اقبال ؒ کو جھوٹا مت کہئے!

اقبال ؒ کو جھوٹا مت کہئے!

  

روزنامہ”پاکستان“ ( 9 جنوری2013ئ) کے کالم ”بادِ شمال“ میں جناب ناصر زیدی نے اقبال اور اٹلی کے مردِ آہن مسولینی (1883ئ۔1995ئ) کی ملاقات پر اظہار خیال کیا ہے اور اس ضمن میں بعض سوانحی مآخذ اور فاضل اصحاب کی آراءسے استفادہ بھی کیا ہے۔ بظاہر اس نزاعی واقعہ کے حوالے سے چند معروضات پیشِ خدمت ہیں:....علامہ اقبالؒ کے احوال و آثار پر اب تک جو تحقیقی کام ہوا ہے، اس کی افادیت مسلمہ ہے۔ اس کے باوجود اقبال کے بعض پہلو ابھی تک تشنہءتحقیق ہیں۔ اقبال کے متخصصین اور محققین نے ان پر خامہ فرسائی تو بہت کی ہے اور اپنے حتمی فیصلے بھی صادر کر دئیے ہیں، لیکن پھر بھی اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ حیاتِ اقبال کے انہی متنازعہ امور میں ان کی مسولینی سے ملاقات بھی شامل ہے۔

اقبالؒ جب گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے انگلستان پہنچے تو وہ اٹلی جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے، جونہی انہیں اپنی پرانی دوست اور وہاں کے طبقہءاشرافیہ کی با رسوخ خاتون بیرونس (پورا نام CONTESSA CARNIVEAL) کی دعوت موصول ہوئی تو انہوں نے روم جانے کے لئے رختِ سفر باندھ لیا۔ یہ خاتون نیپلز سے تعلق رکھتی تھی۔ اقبال کے قیامِ لندن (1905ئ۔ 1908ئ) کے دوران وہ ان کے ملاقاتیوں میں شامل تھی۔ اقبالؒ کے ایک مکتوب بنام عطیہ فیضی (7 اپریل1910ئ) میں اس خاتون کا ذکر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبالؒ سمیت بیشتر سوانح نگاروں کے مطابق اسی اطالوی خاتون نے اقبال کی مسولینی سے ملاقات کرانے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا، لیکن اس کے لئے ابھی تک کوئی مصدقہ ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

اقبالؒ کی اٹلی سے دلچسپی کے جو تاریخی اور ادبی محرکات ہیں، وہ ان کی نظم ”صقلیہ“ اور دانتے کے ”طربیہءخداوندی“ سے عیاں ہیں۔ ثانی الذکر تو ان کی اہم ترین شعری تصنیف ”جاوید نامہ“ کا بنیادی ماخذ ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل کے سیاسی پس منظر میں مسولینی بھی برطانوی نو آبادیاتی نظام کے زیرِ نگیں برصغیر پاک و ہند کے حالات و واقعات سے دلچسپی رکھتا تھا۔ اس کے ذاتی کتب خانے میں ہندوستان پر متعدد کتابیں موجود تھیں اور وہ ان کا بغور مطالعہ کرتا رہتا تھا۔ مزید یہ کہ یہاں قائم کردہ اٹلی کے قونصل خانے اور ان کے بعض سربراہان بڑے فعال تھے۔ گاہے گاہے برصغیر کی معروف علمی، ادبی اور سیاسی شخصیات بھی مسولینی سے ملتی رہتی تھیں۔ اقبالؒ سے پہلے1926ءمیں ٹیگور اور مسولینی کی ملاقات ہو چکی تھی، جو زیادہ سود مند ثابت نہ ہو سکی۔ اقبال کی ملاقات کے دو ہفتے بعد گاندھی روم پہنچے اور مسولینی سے ملے (12 دسمبر1931ئ)۔ ان ملاقاتوں میں ہندوستان کی سیاسی صورت حال اور آزادیءہند کے موضوعات زیر بحث رہے۔

اقبال، ٹیگور اور گاندھی جیسے ادبی اور سیاسی زعماءسے مسولینی کی ملاقات کرانے میں ہندوستان میں قائم کردہ اطالوی قونصل خانوں کے جن اہلکاروں نے اہم کردار ادا کیا، ان میں جینوسکارپا(GINO SCARPA)کا نام خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ موصوف بطور اطالوی قونصل جنرل پہلے بمبئی اور پھر کلکتہ میں تعینات رہا (1923ء، 1929ء، 1933ئ) اس دوران وہ مختلف معروف علمی، ادبی اور سیاسی شخصیات سے ملتا رہتا تھا، جن میں اقبال بھی شامل تھے۔ 1936ءمیں جب ایک اطالوی سفارت کار پیٹرو قوارونی (PIETRO QUARONI) کا کابل میں تقرر ہوا تو وہ ایتھنز میں سکارپا سے ملا اور اسے اقبال کے نام ایک تعارفی خط بھی دیا۔ قوارونی نے لاہور میں اقبال سے ملاقات کے دوران انہیں یہ خط پیش کیا اور اپنی اس ملاقات کی روداد بیس برس بعد (11 فروری1956ئ) میلان کے اخبار CORRIERE DELLA SERA میں شائع کرائی۔ اس ملاقات میں اقبالؒ نے قوارونی سے پوچھا کہ :”کیا آپ کو معلوم ہے کہ مَیں نے مسولینی کے بارے میں ایک نظم لکھی ہے“....ا گلے روز اقبال نے اسے ”بالِ جبریل“ کا ایک نسخہ بھجوایا، جس میں یہ نظم شامل تھی۔

قوارونی رقمطراز ہے کہ میرا خیال ہے کہ یہ نظم اقبال نے اس ملاقات کے بعد لکھی تھی ، جب انہوں نے (روم میں) قصروینس میں مسولینی کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ مَیں یہ تعجب کرتا رہا کہ کیا اس نظم کا مکمل ترجمہ کبھی مسولینی کو بھیجا گیا یا نہیں“؟.... اقبالؒ کے اس اطالوی عقیدت مند سکارپا کے تفصیلی حالاتِ زندگی معلوم نہیں۔ صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ 1896ءمیں پیدا ہوا۔ سالِ وفات نامعلوم، البتہ یہ امر مصدقہ ہے کہ مسولینی سے اقبال اور گاندھی کی ملاقاتوں میں وہ بطور ترجمان موجود تھا۔ کچھ سال قبل مسولینی کے دورِ صدارت کا تمام ریکارڈ عامة الناس کے استفادے کے لئے کھول دیا گیا۔ جس میں اس کے ملاقاتیوں کی کتاب بھی شامل تھی۔ پرائیویٹ سیکرٹری کی اس کتاب کے مطابق اقبال اور مسولینی کی ملاقات27 نومبر 1931ءبروز جمعہ سہ پہر پونے چار بجے ہوئی اور بیس منٹ تک جاری رہی۔ اس اندراج میں اقبال کے نام کے ساتھ GRANDE POETA MUSULMANO کے الفاظ درج ہیں۔ اس ملاقات میں جن موضوعات پر گفتگو ہوئی، اس کی تفصیل اقبال کے سوانح نگاروں نے قلمبند کی ہے اور ان کا اصل ماخذ اقبال ہی ہے۔ انہوں نے غلام رسول مہر جیسے قریبی احباب کو جو کچھ بتایا، کم و بیش اب تک وہی لکھا جا رہا ہے۔ مترجم سکارپا نے کہیں اس ملاقات کا ذکر نہیں کیا۔

اطالوی اقبال شناسوں میں الکساندرو بوسانی(1988ئ) سرفہرست ہیں، لیکن ان کے علاوہ اٹلی کے جس اسکالر نے اقبال، بالخصوص ان کی بعض منظومات کے تراجم اور اٹلی سے ان کے ذہنی روابط کو زندگی بھر موضوع بنائے رکھا، وہ میلان کے ویطو سلیئر نو (1934ء۔ 2013ئ) تھے۔ جو چند ہفتے قبل وفات پا گئے۔ (23 فروری) جو 1960ءکی دہائی میں اٹلی کے سفارت خانہ (کراچی) میں کلچرل اتاشی متعین ہوئے۔ یہیں اردو سیکھی۔ ان کی علمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ستارئہ قائداعظم سے نوازا گیا۔ (2010ئ)۔ انہوں نے لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد کی علمی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ شمل کی وفات(2003ئ) کے بعد انہیں اقبال فاو¿نڈیشن یورپ کا سربراہ منتخب کیا گیا(2007ئ)۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری (2011ئ) میں ویطو نے اقبال اور مسولینی کی ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ قبل ازیں وہ اسی موضوع پر الگ سے مقالات بھی قلمبند کر چکے ہیں۔ تفصیل کے لئے راقم کی انگریزی کتاب ” اقبال.... نئی جہات“ (2003ئ) ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اپنی ان تحریروں (1997ئ۔ 2003ئ) میں اقبالؒ کے دورئہ روم کے جو شواہد پیش کئے ہیں، ان کی روشنی میں اقبالؒ اور مسولینی کی ملاقات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ٭

مزید :

کالم -