”اساں قیدی تخت لہور دے“ (1)

”اساں قیدی تخت لہور دے“ (1)
”اساں قیدی تخت لہور دے“ (1)

  

کہانی کہیں سے بھی شروع کی جائے، سرائیکی صوبے کے قیام کے حوالے سے سید یوسف رضا گیلانی کا کردار کہیں بھی نظر نہیں آتا، البتہ سرائیکی صوبے کے حوالے سے جن لوگوں کے کردار مشکوک ہیں، سید یوسف رضا گیلانی ان لوگوں کے ”اگوان“ ضرور ہو سکتے ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے سیاسی کردار کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ان کے والد محترم سید مخدوم عملدار حسین گیلانی مرحوم جنرل ایوب خان کے گورنر نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کے وزیر تھے اور ان کے پاس صحت کا محکمہ تھا۔ بڑے گیلانی نواب کالا باغ اور جنرل ایوب خان کے بہت قریب تھے۔ آمر کے وہ سپاہی تھے، مگر خود کو مسلم لیگی بھی کہلواتے تھے۔ بہت بعد میں سید یوسف رضا گیلانی جنرل ضیا الحق کے بلدیاتی انتخابات کے ذریعے میدان سیاست میں آئے اور پھر مسلم لیگی بن گئے۔ ان کی سیاست بھی جنرل ضیا الحق کے زیر سایہ پروان چڑھی اور یہ محمد خان جونیجو کے وزیر بن گئے، مگر کچھ عرصے بعد کرپشن کے الزام کی وجہ سے فارغ بھی کر دیئے گئے۔ ان دنوں انہیں کرپشن کرنے اور خود کو پاک صاف ثابت کرنے کا فن نہیں آتا تھا، سو پکڑے گئے، مگر بطور مسلم لیگی رہنما جنرل ضیا الحق کو ”قابو“ کر چکے تھے۔

 جن دنوں پی پی پی کے بانی بھٹو مرحوم کو پھانسی کی سزا ہوئی، بھٹو مرحوم کی پھانسی پر جن لوگوں نے خصوصی طور پر ”خدا کا شکر“ ادا کیا، ان میں سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے خاندان والے بہت نمایاں تھے۔ ان کے ملتان والے آستانے پر کئی روز تک شکرانے کے نوافل ادا کئے جاتے رہے اور خوشی کے چاول بھی بانٹے جاتے رہے۔ شکرانے کے نوافل کی خبریں بذریعہ اخبارات اسلام آباد تک پہنچائی گئیں تو چاولوں کی مہک بھی ایوان صدر کے اندر تک محسوس کی جاتی رہی۔ جن دنوں سید یوسف رضا گیلانی اپنے والد محترم سمیت شکرانے کے نوافل اور خوشی کے چاولوں کی خیرات بانٹنے میں مصروف تھے، انہی دنوں سرائیکی علاقوں سے تعلق رکھنے والے شعرائ، گلوکار، ادیب، صحافی اور سرائیکی سیاسی کارکن سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہے تھے، انہی دنوں عظیم شاعر اور سرائیکی کارکن عاشق بزدار کی نظم....”اساں قیدی تخت لہور دے “.... عوامی حلقوں میں گونجنے لگی۔

عاشق بزدار کی یہ نظم جب اُن کے شعری مجموعے کی شکل میں مارکیٹ میں آئی تو جنرل ضیا الحق نے اُن کی کتاب پر پابندی لگاتے ہوئے عاشق بزدار پر ریاستی پابندیاں اور سختیاں بڑھا دیں۔ سید یوسف رضا گیلانی اِن دنوں مسلم لیگی رہنما کے طور پر اس سرائیکی شاعر کے ساتھ ہونے والی سختیوں کو جائزسمجھتے ہوئے ، سرائیکی صوبے کے قیام کو آئین پاکستان کے خلاف سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ سرائیکی صوبے کا قیام پاکستان توڑنے کی سازش ہے۔ ان دنوں سرائیکی زبان کے دانشور اور ادیب سیٹھ عبدالرحمن اور وکیل ریاض ہاشمی بہاولپور صوبے کی بحالی کی تحریک چلا رہے تھے، مگر زمان جعفری مرحوم، قاری نور الحق مرحوم اور تاج محمد لنگاہ، ارشاد امین، ملک فاروق اور ظہور احمد دھریجہ جیسے نوجوان سرائیکیوں کی اپیل پر وہ بہاولپور صوبے کی تحریک کو ختم کر کے سرائیکی صوبے کی تحریک میں شامل ہو گئے، یوں سرائیکی صوبے کی حمایت میں چلنے والی تحریکوں نے سیاسی تحریک کی شکل اختیار کر لی، چونکہ اب سرائیکیوں کے اندر اتفاق کی فضا بن گئی تھی، اس لئے مختلف لوگوں نے اپنے اپنے حصے کا کام کرنا شروع کر دیا۔

 صحافی ظہور احمد دہریجہ نے خان پور سے ایک سرائیکی اخبار”جھوک“ شائع کیا، جو اب ملتان سے بھی شائع ہوتا ہے اور سرائیکی زبان کا واحد اور مکمل ترجمان ہے۔ ادھر ارشاد امین اور ڈاکٹر طاہر تونسوی نے صادق آباد سے میانوالی تک شاعروں اور ادیبوں سے رابطے کئے۔ ارشاد امین میانوالی آئے اور انہوں نے یہاں سرائیکی زبان کے حوالے سے کام کرنے کی تحریک چلوائی۔ ارشاد امین کی تحریک پر روشن ضمیر ملک مرحوم اور منصور آفاق نے ایک ادبی رسالہ ”پرچول“ کے نام سے شائع کیا۔ پروفیسر سلیم احسن نے اپنے شعری مجموعے ”جھکڑ جھرنے“ کو سرائیکی قرار دیا، تو حکومت نے انہیں خواجہ فرید ادبی ایوارڈ بھی دیا۔ سلیم شہزاد، علامہ سید نصیر شاہ مرحوم، فارروق روکھڑی، پروفیسر منور علی ملک، پروفیسر سلیم احسن اور دیگر شاعروں نے سرائیکی مشاعرے کرانے شروع کر دیئے اور مختلف سرائیکی ادبی تنظیمیں بھی قائم کیں، جن میں سرائیکی ادبی سنگت، سرائیکی دا چانن نمایاں تھیں۔

 تنویر حسین ملک ، عطاءاللہ شاہین اور روشن ضمیر ملک نے اخبارات کے ذریعے سرائیکی صوبے اور زبان کے حوالے سے بہت کام کیا۔ خود مَیں نے لاہور سے ایک اخبار”سہاری“ کے نام سے شروع کیا جو اُردو کے ساتھ ساتھ سرائیکی میں بھی تھا۔ انہی دنوں پنجابی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام پنجابی ادب کی اشاعت کا آغاز ہوا۔ پنجابی ادب کے مدیر آصف خان مرحوم نے سرائیکی شاعروں اور ادیبوں سے بھی رابطے کئے۔ ارشاد امین، محمد منصور آفاق اور راقم الحروف ہم تینوں نے آصف خان کے ساتھ ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ سرائیکی شاعروں اور ادیبوں کی تخلیقات اس شرط پر یائع کریں گے کہ آپ ان کی زبان کو سرائیکی تسلیم کریں۔ آصف خان بہت دھیمے مزاج کے آدمی تھے۔ انہوں نے کچھ وقت مانگا، بہرحال تین چار روز کے بحث و مباحثے کے بعد یہ بات طے ہوئی کہ پنجابی ادب سرائیکی اضلاع کے مختلف ”اضلاعی نمبر“ شائع کرے گا، مگر خریدنے کی ذمہ داری بھی آپ لوگوں پر ہو گی۔ معاملات طے ہونے کے بعد محمد منصور آفاق کو اعزازی مدیر بنایا گیا اور سب سے پہلے پنجابی ادب کا ”میانوالی نمبر“ شائع کیا گیا۔ ان دنوں سرائیکی اور پنجابی دانشوروں کے درمیان زبانی اور تحریری جنگ عروج پر تھی، مگر دونوں اطراف کے ٹھنڈے دل و دماغ والے شاعر، ادیب اور صحافی معاملات کو بگڑنے سے بچانے کی بھی کوشش کر رہے تھے۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی، پنجابی ادیبوں کے ساتھ حروف تہجی کے ذریعے سرائیکی زبان کو الگ زبان ثابت کرنے میں مصروف تھے تو ارشاد امین سرائیکی علاقوں کی محرومیوں کا ذکر کرتے ہوئے مخالفین کو قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے، مگر جنگ عروج پر تھی۔ ادھر لاہور سے ”جاگ پنجابی جاگ“ کے نعرے لگائے جا رہے تو ادھر سے ”جاگ سرائیکی جاگ“ بھی سنائی دے رہا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کے معروف صحافی ارشاد احمد حقانی مرحوم، کالم نگار منو بھائی اور عباس اطہر (اللہ انہیں صحت دے) اپنے کالموں میں سرائیکی علاقے کے لوگوں کے مسائل کو بھی اٹھا رہے تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ وہاں کے لوگوں کے مسائل حل کئے جائیں۔

ادھر پنجابی ادب کا ”میانوالی نمبر“ بھی چھپ گیا۔ سرائیکی زبان کے حوالے سے اس نمبر کی بڑی اہمیت تھی، سو اس کی تقریب رونمائی، لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں ہوئی۔ تقریب کی صدارت احمد ندیم قاسمی مرحوم نے کی، مہمان خصوصی مولانا عبدالستار خان نیازی مرحوم اور ڈاکٹر شیر افگن خان مرحوم تھے، مقررین میں منو بھائی، اشفاق احمد مرحوم، امجد اسلام امجد، عطاءالحق قاسمی تھے، جبکہ اس تقریب میں لاہور کے تمام بڑے بڑے دانشور، شاعر، کالم نگار اور صحافی موجود تھے۔ مرحوم اشفاق احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”مَیں نے پنجابی ادب کے ”میانوالی نمبر“ کو پڑھا اور مجھے یوں لگا ہے کہ اگر سرائیکیوں کے حقوق کی ادائیگی میں تاخیر کی گئی ،تو پھر وہ بندوق اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کم از کم مَیں نے ان کی تحریروں سے یہی اندازہ لگایا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے بھی سرائیکی زبان و ثقافت کے حوالے سے سرائیکیوں کے موقف کی تائید کی۔ ماحول بہت خوشگوار تھا اور پہلی بار سرائیکی اور پنجابی ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر ایک دوسرے کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، جو ایک اچھی بات ہے ،مگر!  (جاری ہے)  ٭

 میرے دوست ڈاکٹر شیرافگن مرحوم کی تقریر نے پورے ماحول کو گرما دیا۔ انہوں نے انتہائی جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا:مَیں جب اچھرہ نہر کے اردگرد جلتے ہوئے قمقمے اور مال روڈ پر ناچتے ہوئے فوارے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے علاقے کی محرومیوں پر افسوس ہوتا ہے اور افسوس کے ان لمحات میں میرا دل کرتا ہے کہ مَیں لاہور پر بم گرا دوں۔ بس پھر کیا تھا، پورے ہال پر سکوت چھا گیا، لاہور کے دانشوروں اور شاعروں نے ڈاکٹر شیرافگن کے اس بیان پر بہت افسوس کیا۔ خود ہم بہت پریشان ہوئے کہ اب کیا ہو گا؟ مگر تقریب میں کوئی بدمزگی پیدا نہ ہوئی۔ تقریب کے اختتام پر ہم نے ڈاکٹر شیرافگن پر چڑھائی کر دی کہ آپ نے بہت زیادتی کی، ڈاکٹر شیر افگن نے بھی تسلیم کیا کہ انہیں ایسا نہیں کہنا چاہئے تھا۔ ہم نے کوشش کہ وہ اپنے بیان کی تردید کر دیں، مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا غلط یا ٹھیک، بات کی ہے تو پھر اب تردید کیسی ؟ اس بیان کے بعد ڈاکٹر شیر افگن اسلام آباد روانہ ہو گئے، کیونکہ قومی اسمبلی کے سپیکر سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر رکھا تھا۔

 پھر بعد کے حالات میں سید یوسف رضا گیلانی ایک بار پھر کرپشن کے الزام میں جیل چلے گئے، صاحب کتاب بننے کا مشورہ انہیں ہمارے دوست معروف کالم نگار مظہربرلاس نے دیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کتاب کے مشورے کو قبول کر لیا، مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ ”بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے“.... سو مظہر برلاس کو بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنی پڑی.... کتاب کے سلسلے میں مظہر برلاس کو کن کن ”کھجل خواریوں“ سے گزرنا پڑا ،اب اس کے لئے ایک علیحدہ کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ حالات نے پھر کروٹ لی اور سید یوسف رضا گیلانی ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ وہ چار سال سے زائد عرصے تک وزیراعظم رہے، اس پورے عرصے میں انہیں سرائیکی صوبے کا کوئی خیال نہ آیا۔ البتہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ”دولت“ کمانے کے خیال سے کبھی غافل نہ ہوئے اور جب دیکھا کہ وقت کم اور دولت کے ”ذخائر“ بہت زیادہ ہیں تو پھر پورے خاندان سمیت دولت سمیٹنے میں لگ گئے ۔ ادھر عدالت میں ”خط“ کا معاملہ زیر سماعت تھا، تو ادھر ایوان صدر میں ”کرپشن“ کے قصے بھی پہنچ رہے تھے۔

 سو صدر آصف علی زرداری نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی مہم شروع کر دی۔ انہوں نے سید یوسف رضا گیلانی سے جان چھڑانے کے لئے پہلے تو انہیں کہا کہ وہ عدالت کے ساتھ تاخیر کا کھیل کھیلیں اور جب دیکھا کہ اب سید یوسف رضا گیلانی سے جان چھڑانے کا وقت آ گیا ہے، تو پھر حکم دیا گیا کہ تم کسی بھی قیمت پر خط نہیں لکھو گے۔ پھر عدالت نے سید یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دے دیا۔ سید یوسف رضا گیلانی نااہل ہونے کے بعد ایوان صدر کے ”کوارٹر“ میں پہنچ گئے، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ نئے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو خط لکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے ، تو انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو آنکھیں دکھانی شروع کر دیں، جواباً صدر آصف علی زرداری نے انہیں کرپشن کی فائلیں اور ایف آئی اے کے ذریعے اُن کے بیٹے کو اٹھوانے جیسے اقدامات اٹھائے تو سید یوسف رضا گیلانی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔

اب فیصلہ یہ کیا کہ اپنی نااہلی کی اصلی وجہ کیسے چھپائی جائے؟ سو انہوں نے اپنے بیانات کے کے ذریعے یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ انہیں سرائیکی صوبے کے قیام کے مطالبے پر سزا دی گئی ہے۔ وہ اچانک سرائیکی صوبے کے ”اگوان“ بن کے سامنے آئے، مگر ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ وہ جب جب اقتدار میں آئے، انہیں سرائیکی صوبے کا خیال کیوں نہیں آیا اور پھر سرائیکی صوبے اور سپریم کورٹ کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے تو خط کے معاملے میں آپ کو نااہل قرار دیا ہے، وہاں تو آپ نے سرائیکی صوبے کے بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی، آپ تو وہاں قانونی نکات پر بات کرتے تھے، اور.... اگر کی بات درست مان لی جائے کہ سرائیکی صوبے کے حوالے سے آپ پر دباﺅ ہے تو پھر آپ سپریم کورٹ حاضری کے وقت ”اشارتاً“ ہی کوئی بات کر دیتے، جس سے سرائیکی قوم کو اندازہ ہو جاتا کہ سرائیکی وزیراعظم کو سرائیکی صوبے کی حمایت کی سزا دی جا رہی ہے، مگر اس کے لئے سچائی اور دانش کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے قتل کے کیس میں عدالت میں ایک بار سرائیکی قوم کو متوجہ کرنے کے لئے سرائیکی شعر سنائے تھے اور جب ایک جج نے اُن سے پوچھا کہ مسٹر بھٹو آپ کیسے ہیں، تو بھٹو مرحوم نے کہا:

دل تانگ تانگ اے

اللہ جوڑ سانگے

جج نے ایک بار پھر کہا:مسٹر بھٹو، ہم نے آپ سے حال احوال پوچھا ہے، مسٹر بھٹو نے ایک بار پھر خواجہ فرید کی کافی کے اشعار سناتے ہوئے کہا:

کیا حال سناواں دل دا، کوئی محرم راز نہ ملدا

مسٹر بھٹو نے سرائیکیوں کی محبت حاصل کرنے کے لئے خواجہ فرید کے اشعار سنائے، مگر آپ نے تو سرائیکیوں کو کوئی پیغام نہیں دیا، کہ بھائی میرے ”سائیں“ بنو۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا نہ کبھی سرائیکی صوبے کی تحریک کے ساتھ کوئی واسطہ رہا ہے اور نہ اب آپ سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے مخلص ہیں، بلکہ آپ نے تخت اسلام آباد کے اشارے پر سرائیکی قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ تخت لاہور نے تو سرائیکیوں کو ”ایک“ کر دیا تھا۔ میانوالی سے صادق آباد تک تمام لوگ ”سرائیکی صوبے“ کی حمایت کر رہے تھے، مگر آپ نے تخت اسلام آباد کے اشارے پر سرائیکی وسیب کے ٹکڑے کر دیئے ہیں اور یہ ٹکڑے آپ کے ”مشکوک“ کردار کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ آپ کی اس سے بڑی نااہلی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ اب میانوالی کے لوگ ”بہاولپور جنوبی پنجاب“ میں شمولیت کے خلاف عدالت میں چلے گئے ہیں۔

 ڈیرہ اسماعیل خان کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے ”ٹانک“ کے لوگوں کی آواز کوئی نہیں سن رہا۔ بہاولپور والے علیحدہ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ملتان والے اس “عجیب و غریب“ صوبے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، بلکہ گزشتہ دنوں ایک ”دھرنے“ میں پولیس نے ان پر چڑھائی کر دی۔ ایک نوجوان گولی کا نشانہ بن گیا، مگر آپ نے پولیس کے تشدد پر دھرنا دینے والوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا، حتیٰ کہ اس نوجوان جسے شہید کر دیا گیا تھا، کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کی توفیق بھی نہیں ہوئی، آپ کیسے سرائیکی ”اگوان“ ہیں کہ جسے قوم پر ڈھائے جانے والے ظلم کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ سرائیکی قوم آپ سے مطالبہ کرتی ہے کہ آپ سرائیکی صوبے کے معاملے میں نہ پڑیں، نہ آپ کو سرائیکی علاقے کی حدود کا علم ہے، نہ آپ کو چلائی جانے والی سرائیکی تحریکوں کے بارے میں کچھ پتہ ہے۔

 سرائیکی صوبے کے قیام کا معاملہ آپ سرائیکی دانشوروں، شاعروں اور حقیقی سرائیکی سیاسی کارکنوں پر چھوڑ دیں، کیونکہ آپ کی نااہلی کی وجہ سے سرائیکی قوم میں انتشار پیدا ہوا ہے، جس طرح کا سرائیکی صوبہ آپ چاہتے ہیں ،وہ سرائیکی لوگوں کی منشا کے مطابق نہیں ہے۔ سرائیکی صوبہ، میانوالی سے صادق آباد، ادھر ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک کے علاقے پر مشتمل ہے۔ آپ تخت اسلام آباد کے تحت صوبہ بنوانا چاہتے ہیں، مگر سرائیکی لوگ نو کروڑ عوام کا صوبہ بنانا چاہتے ہیں ، پھر اس کا نام بھی ”سرائیکی صوبہ“ چاہتے ہیں۔ یہ ”بہاولپور جنوبی پنجاب“ صوبہ تخت اسلام آباد کی خواہش پر تو بن سکتا ہے، مگر سرائیکی قوم کی جدوجہد کا ثمر نہیں ہو سکتا۔ میرا خیال ہے کہ عاشق بزدار کو ایک نظم ”تخت اسلام آباد“ کے حوالے سے بھی لکھنی چاہئے، کیونکہ تخت اسلام آباد نے ہمیں بذریعہ سید یوسف رضا گیلانی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، جبکہ ”تخت لہور“ نے کم از کم ہمیں ”ایک“ تو کر دیا تھا۔

مزید :

کالم -