے ہیں تو سخت حیرت بھی ہوتی ہے اور مایوسی بھی کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کے یہ رکھوالے اور قرآن حکیم کی زبان بولنے والے ،اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دشمنوں کی طرف داری کیوں کررہے ہیں؟ایک طویل عرصے سے پاکستان انرجی کی قلت کا شکار ہے۔اس ایک قلت نے پاکستان کی اقتصادی بنیادیں تک ہلا کر رکھ دی ہیں، مگر ہمارے مسلمان عرب بھائیوں کو دیکھیں کہ وہ کیا کررہے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی نئی حکومت تشکیل ہوتی ہے وہ خواہ سویلین ہو یا ملٹری ، اس کے قائدین فوراً سب سے پہلے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے جاتے ہیں،لیکن ساتھ ہی سعودی حکمرانوں کو اپنی تابعداری اور بھرپورسپورٹ کا اعادہ کرنے کے لئے بھی حضورِ شاہ میں حاضری مقصود ہوتی ہے۔ ڈپلومیسی کی اپنی مصلحتیں ہوں گی، لیکن پاکستانی عوام کی مشکلات جب قابو سے باہر ہونے لگ جائیں اور خدامِ حرمین الشریفین کی طرف سے بھی تیراندازی شروع ہوجائے تو آپ اسے کیا نام دیں گے؟

یادش بخیر، جنرل مشرف نے بھی اقتدار پر قابض ہونے کے بعد یہی کیا تھا۔عین ممکن ہے کہ چونکہ امریکہ اور باقی سارا مغرب، عربوں کا اصل تاجدار ہے تو مشرف صاحب نے ان عربوں سے اشیرباد لے کر ہی وہ فیصلہ کیا جس کو پاکستان کی اکثریت نے مسترد کردیا تھا۔لیکن آج وہی جنرل مشرف جب تاریخ سازی کی مسند سے الگ ہو چکے ہیں تو حالات کا عقبی شست (Hind Sight)سے جائزہ لے کر امریکہ کو کوسنے لگے ہیں.... مَیں نے کہیں آج ان کا ایک آرٹیکل پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ امریکہ کو نہیں، وہ خود اپنے آپ کو کوس رہے تھے۔

انہوں نے اس آرٹیکل مں افغان وار میں امریکہ کی تین غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ امریکہ کی سٹرٹیجک اور عاقبت نااندیشانہ غلطیاں اور کج فہمیاں تھیں، جو اس طرح تھیں:

1۔ پہلی غلطی یہ تھی کہ 1989ءمیں جب سوویت یونین، افغانستان سے نکل گیا تھا تو امریکہ نے بھی نہ صرف افغانستان کے مجاہدین/ طالبان سے پیٹھ پھیرلی تھی، بلکہ پاکستان سے بھی دور دور رہنے لگا تھا....افغانوں سے یوں ”بے دید“ ہوجانا اور آنکھیں پھیرلینا اور پاکستانیوں سے کھنچا کھنچا رہنا اگرچہ بہت بڑی غلطی تھی، لیکن امریکیوں نے الٹا پاکستان کے دشمن نمبرایک(بھارت) سے پیار کی پینگیں بڑھانا شروع کردیں اور اسے اپنا سٹرٹیجک اتحادی بنا لیا۔

2۔دوسری بڑی غلطی یہ کی کہ طالبان کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی۔ان کو پہلے اقتدار سے الگ کیا، پھر حامد کرزئی کو حکومت دلوائی، پھر شمالی اتحاد والوں کو اس حکومت میں شامل کیا اور بھارت کے لئے افغانستان کے دروازے کھول دیئے۔پھر بھی امریکہ کو کامیابی نہ ملی اور اب وہ جلد رختِ سفر باندھنے والا ہے۔

3۔تیسری بڑی غلطی یہ تھی کہ امریکہ اپنی فوجی فتح کو سیاسی فتح میں تبدیل نہ کر سکا۔ اس نے کابل میں ایسے لوگوں کی حکومت بنائی جن کو افغان عوام کی اکثریت نا پسند کرتی تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ پشتونوں کی اکثریت امریکہ اور کرزئی کی مخالف ہوگئی اور یوں 2005ءکے آتے آتے وہی طالبان جو 1980ءکے عشرے میں امریکہ اور پاکستان کے ساتھ تھے،وہ امریکہ اور پاکستان کے دشمن ہوگئے!

ان تین غلطیوں کا ذکر کرنے کے بعد جنرل صاحب نے کہا کہ چاہیے تو یہ تھا کہ پشتونوں کی حمائت حاصل کی جاتی اور ان کی مدد سے طالبان کو شکست دی جاتی۔یعنی پشتونوں کو کابل میں لایا جاتا۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ میں نے مغربی دنیا کو لاکھ سمجھایا کہ تمام طالبان اگرچہ پشتون ہیں، لیکن تمام پشتون طالبان نہیں ہیں!.... مگروہ پھر بھی نہ سمجھے اور پنجابی محاورے کے مطابق اب اپنی دُم کو ”پسِ پشت“ ڈال واپس جا رہے ہیں۔

ان کا یہ استدلال اگر کسی حوالے سے درست بھی مان لیا جائے تو سوال اٹھے گا کہ کیا خود ان کی رخصتی میں امریکہ کا ہاتھ تھا؟ اور کیا ان کے چلے جانے کے بعد پاکستان میں جو سویلین حکومت بنی ،کیا وہ امریکہ کی حامی تھی؟....کیا امریکہ کو بھی بعد میں جا کر سمجھ آئی کہ زرداری سے مشرف بہتر تھے؟

ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت نے جاتے جاتے دو ایسے کام کردیئے ہیں جو بظاہر اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں زرداری صاحب سویلین ہو کر بھی کمانڈو جنرل صاحب سے زیادہ بہادر نکلے !

امریکی ایڈمنسٹریشن نے پاکستان کو کیا کیا دھمکیاں نہیں دیں۔پابندیاں لگانے کا ”مژدہ“ ایک بار نہیں کئی بار دہرایا، بلکہ ہیلری کلنٹن نے تو جاتے جاتے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگر پاکستان نے ایران کے ساتھ گیس کا معاہدہ کیا تو فوراًپابندیاں لگا دی جائیں گی۔ان کے جانے کے بعد اوباما کی دوسری ٹرم میں جو نئی ٹیم آئی، اس میں جان کیری نے ابھی کھل کر تو پابندیوں والی گردان نہیں دہرائی، لیکن شائد 2014ءتک امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پڑے اور وہ اپنا آخری سپاہی افغانستان سے نکالنے کے بعد، چین کو گوادر اور ایرانی گیس کو پاکستان لانے کی سزا دینے کا آغاز کرے....کہا جارہا ہے کہ یہ پائپ لائن 2015ءتک مکمل ہو جائے گی اور ایران،پاکستانی علاقے میں پائپ بچھانے کے لئے 50کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

دوسری طرف پاکستان نے بھی بہت سوچ سمجھ کر وقت کا چناﺅ کیا ہے۔آنے والے انتخابات میں اگر پی پی پی حکومت نہیں بنا سکتی تو شائد پی ٹی آئی اس پوزیشن میں ہو کہ حکومت تشکیل دے۔تحریک انصاف کی قیادت کی امریکہ مخالف پالیسی تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔اگرنون لیگ برسراقتدار آتی ہے تو اسے بھی امریکہ سے دو دو ہاتھ کرنے پڑیں گے۔خواہ جدہ والے کتنے ہی ناراض کیوں نہ ہو جائیں۔

آج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی طور پر جن مشکلات کا سامنا ہے، گزشتہ 67سالہ پاکستانی تاریخ میں نہیں تھا۔اس کے باوجود بھی اگر زرداری صاحب (یعنی پی پی پی) نے امریکہ کے سامنے کمر بہت باندھ لی ہے اور پاکستان کے سٹریٹیجک مفادات کے لئے امریکہ کو اس کے اپنے ”دیرینہ سکوں“ ہی میں جواب دیا ہے تو.... چشمِ ماروشن، دلِ ماشاد!   ٭

مزید :

کالم -